Posted on ۳۰ اپریل ۲۰۱۱ by editor
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سڑکوں کی بندش اور مغویوں کی بازیابی کےلیے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔جمعہ کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک مظاہرے میں مظاہرین نے شاہراہوں کو محفوظ بنانے کےلیے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرے کی قیادت کرم ایجنسی سے رکنِ قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے کی جس میں علاقے کے نوجوانوں، عمائدین اور طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشاہیرِ ملت نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرم ایجنسی میں شاہراہوں کو محفوظ بنانے کےلیے فوجی اہلکاروں کو تعینات کی جائے۔
کرم ایجنسی کی شعیہ سنی قبائلی امن جرگہ نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں ٹل پارہ چنار شاہراہ کھولنے اور مغویوں کی فوری بازیابی پر اتفاق کرلیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بگن کے علاقے سے اغواء ہونے والے مغویوں کو بھی فوری طورپر بازیاب کرایا جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن قبیلوں نے مری امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
واضح رہے کہ کرم ایجنسی کے نوجوان اور طوری قبیلے کے افراد پچھلے ایک ہفتہ سے اسلام آباد میں کرم ایجنسی کی سڑکوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔اس سے چند ہفتے قبل کرم ایجنسی کے علاقے بگن میں مسل
ح افراد کی جانب سے دو مسافر گاڑیوں پر حملے کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
مسلح افراد نے مسافر گاڑیوں میں پارہ چنار جانے والے پینتیس کے قریب مسافروں کو بھی اغوا کر لیا تھا تاہم بعد میں ان میں سے چند خواتین اور بچوں کو آزاد کردیا گیا تھا۔
اطلاعات کیمطابق کچھ دن قبل ان مغویوں میں سے چند افراد کی لاشیں بھی ملی تھیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے مغویوں کی بازیابی کےلیے کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔
Posted on ۳۰ اپریل ۲۰۱۱ by editor
طالبان آئندہ مہینوں میں طاقت میں اضافے اور اتحادی وافغان افواج کے قبضے والے علاقے دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں،امریکہ
واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستانی علاقے میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے ملنے والی مدد اتحادی فوج کی کارروائیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بات محکمۂ دفاع کی جانب سے افغان جنگ کے بارے میں کانگریس میں
پیش کی گئی ششماہی جائزہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقوں میں امریکی فوج کی کارروائیوں سے طالبان مزاحمت کو دھچکا تو پہنچا ہے لیکن مجموعی طور پر نہ صرف تشدد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔
رپورٹ میں افغان محاذ پر اتحادی افواج کو درپیش مسائل اور مشکلات ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی پاکستان کی سرحدی علاقوں تک آسان رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہاں موجود محفوظ ٹھکانے افغان طالبان کی بقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں افغان محاذ پر اتحادی افواج کو درپیش مسائل اور مشکلات ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی پاکستان کی سرحدی علاقوں تک آسان رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہاں موجود محفوظ ٹھکانے افغان طالبان کی بقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پینٹاگون نے افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کو کمزور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان آنے والے مہینوں میں اپنی طاقت میں اضافے اور اتحادی اور افغان افواج کے قبضے میں جانے والے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکتے ہیں اور یہ علاقے میں لڑائی کی شدت میں اضافے کی وجہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغانستان میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں اضافے کی وجہ نسبتاً کم شدید موسمِ سرما، عالمی افواج کی موجودگی میں اضافے اور طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف اتحادی افواج کی جارحانہ کارروائیوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔
رپورٹ میں پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں درپیش سیاسی چیلنجز اور بہتر طرزِ حکومت کی جانب سست پیش قدمی سے بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج کو سونپے جانے کا مرحلہ وار عمل رواں سال شروع ہوگا اور تین برس میں یہ عمل پایۂ تکمیل تک پہنچےگا جبکہ امریکی صدر براک اوباما کے اعلان کے مطابق امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کا عمل بھی رواں برس جولائی سے شروع ہو جائے گا۔
Posted on ۳۰ اپریل ۲۰۱۱ by editor
سنی امام کے گھر میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سنی عالم دین، اسکی بیوی اور 8سالہ بیٹی جابحق ہوگئی۔
بغداد (نیوزڈیسک) عراق کے وسطی علاقے دیالہ میں مسجد پر خودکش حملے کے بعد مختلف
واقعات میں 12 افراد کو قتل کیا گیا پولیس کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسی علاقے میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مسجد القائدہ کے نظریات کے خلاف تبلیغ کا مرکز تھی۔عراق میں اہلنست کی بڑی تعداد مقدس مزارات کا احترام کرتی ہے جبکہ القائدہ مزارات پر خودکش حملے کرتی ہے۔ خیال رہے مسجد پر خودکش حملے میں 10/افراد مارے گئے۔ عراقی حکام کے مطابق جمعہ کو روز دہشت گردوں نے القائدہ کی سرگرمیوں کیخلاف تبلیغ کرنے والے سنی امام کے گھر میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سنی عالم دین، اسکی بیوی اور 8سالہ بیٹی جابحق ہوگئی۔ دوسرے واقعے میں القائدہ کے دہشت گردوں نے ایک اور گھر میں گھس کہ ایک ہی خاندان کے تین افراد کو قتل کردیا،حکام کیمطابق تینوں بھائی القائدہ کیخلاف لڑائی میں شامل تھے۔
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
کیش سےعمان تک سمندر کےاندردوسوکلومیٹرطویل گیس پائپ لائن بچھائي جائے گی جس سےعلاقائی ملکوں کو گيس کی برآمد ممکن ہو جائے گی۔
تہران (نیوزڈیسک) اسلامی جمہوری ایران کی آئل انجینئرنگ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر
ناجی سعدونی نے کہا ہے کہ ایران کے جزیرۂ کیش کی گیس فیلڈ میں ستر ہزار ٹریلین مکعب فٹ سے زائد ٹی سی ایف گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ایران کی وزارت پٹرولیم کی ویب سائٹ شانا کی رپورٹ کے مطابق ناجی سعدونی نے اس سلسلے میں کہا کہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیش گیس فیلڈ میں گیس کے ذخائر ابتدائی اندازوں کی نسبت دوگنا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گیس فیلڈ میں فروری دو ہزار دس میں پہلے کنویں کی کھدائي کا کام شروع کیا گيا اور عنقریب پہلے فیز میں مزید کنویں کھودیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کیش سے عمان تک سمندر کے اندر دو سو کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائي جائے گی جس سے اس علاقے کے ممالک کو گيس کی برآمد ممکن ہو جائے گی۔
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
سی آئی اے کے نئے چیف پٹریس پاکستان پرواضح کرچکے ہیں کہ ڈرون حملے کم نہیں ہونگے جبکہ پاکستان ڈرون حملے بند کرانا چاہتاہے۔
نیویارک (نیوزڈیسک) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیاہے کہ جنرل ڈیوڈ پٹریس کے
سی آئی اے ڈائریکٹر بننے سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی اور امریکی حکام کے حوالے سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاکہ جنرل ڈیوڈ پٹریس کے سی ائی اے ڈائریکٹر بننے سے ڈرون طیاروں کا پروگرام براہ راست ان کے کنٹرول میں آگیا ہے۔ اخبار کے مطابق جنرل پٹریس پاکستان پرواضح کرچکے ہیں کہ ڈرون حملے کم نہیں ہونگے جبکہ پاکستان ڈرون حملے بند کرانا چاہتاہے۔
اخبار کے مطابق شمسی ایئربیس بند ہونے کے بعد اب ڈرون حملے افغانستان سے کئے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹریس اور مائیک مولن آئی ایس آئی پر طالبان کی مدد کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر ڈینس بلیئر نے اخبار کو بتایا کہ موجودہ صورتحال میں آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے تعلقات کی بحالی مشکل ہے۔ آئی ایس آئی ڈرون حملوٕں کا خاتمہ چاہتی ہے جبکہ سی آئی اے حملے جاری رکھے ہوئے ہے
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل ستائش کردار ادا کررہی ہے۔ امریکی سفیر کیمرون منٹرکا دورہ بلوچستان
کوئٹہ (نیوزڈیسک) پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے ،دونوں ممالک ملکر خطرات سے نمٹیں گے۔ کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل ستائش کردار ادا کررہی ہے۔ امریکہ پاکستان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو دہشت گردی جیسے کئی مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔ دونوں ملک مل کر ان مسائل کا مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جانوں کی قربانیاں بھی دے رہی ہے۔کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ ان کے دورہ بلوچستان کا مقصد یہاں کے عوام خصوصًا پاک افغان سرحدی علاقوں کے شہریوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں ،اس سے قبل امریکی سفیر نے پشتون مقامی جرگہ کے کنوینئر نواب ایاز خان جوگیزئی کی صدارت میں ہونے والے قبائلی جرگہ میں بھی شرکت کی اور مسائل کے حل کے حوالے سے جرگہ کو تجاویز بھی پیش کیں۔ کیمرون منٹر کوئٹہ میں قیام کے دوران وہ سرکاری حکام سے بھی ملاقات کریں گے،امریکہ صوبہ بلوچستان میں اپنا قونصلیٹ کھولنے کیلئے حکومتِ پاکستان سے درخواست کرچکا ہےاور اس مقصد کیلئے بلوچ رہنماوں سے اس سلسلے میں حمایت حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس اسی سال جون میں ہوگا
اسلام آباد (نیوزڈیسک) بھارت اور پاکستان نے تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی معاملات کو حل کرنے کےلیے جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو تجارت سے متعلق تمام معاملات جائزہ لےگا۔ دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ
تجارتی مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں تجارت سے متعلق تمام معاملات پر بات چیت ہوئی اور نجی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنا دونوں ممالک کی ترجیح میں شامل ہے۔ دونوں ممالک نے نان ٹیرف بیریئر کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کےلیے پہلے دونوں ممالک کے معاشی ماہرین ان بیریئرز کی نشادہی کریں گے جس کے بعد ستمبر دو ہزار گیارہ میں ہونے والے ورکنگ گروپ کے اجلاس فیصلہ کا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ورکنگ گروپ کا اجلاس اسی سال جون میں ہوگا اور بتایا کہ اس گروپ کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جس مقصد کےلیےدونوں ممالک کے سیکریٹری تجارت سال میں دو بار ملاقات کریں گے۔
مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ تجارت کے فروغ کےلیے ضروری ہے کہ تاجروں کو ویزا ملنے میں دشواری نہ ہو اس لیے ویزا قوانین میں نرمی کافیصلہ کیا گیا اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے سیکریٹری داخلہ نے بھی بات چیت کی تھی۔
ظفر محمود کے مطابق واگھا بارڈر پر تجارت کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے اور اس حوالے سے کسٹم قوانین میں نرمی کا جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موناباؤ کھوکھراپار راستے کو کھولنے پر بھی مذاکرات کیے جائیں۔
سیکریٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ اسی سال جولائی میں دلی میں ملاقات کریں گے۔
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
صدیق عیدو حب سے شائع ہونیوالے روزنامہ ’ایگل‘ کے لیے مکران میں رپورٹنگ کرتے اور گوادر میں انسانی حقوق کمیشن کےرکن تھے
گوادر (نیوزڈیسک) بلوچستان کے علاقے اورماڑہ سے مذید دو لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں مقامی صحافی اور انسانی حقوق کمیشن کے رکن صدیق عیدو کی لاش بھی شامل ہے۔ان افراد کو چار ماہ قبل گوادر سے پسنی جاتے ہوئے
اغواء کیا گیا تھا۔ بلوچستان کے ساحلی شہر اورماڑہ کراس کے قریب جمعرات کی صبح مقامی لیویز کو مزید دو لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں شناخت کے لیے سول ہسپتال پسنی منتقل کیا گیا تھا جہاں ورثاء نے ان کی شناخت صدیق عیدو اور یوسف نظر کے نام سے کی ہے۔ صدیق عیدو حب سے شائع ہونے والے روزنامہ ’ایگل‘ کے لیے مکران میں رپورٹنگ کرتے تھے اس کے علاوہ وہ گوادر میں انسانی حقوق کمیشن کے سرگرم رکن بھی تھے۔
صدیق عیدو اور یوسف نظرگزشتہ سال اکیس دسمبر کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہوئے تھے جب وہ گوادر میں ایک عدالت میں پیشی کے بعد پولیس کی تحویل میں واپس پسنی جارہے تھے۔
تربت سے مقامی صحافی اسلم جہانگیر کے مطابق واقعہ کے بعد مقامی انتظامیہ نے چار پولیس اہلکاورں کو غفلت برتنے اورصحافی صدیق عیدو کو نامعلوم مسلح افراد کے حوالے کرنے کے الزام میں معطل کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
اسلم جہانگیر کے مطابق گزشتہ سال نومبر سے اب تک مکران ڈویژن سے پانچ صحافیوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں صدیق عیدو، ظریف فراز، عبدوت، لالاحمید اور الیاس نظر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ چار روز قبل خضدار شہر سے دس کلومیٹر دور سوگز کے مقام پر مقامی لیویز کو تین افراد عبدالحفیظ، غلام مرتضی اور محمد ایوب بلوچ کی لاشیں ملی تھیں۔
اس سے قبل تربت شہر کے نواحی علاقے پدراک سے ظریف فراز اور شمیم آمین کی لاشیں ملی تھیں جس کے خلاف مختلف قوم پرست سیاسی جماعتوں کی جانب سے تین دن تک صوبے کے اکثر بڑے شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔
دوسری جانب ایچ آر سی پی نے بلوچستان کے علاقے پسنی میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر صدیق عیدو کے پراسرار قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے پر حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صدیق عیدو کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
Posted on ۲۹ اپریل ۲۰۱۱ by editor
مقامی طور پر تیار کیا گیا یہ میزائل 350 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور فضا سے داغہ جاسکتا ہے
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان نے جمعہ کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل حتف آٹھ (رَعد) کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو
اپنے ہدف تک روایتی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقامی طور پر تیار کیا گیا فضا سے داغے جانے والا یہ میزائل 350 کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان کے مطابق انتہائی پیچیدہ ’کروز ٹیکنالوجی‘ دنیا کے صرف چند ممالک کے پاس ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
پاکستان نے رواں ماہ کی 19 تاریخ کو بھی کم فاصلے تک مار کرنے والے حتف نو (نصر) میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔ ان تجربات کا مقصد ان ہتھیاروں کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔
ماضی میں اس قسم کے تجربات پاکستان اور اس کے روایتی حریف بھارت کے درمیان تناؤ کا باعث بنتے تھے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ان سے متعلق پیشگی اطلاع دینے کے دوطرفہ سمجھوتہ طے پانے کے بعد یہ معمول کی کارروائی کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔
Posted on ۲۸ اپریل ۲۰۱۱ by editor
صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں مسلم لیگ (ق) کے وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ملاقات کی
اسلام آباد (نیوزڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں مسلم لیگ (ق) کے وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ملاقات کی ، اس سے قبل مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی کمیٹی نے حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلے
کا اختیار چوہدری شجاعت حسین کو دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کے وفد میں چوہدری پرویز الہی اور فیصل صالح حیات بھی موجود تھے ذرائع کے مطابق اس موقع پر دونوں جماعتوں کی قیادت نے مستقبل کے اتحاد پر بات چیت کی اور کابینہ میں شمولیت کے امور کو حتمی شکل دی ۔
قبل ازیں مسلم لیگ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں اراکین کی اکثریت نے چوہدری شجاعت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا اختیار چوہدری شجاعت حسین کو ددیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے (ق) لیگ کے مفاہمتی مسودے پر لچکدار رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے موجودہ وزرا ء کے محکموں میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے اور چودھری احمد مختار کو وزارت پانی و بجلی کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے۔