Posted on ۱۱ جنوری ۲۰۱۲ by admin
۔اسلام آباد ۔۔ وزیر اعظم گیلانی نے سیکرٹری دفاع لیفٹنٹ جنرل ( ر ) نعیم خالد لودھی کو برطرف کر دیا ہے۔
ترجمان وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق سیکرٹری دفاع کے اقدام سے اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔انہيں مس کنڈکٹ اور غیر قانونی اقدام کے الزام پر فارغ کیا گیا ہے جب کہ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نرگس سیٹھی کو سیکریٹری دفاع کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے ۔
وزیر اعظم کی طرف سے سیکرٹری دفاع بریگیڈیئر ( ر ) نعیم خالد لودھی کو فارغ کرنے کے چند منٹ بعد ہی پاک فوج کی طرف فوری رد عمل آیا ہے جس کے مطابق بریگیڈیر سرفراز علی کو ٹرپل ون بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ہے ۔
یہ بات یاد رہے کہ پاک فوج کی 111 بریگیڈ مارشل لا کے دوران اپنے فوری رد عمل کی وجہ سے خاصی معروف ہے ۔
اس سے پہلے پاک فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میمو گیٹ کے معاملے پر وزیر اعظم کی جانب سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ۔ ایس آئی ایس جنرل احمد شجاع پاشا پر لگائے جانےوالے سنگین الزامات کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
فی الحال پاک فوج کے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے کورکمانڈرز کا ہنگامی اجلاس کل طلب کرلیا ہے -
Posted on ۱۰ جنوری ۲۰۱۲ by admin
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے این آر او عمل در آمد کیس پر 12 صفحات پر مشتمل اپنا متفقہ فیصلہ سنایا ۔
اسلام آباد ۔۔ سپریم کورٹ نے این آر او عمل در آمد کیس میں فیصلہ دیا ہے کہ بہ ظاہر وزیر اعظم نے آئین کی بجائے سیاسی جماعت سے وفاداری کی .

عدالت نے صدر اوروزیر اعظم پر آئین سے کی خلاف ورزی کے ممکنہ الزام کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو 6 آپشنز دیئے ہيں معاملہ حتمی فیصلے کے لیے لارجر بینچ کو بھیجتے ہوئے 16 جنوری تک مہلت بھی دے دی گئی ہے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ صدر زرداری نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ان کی جماعت نے این آر او عدالتی فیصلے کے ایک حصے پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ نیب اور حکومت دونوں عدالتی فیصلے پر عمل در آمد میں سنجیدہ نہیں ۔ جو اقدام تجویز کرنے جا رہے ہيں وہ کافی ناخوش گوار ہوں گے ۔ لیکن اس سے آئینی توازن قائم ہو گا ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعظم کو بادی النظر میں غیر دیانت دار آدمی کہتے ہوئے اٹارنی جنرل کو 6 آپشنز حکومت تک پہنچانے کے لیے دیئے :
نمبر 1۔ حلف کی وفاداری اور عدالتی احکامات کی پیروی نہ کرنے پر صدر ، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر قانون کے خلاف آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے کی کاروائی کی جائے ۔
نمبر 2۔ وزیر اعظم ، وفاقی وزیر قانون سیکرٹری قانون کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے ۔
نمبر 3 ۔ عدالتی حکم پر عمل کرانے کے لیے آرٹیکل 187 کے تحت عدالتی کمیشن قائم کر دیا جائے ۔
نمبر 4 ۔ صدر کے لیے کسی نے آرٹیکل 248 کے تحت استثنی نہيں مانگا ۔ کوئی ان آپشنز سے متاثر ہوتا ہے۔ تو عدالت اسے سننے کے لیے موقع دے رہی ہے۔
نمبر 5 ۔چیئر مین نیب کو نیب آرڈنینس کے تحت ہٹانے کی کاروائی کی جائے ۔
نمبر 6۔عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے اور آئینی دیباچہ کے مطابق عوام کو فیصلہ کرنے دیا جائے ۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ان 6 آپشنز میں کیا استعمال کیا جائے تا کہ یہ شکایت نہ ہو کہ انہيں این آر او کیس میں سنا نہيں گیا ۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدنان خواجہ ، احمد ریاض شیخ اور ملک قیوم کے خلاف نیب کی رپورٹس غیر تسلی بخش ہيں ، سزا یافتہ افراد کو ترقی ملنے میں ڈھال فراہم کی گئی ۔سوئس کیسز سے متعلق سیکرٹری قانون بھی عدالت نہيں آئے ۔ اور نہ عدم حاضری پر کوئی اطلاع دی ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اعلی ترین عدالت میں شطرنج کا کھیل یا چھپن چھپائی نہيں ہونی چاہیے۔ اگر حکومت قانون توڑے تو عام شہری بھی ایسا کرے گا ، آئین پر عمل نہ ہو تو عدلیہ نے کاروائی کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ عدالت نے این آر او معاملہ 16 جنوری کو لارجر بینچ میں سماعت کے لیے لگانے کے لیےبھیج دیا ہے اور چیئر مین نیب اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو ذاتی طور پر طلب کیا ہے۔
Posted on ۰۴ جنوری ۲۰۱۲ by admin
سپریم کورٹ آف پاکستان کے میمو گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ یہ نوٹسز چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن نے آصف علی زرداری سمیت فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی اور مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کو جاری کیے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو میمو سے متعلق آئینی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا اور معاملے کی چھان بین کے لیے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ کمیشن 4 ہفتے میں کام مکمل کرلے گا ۔
جب کہ دوسری طرف میمو گیٹ کی شروعات میں ہی عدلیہ کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اپنانے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان سمیت وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، قمرزمان کائرہ، خورشید شاہ اور فاروق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ۔ سپریم کورٹ میں عدالتی فیصلے کے خلاف تضحیک آمیز پریس کانفرنس کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ عدالت میں 1دسمبر کو بابر اعوان کی پریس کانفرنس کا تحریری متن پڑھ کر سنایاگیا۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ مذکورہ پریس کانفرنس میں عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے ۔ بعد ازا ںسپریم کورٹ نے بابر اعوان کے علاوہ فردوس عاشق اعوان ،خورشید شاہ اور قمرزمان کائرہ کو توہین عدالت کےنوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13جنوری تک ملتوی کردی ۔
یادرہے 1 دسمبر کو میمو گیٹ کیس کی سماعت کے بعد بابر اعوان نے دیگر وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے میمو اسکینڈ ل پر تشکیل دیئے جانے والا کمیشن غیر آئینی ہے کیوں کہ کمیشن کی تشکیل دینے کا اختیار صرف انتظامیہ کے پاس ہے۔ آئن معاہدہ عمرانی کی آخری دستاویز ہے اسے پس پشت ڈالنے کی کوشش کی ہو رہی ہے لیکن اسے کامیاب نہیں دیں گے۔
قانون پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ توہین عدالت کے مرتکب افراد اگر کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوں تو ان کا وہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ پبلک آفس کےلئے نااہل ہوجاتےہیں
Posted on ۰۳ جنوری ۲۰۱۲ by admin
صرافہ مارکیٹ میں تیزابی سونا 10 گرام کے بھاؤ 557 روپے کے اضافے سے 46 ہزار 585 روپے پر ختم ہوئے۔
آل سندھ صراف ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹوں میں منگل کو تیزابی سونا فی 10 گرام کی قیمت گذشتہ کاروباری روز کے بھاؤ 46 ہزار 28 روپے سے بڑھ کر 46 ہزار 585 روپے پر بند ہوئے۔
جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 25 ڈالر کی تیزی سے ایک ہزار 590 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 650 روپے کے اضافے سے 54 ہزار 350 روپے پر بند ہوئی جبکہ گذشتہ کاروباری روز اس کی قیمت 53 ہزار 700 روپے تھی۔
اسی طرح مقامی مارکیٹوں میں 22 قیراط سونے کی قیمت فی 10 گرام کے بھاؤ بھی 42 ہزار 703 روپے پر بند ہوئی۔
آل سندھ صراف ایسوسی ایشن کے مطابق چاندی کے نرخ 980 روپے فی تولہ اور 840 روپے فی 10 گرام پر مستحکم رہے ۔
Posted on ۰۳ جنوری ۲۰۱۲ by admin
کراچی، __ جعلی دواؤں کے خلاف منگل کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پرایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جعلی ادویات کی تیاری، انہیں ذخیرہ کرنے، استعمال کو روکنے اور ان کی فروخت روکنے کے لیے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔یہ قرارداد مسلم لیگ (فنکشنل) کی رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے پیش کی گئی ۔

نصرت سحر عباسی نے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر جعلی دوائیں فروخت ہو رہی ہیں۔انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے ان پر پابندی ضروری ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سندھ کے صدر جام تماچی انڑ نے کہا کہ جعلی دواؤں کی تیاری اور فروخت میں حکومت سندھ کے اہل کار بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔بعد ازمیعاد اور نقلی دوائیں خریدلی جاتی ہیں۔ دواؤں کی خرید کے لیے ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔اسپورٹس منسٹر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے کہا کہ جعلی دواؤں کے ساتھ ساتھ جعلی آکسیجن سلنڈرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ جو کہ ایک بہت بڑا جرم ہے۔دیگر ارکان نے بھی اپنی تقریر میں جعلی دوائیں بنانے والی فیکٹریوں کو بند کرنے اور اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
Posted on ۰۳ جنوری ۲۰۱۲ by admin
حکومت اور سی این جی ایسوسی ایشن میں مذاکرات ناکام
راولپنڈی میں پہیہ جام ، اسلام آباد کے داخلی راستے بند ، گاڑی نذر آتش ، پتھراؤ ، پولیس کا لاٹھی چارج ، گوجر خان میں جی ٹی روڈ بند ، فیصل آباد اور ملتا میں بھی مظاہر ے ۔ APTMA کا بھی کل سے احتجاج کا اعلان
جاہل ، ان پڑھ اور کچھ پڑھے لکھے بھی سیاست چمکار رہے ہیں ، وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم
____________
راولپنڈی ، اسلام آباد ، ملتان ، فیصل آباد ،(نمائندگان ، نیوز ایجنسیز ) ملک میں سی این جی کی بندش اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ، اسلام آباد کے داخل راستوں کو بند کر دیا گیا ۔ پولیس اور مطاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ۔ مشتعل افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی ، ٹرانسپورٹروں نے مکمل پہیہ جام کر دیا ،
تفصیلات کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے اور سی این جی کی بندش کے خلاف راولپنڈی اسلام آباد سمیت ڈویژن بھر کے ٹرانسپورٹروں نے مکمل پہیہ جام کر دیا ، ہڑتا ل کے موقع پر مظاہروں کے دوران مشتعل مظاہرین نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر ایک گاڑي کو آگ لگا دی جب کہ مختلف مقامات پر پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے جنہيں منتشر کر نے کے لیے پولیس نے زبردست لاٹھی چارج بھی کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے درجنوں مقامات پر ٹائر جلا کر ٹریفک جام کر دی ، شہری میلوں کا سفر پیدل طے کرنے پر مجبور رہے ، مطاہرین نے متعدد علاقوں میں پٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشن بھی زبردستی بند کر دیئے ۔ ادھر انتہائی محدود تعداد میں پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن کھلے ہونے کے باعث یہاں تمام دن گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں لگی رہيں ۔ جب کہ پمپ مالکان بلیک میں پٹرول فروخت کرتے رہے ، مانیٹرنک ڈیسک کے مطابق راولپنڈی ، اسلام آباد میں جگہ جگہ مظاہرے کر کے سڑکیں بند کر دی گئيں اور اسلام آباد کے داخلی راستوں پر قبضہ کر لیا گیا ، اسلام آباد میں ایک شہری نے گاڑی مظاہرین پر چڑھا دی جس پر مشتعل افراد نے گاڑي کو آگ لگا دی ۔ روات میں طلبا او سول سوسائٹی نے مظاہرہ کیا اور جی ٹی روڈ بلا کر دی ۔ ایک خبر کے مطابق آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے سوئی گیس کی فراہمی میں تعطل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز 4 جنوری سے کیا جائے گا ۔ دوسری طرف حکومت آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہڑتال ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناکام ہوگئے اور بات چیت کے لیے وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اعجاز چوہدری کے ساتھ پیر کو ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا ۔ جس کے بعد آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن اور متحدہ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں غیر معینہ مدت تک کے لیے ہڑتال جاری رکھنے اور آج منگل سے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
پنجاب کے کئی شہرو میں سی این ی کی ہڑتال ، ٹرانسپورٹ مین سی این جی بھرنے پر پابندی دو ہفتے کے لیے ختم ،
وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اعجاز چوہدری نے ایک اجلاس کے بعد میڈیا کر بتایا کہ سی این جی ایسوسی ایشن کے دو اہم مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں ۔ وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گیس کا سنگین بحران ہے اور جنوری کا مہینہ مشکل ثابت ہو گا ۔ حکومت نے سی این جی اسٹیشن کے قیام پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اسی طرح نئی سی این جی کٹس اور سلنڈرز کی در آمد پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ماضی میں جنہيں سی این جی اسٹیشن لگانے کی اجازت تھی ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جب کہ ایران سے آئندہ تین یا چار سال میں گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی ، وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں گیس کی پیدوار میں 69 فی صد کا حصہ دار ہے جب کہ سندھ میں گیس کی کھپت مجموعی پیداوار کا 41 فیصد ہے ، بلوچستان 17 فی صد پیداورا کے ساتھ 7 فی صد گیس استعمال کر رہا ہے ۔ خیبر پختونخواہ 10 فیصد پیداوار کے ساتھ 7 فی صد گیس استعمال کر رہا ہے۔ جب کہ پنجاب 5 فی صد گیس پیدا کر کے 45 فی صد استعمال کر رہا ہے۔ اس لیے پنجاب میں سی این جی پر ایک ماہ کی پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں ۔
Posted on ۰۲ جنوری ۲۰۱۲ by admin
میمو گیٹ معاملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کا افتتاحی اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہوا جس میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی، منصور اعجاز کے علاوہ جنرل جیمز جونز کا موقف جاننے کے لیے حکومتِ پاکستان کو ان سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
اجلاس کے بعد اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے صحافیوں سے گفتگو میں امریکی شہریوں کو طلب کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’منصور اعجاز صاحب کو بلایا گیا ہے۔ جنرل جمیز کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ اگر وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو آ کر کہیں۔‘‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیشن نے اُنھیں ہدایت کی ہے کہ وہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، قومی ادارے پی ٹی اے، ایف آئی اے اور آئی ایس آئی سے رابطہ کر کے ایسے ماہرین کی نشاندہی کریں جو مواصلاتی آلات سے معلومات اور شواہد حاصل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے حکم دیا ہے کہ حسین حقانی اور امریکی شہری منصور اعجاز کے بلیک بیری موبائل فون اور سامان ، کمپیوٹرز ، کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
پیر کو ہونے والے اجلاس میں حسین حقانی نا تو خود اور نا ہی ان کی طرف سے کوئی وکیل پیش ہوا۔ تاہم اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کمیشن کو بتایا کہ سیکرٹری داخلہ کے توسط سے حسین حقانی کو کمیشن کی کارروائی کے بارے میں نوٹس بھجوا دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ میں میمو گیٹ اسکینڈل سے متعلق آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نا ہونے کے بارے میں حسین حقانی کی طرف سے ان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل پیش کیے تھے ، لیکن اُنہوں نے عدالتی کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مزید پیروی سے معذرت ظاہر کی ہے اور اپنے موکل کو کسی دوسرے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری نا ہونے کی وجہ سے حکومت پر اظہار برہمی کیا ۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے میمو اسکینڈل سے متعلق دائر آئینی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جسے 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا پابند کیا گیا ۔
Posted on ۳۱ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
سال 2011 ختم ہوا اور 2012 شروع ہوا ۔
نئے سال کے اختتام پر بھی مسائل وہی رہے اور شروعات بھی اپنے ساتھ کئی مشکلات لے آئی ۔
سال 2011ء کے دوران صحافیوں کو فرائض کی تکمیل کے دوراناغواء ، ظلم ، خوف ، ہراساں ، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا سامنا رہا۔ پاکستان میںتقریبا 12 صحافیوں کو ہلاک کیا گيا اور 47 واقعات زحمی ہونے کے ہوئۓ ۔ صحافیوں کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کے 10 خطر ناک ممالک میں شامل کیاگیا ہے۔
نئے سال کی آمد پر توانائی کا بحران بھی اپنی شدت کے ساتھ موجود رہا ۔ سال کے آخری دن پیٹرول کی قیمت کے متعلق نوٹس نے عوام میں تھوڑی سی ہلچل مچا دی ۔
آئیل اینڈ گیس ریکولیٹری اتھارٹی نے پٹرول ایک روپیہ65 پیسہ فی لٹر مہنگا کر دیا جب کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ واپس لیا گیا ۔ اوگرا سے جاری کردہ نوٹیفکشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 89 روپے 95 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے ۔ ہائی اوکٹین 5 روپے 13 پیسے فی لٹر مہنگا کیا گیا اور اس کی نئی قیمت 111 روپے 91 پیسے فی لٹر ہوگی ۔ ڈیزل کی قیمت 98 روپے 82 پیسے ،لائٹ ڈیزل 86 روپے 78 پیسے فی لٹر اور مٹی کا تیل 89 روپے 24 پیسے رہے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرا کی طرف سے ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم صدر زرداری کی ہدایت پر یہ نوٹس واپس لے لیا گیا ہے ۔
دو ہزار گیارہ کے دوران پاکستانی معیشت شرح نمو کے اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی اور ڈالر کے مقابلے میں، روپے کی قدر میں بہت زیادہ کمی ہوئي ۔۔
ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار پاکستانی معیشت کےلیےادا کرتی ہے۔۔ 1960 کے عشرے تک ایک امریکی ڈالر پونے پانچ روپے کا تھا۔۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ڈالر ایک عرصہ تک 10 روپے کا رہا۔۔ 1985 میں 16 روپے 28 پیسے۔۔ 1990 میں 21 روپے 41 پیسے ، سن 2000 میں 51 روپے 64 پیسے ، 2005 میں 59 روپے 86 پیسے اور دسمبر 2011 میں ڈالر کی قیمت 90 روپے سے بھی بڑھ گئی۔
Posted on ۳۱ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
جامعہ کراچی میں مارک شیٹ کے حصول کی فیسوں میں جعلسازی اور خورد برد کے خاتمے کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا ہے۔
جس سے جامعہ کراچی کو سالانہ 25 سے 30 لاکھ روپے کا فائدہ ہوگا۔اس سلسلے میں مارک شیٹ کے حصول کے لئے کمپیوٹر ائزڈ واؤ چرز جار
ی کئے جائیں گے۔
اس سے پہلے عام فیس پر ارجنٹ اور فوری مارک شیٹ نکلوائی جاتی تھیں جس سے جامعہ کراچی کو مالی نقصان ہورہا تھا اور عملہ ان مارک شیٹ کے عمل میں مصروف رہتا تھا جس سے روز مرہ کے کام میں تاخیر ہوتی تھی ۔ جس کے لیے اوریکل سسٹم رائج کیا گیا ہے ۔اس سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر کمپیوٹرائزڈ واؤچر جاری کیا جائے گا اور فیس کے عمل کے ساتھ ساتھ مارک شیٹ کے اجراءکو بھی شفاف بنایا جائے گا ۔ مانیٹرنگ سیل بنانے کے بعد جمع ہونے والی فیس کا ایک واؤ چر اس مانیٹرنگ سیل کو فراہم کیا جائے گا۔اس طرح عام فیس پر ارجنٹ مارک شیٹ حاصل کرنے کے عمل کی جعل سازی کو روکا جاسکے گا ۔
ترجمان جامعہ کراچی کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ عام فیس پر ارجنٹ اور فوری مارک شیٹ نکلوائی جاتی تھیں جس سے جامعہ کراچی کو مالی نقصان ہورہا تھا اور عملہ ان مارک شیٹ کے عمل میں مصروف رہتا تھا جس سے روز مرہ کے کام میں تاخیر ہوتی تھی ۔
اس عمل کو بہتر بنانے کے لئے پرووائس چانسلر پروفیسر ناصر الدین خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ مارک شیٹ کے عمل کو شفاف بنانے اور مقررہ فیسوں میں خورد برد وجعلساری روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں جس پر کمپیوٹر کے بہترین اور معروف سوفٹ وئیر اوریکل سسٹم کو شعبہ امتحانات میں متعارف کرایا ہے۔
Posted on ۲۹ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
جراثیم کی برائیاں تو ہم سبھی کرتے اور سنتے رہتے ہيں لیکن کچھ اچھے بیکٹریا بھی ہوتے ہيں ۔اب وہ ووقت آ رہا ہے۔ جب جراثیم سے گھر بھی روشن ہوا کریں گے۔ یہ روشنی گھریلو کچرے کو ری سائیکل کر کے حاصل کی جائے گی ۔ فلپس نے ایسی بایو لائٹ ایجادکی ہے۔ جو گھر کو جراثیم سے جگمگادے گی۔ اس کی تکنیک یہ ہے کہ زندہ بیکٹریا سے ٹھنڈی سبز روشنی ملا کرے گی۔ یہ لیمپس متعدد گلاس چیمبرز سے بنا ہے۔ یہ اس طرح روشنی دے گا جیسے جگنو سے حاصل ہوتی ہے ۔ شیشے کے مرتبانوں میں وہ بیکٹریا بند ہو ں گے جن سے روشنی خارج ہوتی ہے ۔ ان کو میتھین گیس کی خوراک دی جائے گی۔ تو روشنی بنے گی ۔ فلپس کویقین ہے کہ سڑکوں اور کارخانوں کو روشن کرنے کے لیے یہ بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔