Posted on ۰۳ جنوری ۲۰۱۲ by admin
صرافہ مارکیٹ میں تیزابی سونا 10 گرام کے بھاؤ 557 روپے کے اضافے سے 46 ہزار 585 روپے پر ختم ہوئے۔
آل سندھ صراف ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹوں میں منگل کو تیزابی سونا فی 10 گرام کی قیمت گذشتہ کاروباری روز کے بھاؤ 46 ہزار 28 روپے سے بڑھ کر 46 ہزار 585 روپے پر بند ہوئے۔
جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 25 ڈالر کی تیزی سے ایک ہزار 590 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 650 روپے کے اضافے سے 54 ہزار 350 روپے پر بند ہوئی جبکہ گذشتہ کاروباری روز اس کی قیمت 53 ہزار 700 روپے تھی۔
اسی طرح مقامی مارکیٹوں میں 22 قیراط سونے کی قیمت فی 10 گرام کے بھاؤ بھی 42 ہزار 703 روپے پر بند ہوئی۔
آل سندھ صراف ایسوسی ایشن کے مطابق چاندی کے نرخ 980 روپے فی تولہ اور 840 روپے فی 10 گرام پر مستحکم رہے ۔
Posted on ۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو تیزی کا رجحان رہا ,جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 41.21 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 11352.59 پوائنٹس پر بند ہوا ۔
بازار میں کاروبار کا آغازپازیٹو انداز میں ہوا تاہم سال کے آخری ہفتےاور سیاسی انتشار کے باعث فروخت کا دباؤ اور شیئرز کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ رہا ۔ کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 11311 پر بند ہوا مجموعی طور پر 2،34،00000 شیئرز پر کام ہوا۔ ایک سو چار کمپنیز کے شئیرز کی قیمت میں کمی اور چوراسی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا ۔

کے ایس سی آل شیئر انڈیکس میں بھی 29.37 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جب کہ کے ایم آئی 30 انڈیکس میں 1.43 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ کی گئی ۔
مجموعی طور پر 314 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جن میں سے 104 کمپنیز کے شیئرز کی قیمتوں میں تیزی ، 106 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅ میں مندی اور 104 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوںرہا ۔
Posted on ۱۸ اپریل ۲۰۱۱ by editor
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین سالانہ دو سو ارب روپے کا کارروبار کرتے ہیں اور 1980ء سے ابتک اِنہیں ٹیکس نیٹ میں نہیں لایاگیاتھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے افغان مہاجرین کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے پشاورمیں بارہ ہزار
افغان مہاجر تاجروں کو نوٹس دے دیئے گئےہیں ۔ ایف بی آر کی جانب سے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں قانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین کو ٹیکس نیٹ میں لانے کافیصلہ کیا گیا ہے،، جس کے پیش نظر یکم اپریل سے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں ایف بی آرکی خصوصی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے ٹیموں نے بارہ ہزار افغان مہاجر تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے انکے نام اور تفصیلات حاصل کر لی ہیں اور انہیں نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ۔ ایک اندازے کیمطابق پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین سالانہ دو سو ارب روپے کا کارروبار کرتے ہیں اور 1980ء سے ابتک اِنہیں ٹیکس نیٹ میں نہیں لایاگیا تھا۔ افغان بزنس مین افغان مہاجرین کو ملی ہوئی اس سہولت کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہے تھے۔
Posted on ۰۱ اپریل ۲۰۱۱ by editor
رواں مالی سال کےابتدائی سات ماہ کے دوران درآمدات میں 71فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 47فی صد ہوگا۔
کراچی (نیوزڈیسک) پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 47فی صد اضافے کے ساتھ سات ارب پچاس کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بات اسٹیٹ بینک کےذرائع سے معلوم ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق، رواں مالی سال کے سات ماہ میں، یعنی جولائی تا جنوری کے دوران، کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گذشتہ مالی سال میں اِسی مدت میں خسارہ تقریباً پانچ ارب ڈالر تھا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کی بڑی وجہ ملک کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافہ بتایا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ درآمدات، خصوصاً تیل کے درآمدی بل میں غیر معمولی اضافہ ہے۔
تیل کے درآمدی بل میں اضافے کا باعث تیل کی قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ اِس وقت تیل کی عالمی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل کی حد کو چھو رہی ہیں۔ رواں مالی سال کےابتدائی سات ماہ کے دوران درآمدات میں 71فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اِس مدت میں ملک میں اٹھارہ ارب 87 کروڑ ڈالر کی درآمدات اور برآمدات تقریباً گیارہ کروڑ ڈالر ہوئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ درآمدی و برآمدی تجارت میں اِس عدم توازن کی وجہ سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور اگر مالی سال کے باقی پانچ ماہ میں اِس عدم توازن پر قابو پایا گیا تو دباؤ مزید بڑھے گا۔
اطلاعات کے مطابق، حکومت نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے سعودی عرب سے تیل کی ادھار فراہمی کی درخواست کی تھی جس میں حکومت کو کامیابی نہیں ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں کی موجودہ سطح برقرار رہی تو اِس سال تیل کا درآمدی بل دس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔