Archive | میڈیا

Tags: , ,

وینا ملک کی اگلی آرام گاہ

Posted on ۲۷ دسمبر ۲۰۱۱ by admin

سکینڈل کوئین وینا ملک بھارت کے بعد دبئی پہنچ گئی ہیں اور اب وہاںآرام کررہی ہیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ وینا ملک کرسمس اور آرام کرنے کا بہانا بنا کر دبئی گئی ہیں،مگر وہاں بھی وہ کسی  کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں وینا ملک نےاعتراف کیا ہے کہ ایف ایچ ایم کے لئے فوٹو شوٹ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی انہوں نے سوشل نیٹ ورکنگ پر  اپنے پیغام میں ایف ایچ ایم کی انتظامیہ پر چیٹنگ کا الزام بھی لگایا ہے فی الحال وہ  دبئی ہی میں ہیں اورنئے سال پر اپنے بھارتی دوست اشمیت پٹیل کے ساتھ پرفارم کریں گی ۔

Comments (0)

tere bin laden

اُسامہ کی موت:فلم سازوں کا نیا موضوع

Posted on ۰۷ مئی ۲۰۱۱ by editor

ہالی ووڈ کے آسکرایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر کیتھرین فلم بنانے کااعلان کرچکے ہیں کوئی اداکار اسامہ کا کردار نبھانے کیلئے تیار نہیں

ہالی ووڈ (نیوزڈیسک) اسامہ بن لادن کی موت جن حالات اور واقعات کے پس منظر میں ہوئی ہے وہ نہایت سنجیدہ ہونے کے ساتھ اس قدر دلچسپ بھی ہیں کہ اس پر مغربی، امریکی اور بھارتی فلمی انڈسٹریز میں فلمیں بنانے کا سوچا جارہاہے۔

اس سے قبل بھی اسامہ پر ان کی زندگی میں ہی کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں 2003ء میں افغانستان میں بننے والی فارسی زبان کی فلم اسامہ اور  بنی بھارتی فلم ’تیرے بن لادن‘ سر فہرست ہیں۔

اسامہ بن لادن کی شخصیت زندگی بھر اسرار کے پردوں میں چھپی رہی تھی،موت کے بعد بھی ان کی پر اسراریت ختم نہیں ہوئی۔ اور ابیٹ آباد کے ایک احاطے میں امریکی اسپیشل فورسز کے خفیہ مشن میں ہلاکت کے بعد وہ ایک بار پھر دنیا بھر کے عوام کی دلچسپی کا مرکز بن گئے ہیں۔

ہالی ووڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر کیتھرین بیگلو ، اسامہ کی ہلاکت سے قبل  ہی ان پر فلم بنانے کااعلان کرچکے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہالی ووڈ کا کوئی بھی اداکارآخری خبریں آنے تک اسامہ کا کردار نبھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

Comments (0)

mazaeya

ایک اور مزاحیہ فلم’ چلو دلی’ بھی ریلیز کے لئے تیار

Posted on ۰۴ مئی ۲۰۱۱ by editor

جب ‘وی میٹ’اور ‘تنو ویڈز منو’ کی کامیابی کے بعد روڈ سائیڈ فلموں کا سیلاب سا آگیا ہے۔ ڈائریکٹر ششانت شاہ کی نئی فلم ‘دلی چلو’ بھی اسی کیٹیگری کی فلم ہے جو ریلیز کے لئے تیار ہے ۔ فلم کے نمایاں فنکاروں میں لارا دتہ، ونے پاٹھک، اکشے کماراوریانا گپتاشامل ہیں جبکہ میوزک ڈائریکٹر گورداس گپتا، آنند راج اور سچن گپتاہیں۔

روڈ سائیڈ فلموں سے مراد عمومی طرز کی فلمیں ہیں۔’ چلودلی’ کی کہانی میں نیا کچھ بھی نہیں۔ وہی شہروں کی بھاگتی دوڑتی زندگی، کرائے دار اور مالک مکان کے جھگڑے، لڑکا لڑکی کی محبت ۔۔زندگی کے مسائل اور بس!!!فلم کا تیز رفتاری سے بدلتا اسکرین پلے اتنا تیز ہے کہ دیکھنے والے کو واقعات سمجھنے کے لئے ذہن پر زور ڈالنا پڑتا ہے۔ ونے پاٹھک اور لارا دتہ کی کیمسٹری، نونک جھونک اور تنک مزاجی لواسٹوری سے کہیں زیادہ مزا دیتی ہے۔

فلم کا تھیم عام سا ہے۔اس طرح کا تھیم آپ پہلے کئی فلموں میں دیکھ چکےہوں گے۔ ایک امیر لڑکی ایک متوسط گھرانے کے لڑکے سے اتفاقیہ ریل کے سفرمیں مل جاتی ہے ۔ لڑکا پیشے کے اعتبار سے دکان دار ہے ۔دونوں کو دلی تک ایک ساتھ سفر کرنا پڑتا ہے ۔ اس سفر میں کیا کیا دلچسپ موڑ آتے ہیں ،پوری کہانی اسی تھیم کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کے کئی سین غیر ضروری طور پر طویل ہوگئے ہیں۔ کئی جگہ اسکرپن پلے انتہائی کمزور ہے۔ ابتدا میں فلم دھیمی رفتار سے آگے بڑھتی ہے لیکن درمیان میں تیز ہوجاتی ہے جو کہانی میں جھول کی موجودگی کو ثابت کرتی ہے ۔ بدمزاج امیر زادی لارا دتہ کئی جگہ اپنے کردار کے حوالے سے کمزور نظر آئی ہیں مگروینے پاٹھک جیسے منجھے ہوئے اداکار نے انہیں سہارا دیا ہے ۔ یانا گپتا آئٹم سانگ سے زیادہ کچھ پیش نہ کرسکیں۔

نوجوان ڈائریکٹر ششانت شاہ کا کام اچھا ہے ۔ کچھ بور مناظر کو چھوڑ کر ششانت نے ایک پرانی کہانی پر بہترین ٹریٹمنٹ پیش کیا ہے۔

فلم کے تین میوزک ڈائریکٹر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کوئی بھی کارنامہ انجام دینے سے قاصر رہے ۔ لارا کی ایکٹرنگ کا انداز دلکش ہے ۔ فلم کی لوکیشنز راجستھان کی ہیں۔مجموعی طور پر’چلو دلی’ تفریخ کی غرض سے صرف ایک بار ہی دیکھی جاسکتی ہے ۔

Comments (0)

kon baney ga

امیتابھ میزبان:’کون بنے گا کروڑ پتی’ کاپانچواں دور

Posted on ۲۷ اپریل ۲۰۱۱ by editor

مقبول رئیلٹی گیم شو ’ کون بنے گا کروڑ پتی ‘ کا پانچواں دور عنقریب شروع ہورہا ہے اور اس کے میزبان  بدستور امیتابھ بچن ہی ہوں گے۔ یہ انکشاف  امیتابھ نےسوشل ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنی ایک اشاعت میں کیا ہے۔ امیتابھ کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی ماہ سے ‘کے بی سی’ کے پانچویں سیشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

کے بی سی اے برطانوی فرنچائز پروگرام ہے جس کا پہلا سیشن 2000ء میں اسٹار ٹی وی سے پیش کیا گیا تھا ۔ یہی پروگرام امیتابھ کا پہلا ٹی وی پروگرام بھی ثابت ہوا۔ پروگرام نے راتوں رات شہرت پائی ۔  اور اس ساتھ ہی امیتابھ بچن، جن کی مارکیٹ ویلیو اس دور میں کچھ کمزور پڑگئی تھی ، اس پروگرام کے باعث یک دم بڑھ گئی۔

بھارتی عوام ‘کے بی سی’ کی دیوانی ہوگئی تھی ۔لاکھوں لوگ اس پروگرام میں فون کے ذریعے شامل ہونا چاہتے تھے،  جبکہ آڈیشن کے لئے آنے والے لاکھوں افراد اس کے علاوہ تھے۔ پروگرام کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کا دوسرا دور بھی کچھ ہی دنوں کے بعد شروع کردیا گیا۔

تاہم پروگرام کے تیسرے دور کی میزبانی شاہ رخ خان کے ذمے لگادی گئی لیکن وہ پروگرام کو اس قدر مقبول نہ بناسکے جتنا یہ امیتابھ کی شمولیت کے سبب ہوا۔شاید یہی وجہ تھی کہ چوتھے دور میں امیتابھ کو واپس بلالیا گیا اوریوں پروگرام کا چوتھا سیشن بھی کامیاب قرار پایا۔اب خبر ہے کہ’ کون بنے گا کروڑ پتی’ کا پانچواں دور بھی امیتابھ بچن کی میزبانی میں ہی شروع ہونے جارہا ہے۔

Comments (0)

dam maro dam

دم مارو دم” بھارت اورپاکستان میں ایک ساتھ ریلیز”

Posted on ۲۷ اپریل ۲۰۱۱ by editor

ممبئی (نیوزڈیسک) کئی تنازعات کے بعد آخر کار ڈائریکڑ روہن سپی کی نئی فلم “دم مارودم” بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ریلیزہو گئی۔ یہ روہن سپی کی تیسری فلم ہے جوسیاحوں کی جنت کہی جانے والی سرزمین گوا میں منشیات کی دنیا اور اس کے دلفریب کاروبار کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کے ہیرو روہن کے بچپن کے دوست ابھیشیک بچن ہیں جبکہ دیگر فنکاروں میں بپاشا باسو، ودیا بالن، دپیکا پڈکون، رانا ، پراتیک ببر، ادتیہ پنچولی اور گووند نام دیوشامل ہیں۔

پروڈیوسر رمیش سپی، ڈائریکٹر روہن سپی، شاعری کماراورموسیقی پریتم چکرورتی نے ترتیب دی ہے۔ روہن ، رمیش سپی کے بیٹے اور ابھیشیک بچن کے نہایت قریبی دوست ہیں۔ اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ روہن نے ابھی تک تین فلمیں بنائی ہیں اور ان تینوں کے ہیرو ابھیشیک بچن ہیں۔ روہن اور ابھیشیک کی پچھلی دونوں فلمیں ” کچھ نہ کہو” اور ” بلف ماسٹر” باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی تھیں ۔

اپنی تیسری فلم یعنی “دم مارو دم” میں روہن سپی نے جو کردار ابھیشیک کو دیا ہے اس میں وہ کس حد تک فٹ نظر آتے ہیں ، اور اس کا اعتراف ان کے نقادوں نے بھی کیا ہے۔ ہوسکتا ہے ابھیشک کی آنے والی فلمیں اسی طرح کامیاب ہوں جس طرح ‘جونیئر بی’ کے ڈیڈ’ بگ بی’ نے بھی اپنے شروعاتی کیرئیر میں مسلسل کئی نا کام فلموں کے بعد ایکدم ہٹ فلمیں دی تھیں ۔ خیر یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

” دم مارو دم” ستر کی دھائی میں بننے والی فلم ” ہرے راما ،ہرے کرشنا” کے ٹائٹل سانگ سے لیا گیا عنوان ہے۔ اب” دم مارو دم” میں بھی ایک ٹائٹل سانگ بلکہ اس سے بڑھ کر آئٹم سانگ ہے جو دپیکا پڈکون پر پکچرائز کیا گیا ہے۔ دپیکا اور دیویا بالن نے ” دم مارو دم ” میں مہمان اداکار کی حیثیت سے کام کیا ہے ورنہ فلم کی اصل ہیروئن بپاشا باسو ہیں۔

فلم کی کہانی کے مطابق ابھیشیک محکمہ پولیس میں انسپکٹر کے عہدے پر تعینات ہے ۔ایک حادثے میں اس کی بیوی اور بچہ ہلاک ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پریشان رہتا ہے ۔ اسی دوران اسے ریاستی وزیر کی طرف سے گوا میں منشیات کے خاتمے کا مشن سونپا جاتاہے ۔ ابھیشیک اس کام کی ذمے داری اپنے ڈھنگ سے کرنے کی شرط پرقبول کرلیتاہے ۔

پراتیک ببر کی گرل فرینڈ کو بیرون ملک تعلیم کے لئے اسکالرشپ ملتی ہے اور وہ یورپ جانے کی تیاری میں لگ جاتی ہے ۔پراتیک بھی اس کے ساتھ یورپ جانے کے لئے ویزا اپلائی کرتا ہے مگر درخواست مسترد کردی جاتی ہے ۔اس کے باوجود وہ کوئی بھی راستہ اپنا کر یورپ جانے کی دھن میں ہے ۔اتفاق سے اس کی ملاقات ڈرگ مافیاسے تعلق رکھنے والے ایک ایسے آدمی سے ہوتی ہے جو اس کے یورپ جانے کے جنون کو بھانپ جاتا ہے۔ وہ پراتیک کو 15 ہزار ڈالرزکا لالچ دے کر اسے منشیات یورپ لے جانے پر آمادہ کرلیتا ہے مگرعین وقت پر ابھیشیک اسے ائیرپورٹ پہنچتے ہی گرفتار کرلیتا ہے۔

کہانی کا ایک اور اہم کرداررانا ،شہر کے چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں گانے گا کر گزارا کررہا ہے مگر اس کی گرل فرینڈ بپاشا باسو اس کی سست رفتار ترقی سے بدل ہے ۔ وہ راتوں رات امیر بننے کے لئے شارٹ کٹ کی متلاشی ہے۔ وہ خود ائیرہوسٹس بننا چاہتی ہے مگرپیسہ نہ ہونے کے سبب یہ خواب پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اسی اثناء میں اس کی ملاقات شہر کے ایک بڑے بزنس مین ادتیہ پنچولی سے ہوجاتی ہے ۔ ادتیہ اصل میں منشیات کا اسمگلر ہے مگر بپاشا اس بات سے بے خبر ہے۔ادتیہ بپاشا کو اس کا خواب پورا کرنے میں مدد دیتا ہے اور بالاخر وہ ائیرہوسٹس بن جاتی ہے ۔

ادتیہ بپاشا کی فلائٹ پر روانگی سے پہلے اس کے سامان میں منشیات چھادیتا ہے جو غیر متوقع طور پر ائیرپورٹ پر پکڑی جاتی ہے۔ بپاشا کو جیل ہوجاتی ہے ۔ جیل میں اس کی ملاقات پرتیک سے ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد بن جاتے ہیں۔پرتیک بپاشا کو بے گنا ہ ثابت کرنے کا پلان بناتا ہے اور۔۔۔۔ یہیں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے ۔

پراتیک نے اچھی اداکاری کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں اداکاری کے’ جراثیم’ موجود ہیں۔ ابھیشیک بات بات پر غصہ کرنے والا انسپکٹر دکھایا گیا لیکن وہ اپنے اس رول میں زیادہ کچھ نہیں کرسکے ۔ تاہم انہوں نے پچھلی فلموں کے مقابلے میں اس بار زیادہ محنت کی ہے۔ بپاشا پہلے بھی کئی فلموں میں اس طرح کی اداکاری کرچکی ہیں اس لئے ان کی اداکاری میں کوئی نیا پن نظر نہیں آتا۔ رانا، نو وارد ہیں لیکن اسکرپٹ میں ان کے کردار پر زیادہ محنت نہیں کی گئی ورنہ اداکاری کے لحاظ سے یہ سب سے پاور فل کردار ہوتا۔

کافی عرصے سے ہر تیسری فلم میں موسیقی کی کمان سنبھالنے والے پریتم چکرورتی نے ایک بار پھر مایوس کیا۔دپیکا پر پکچرائز کیا جانے والا آئٹم سانگ “دم مارو دم” ستر کی دھائی میں زینت امان پر فلمایا گیا تھا اور خوب فلمایا گیا تھا جبکہ نئے گیت کا اس سے مقابلہ بھی عبث ہے۔ سچ پوچھئے تو نئے گیت کا کریڈیٹ بھی آر ڈی برمن کو ہی جاتا ہے ۔

ڈائریکٹر روہن سپی نے اسکرپٹ کے بجائے لوکیشن اور کیمرہ ورک پر زیادہ کادھیان دیا ہے ۔ کہانی میں کردار تو کئی ہیں لیکن ان میں کوئی اپروچ نظر نہیں آتی۔ منشیات فروشوں کے مقابلے صرف دو لوگوں کی ٹیم کو سامنے لانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ فلم میں ذومعنی جملوں کی بھر مار ہے اس لئے فیملی کے ساتھ تو قطعی نہیں دیکھی جاسکتی۔

Comments (0)

180408_10150175241022907_740222906_8711872_4556959_n

ڈرامہ سیریل ” دی ٹیم ” اے- پلس پر

Posted on ۲۲ اپریل ۲۰۱۱ by usman

-
کرکٹ کے موضوع پر بننے والی ڈرامہ سیریل اے پلس پر نشر ہوگی
-
-
اس ڈرامے کی کہانی تحریر کی ہے معروف ڈرامہ نگار محمد امین صادق نے
-
اور ہدایات دی ہیں انعام یافتہ ڈائریکٹر محسن طلعت نے ۔
-

Drama Serial the Team | AIMS PRODUCTION

ڈرامے کے نمایاں فنکاروں میں شامل ہیں
مائرہ خان ، دانش تیمور ، سید علی حسن ، فائق خان ، طاہر کاظمی ، منور سعید ، صباحت بخاری اور دیگر


-
ڈرامہ سیریل The Team ہر پیر کو آٹھ بجے شب پیش کی جائے گی ۔

Comments (0)

bol

شعیب منصور کی فلم “بول” کی عالمی نمائش ہوگی

Posted on ۱۸ اپریل ۲۰۱۱ by editor

فلم ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو دقیانوسی معاشرے کے فرسودہ رسم و رواج کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتی ہے۔

لاہور (انٹرٹینمنٹ نیوز) دنیا بھر کے فلمی ناظرین کے لئے نئی پاکستانی فلم “بول” 20 مئی کو ریلیز کی جارہی ہے۔ فلم “بول” پاکستان کے باصلاحیت اور نامور ڈائریکٹر شعیب منصور کی کاوش ہے جو اس سے قبل فلم “خدا کے لئے” ڈائریکٹ کرچکے ہیں۔ “خداکے لئے” بھی دنیا بھر میں ریلیز ہوئی تھی اور اسے متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔ “بول” کی نمائش بھی دنیا بھر میں کی جائے گی۔

فلم “بول” کے پروڈیوسر وکرم راجانی اور شاہد جمال ہیں جبکہ فلم کی کہانی خود شعیب منصور نے لکھی ہے۔ “بول” ایروز انٹرنیشنل، شو مین پروڈکشن اور جیو فلمزکے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ فلم لاہور میں رہنے والی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو دقیانوسی معاشرے کے فرسودہ رسم و رواج کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں عورتوں کو ایک بوجھ اور بے مصرف شے سمجھا جاتا ہے۔ فلم میں عورتوں کی حالت زار کواس قدر دلکش انداز میں دکھایا گیا ہے کہ دیکھنے والے کو وہ گھرانہ جانا پہچانا سا لگتا ہے ۔ دراصل بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے بعض گھرانے اب بھی عورت کو وہ مقام نہیں دے سکے ہیں جس کی وہ مستحق ہے۔

فلم کے فنکاروں میں حمیرا ملک، عاطف اسلم، ایمان علی، مائرہ خان، منظر صہبائی اور شفقت چیمہ شامل ہیں۔ عاطف اسلم گلوکاری اور ایمان علی ماڈلنگ کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں جبکہ شفقت چیمہ فلموں کا ایک بڑا نام ہے۔

فلم کی موسیقی باقر عباس نے ترتیب دی ہے جبکہ سنگرز میں عاطف اسلم، حدیقہ کیانی، سجاد علی، شبنم مجید، احمد جہانزیب اور شجاع حیدر شامل ہیں۔

Comments (0)

ammitaab news

امیتابھ کے فنگرپرنٹس کی نمائش ابھیشک سنگربن گئے

Posted on ۱۴ اپریل ۲۰۱۱ by editor

نئی بھارتی فلم دم مارو دم کا ایک گانا انہوں نے اپنی آواز میں ریکارڈ کرایا ہے جو چند روز میں ریلیز کردیا جائے گا۔

ممبئی (انٹرٹینمنٹ نیوز) رنبیر کپور نت نئی فلمی ہیروئنوں سے دل لگانے اور ان کا دل توڑنے کے لئے تو ہیں ہی مشہور اب وہ ایک اور حوالے سے بھی مشہور ہونے جارہے ہیں۔ ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ ز میں درج ہوگیا ہے۔کس کارنامے پر؟ ارے بھئی انہوں نے صرف 12گھنٹے میں ایک ہی برانڈ کے 50 کمرشل اشتہارات میں کام کرکے ایک نیا ریکارڈ جو بنایا ہے۔ ان کے یہ اشتہارات آئی پی ایل سیشن فور کے دوران آن ائیر جائیں گے۔ ہے نہ کمال کا ریکارڈ!!

پولینڈ کے میوزیم میں امیتابھ بچن کے فنگر پرنٹس

پولینڈ کے شہر کروکو میں دنیا بھر کی مشہورفلمی شخصیت کے فنگر پرنٹس کا ایک میوزیم ہے۔ اس میوزیم میں اب امیتابھ بچن کے فنگر پرنٹس بھی رکھے جارہے ہیں۔ یہ بات خود امیتابھ بچن نے سوشل ویب سائٹ ٹوئیٹر پر لکھی ہے جبکہ امیتابھ کے بلاگ میں بھی یہ بات درج ہے ۔

68 سالہ امیتابھ بچن پچھلے دنوں کسی فلم کی شوٹنگ کے لئے پولینڈ گئے تھے جہاں میوزیم کے حکام نے ان سے فنگرپرنٹس کے لئے رابطہ کیا۔ امیتابھ نے اپنے فنگر پرنٹس حکام کے حوالے کردیئے ہیں جو جلد ہی میوزیم میں رکھ دیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ان کے فنگرپرنٹس مائیکل جیکسن کے فنگرپرنٹس کے بالکل برابر میں رکھے جانے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

ابھیشیک بچن بھی سنگر بن گئے

اب ایک خبر امیتابھ بچن کے بیٹے اور اداکار ابھیشیک بچن کے بارے میں۔ ابھیشیک نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی آواز میں گانے ریکارڈ کرانا شروع کردیئے ہیں۔ نئی بھارتی فلم دم مارو دم کا ایک گانا انہوں نے اپنی آواز میں ریکارڈ کرایا ہے جو چند روز میں ریلیز کردیا جائے گا۔ گیت کے بول ہیں ’ٹھائیں۔۔ ٹھائیں۔۔‘

سوناکشی ڈائٹنگ پر یقین نہیں رکھتیں

فلمی دنیا میں کام کرنے والی لڑکیاں اپنے صحت اور رنگ روپ پر بہت وقت اور بہت سا روپیہ خرچ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی خوب صورت اور اسمارٹ نظر آنے کے لئے وہ کیا کچھ نہیں کرتیں۔ لیکن ایک ہیروئن ایسی بھی ہے جو ان سب باتوں سے بے پروا ہے۔ فلم ’دبنگ ‘سے شہرت پانے والی اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ وہ ڈائٹنگ پر یقین نہیں رکھتیں۔ انہیں اپنی فگر کی کوئی فکر نہیں، ان کے نزدیک ان کی فگر’ شاندار‘ہے۔

Comments (0)

palestine flimi news

امریکی یہودی کی اسرائیلی مظالم کے تناظر میں نئی فلم

Posted on ۱۰ اپریل ۲۰۱۱ by editor

اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس فلم کے پریمیئر پر اعتراض کیا جبکہ  کچھ یہودی گروپس کو فلم میں اسرائیل کی منفی تصویر پیش کرنے پر اعتراض ہے۔

واشنگٹن (انٹرٹینمنٹ ڈیسک) ان دنوں امریکہ میں  فلسطینی خواتین پر فلمائی جانے والی ایک نئی فلم بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔ اس فلم کی کہانی  چار ایسی  فلسطینی خواتین کی زندگی کے گرد گھومتی  ہے جنہیں  1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے  1990 تک اسرائیل اور فلسطین کے تنازعےکے باعث مختلف مشکل اور کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔   فلم کے ڈائریکٹر ایک یہودی ہیں لیکن انھوں  نے اپنی فلم کو فلسطینی لوگوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم کے تناظر میں پیش کیا ہے۔

ہند  ال حسینی  ان چار خواتین میں شامل ہے جنھیں اس فلم میں موضوع بنایا گیا ہے۔ ہند الحسینی نے 1948ءمیں یروشلم کے علاقے میں نادار فلسطینی لڑکیوں کے لیے ایک  سکول قائم کیا تھا جہاں ان لڑکیوں کو پناہ دی جاتی  تھی جن کے والدین  اسرائیل فلسطین تنازعے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

میرال اس اسکول میں  1980ء اور 90 ء کی دہائی  کے اوائل میں  پلی بڑھی ۔ یہ وہ زمانہ تھا  جب مغربی کنارےمیں آباد فلسطینیوں نے  اسرائیل کے قبضے کے خلاف  اپنی تحریک کا آغاز کیاتھا۔

میرال نے اس تحریک میں حصہ لیا اور اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگئی۔ اسے قید میں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔  یہ کہانی رولا جبریل  کے لکھے ہوئے ناول پر مبنی  ان کی  آپ بیتی ہے جس میں اسرائیلی ظلم و ستم کو بیان کیا گیا ہے ۔

رولاکا کہنا ہے یہ ایسے نہیں تھا کہ کوئی چیز ہوا اور پھر بات ختم۔ یہ ظلم آج بھی ہور رہا ہے ۔ میں آج  وہ  میرال نہیں ہوں۔ میں نے اپنی زندگی  بنالی ہے، لیکن میرال جیسی بہت سی لڑکیاں آج بھی وہاں موجود ہیں۔ انھیں آج بھی تشدد اور  نسل پرستی کا سامنا ہے۔ 1993ءکے امن معاہدے سے ایک امید کی کرن نظر آئی تھی لیکن وہ بھی ختم ہو چکی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس فلم کے پریمیئر پر اعتراض کیا ہے ۔ جبکہ کچھ یہودی گروپس  کو  فلم میں اسرائیل کی منفی تصویر پیش کرنے پر اعتراض ہے۔

اس فلم کے ڈائریکٹر جولین شنابل  کہتے ہیں کہ انہیں اس تنقید  کی کوئی فکر نہیں، کیونکہ وہ خود ایک یہودی ہیں ۔

جولین کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم تھا کہ کہ اس قسم کا رد عمل ہو گا کیونکہ امریکہ میں اس سے پہلے کسی امریکی یہودی نے ایک فلسطینی  لڑکی کی نظر سے کوئی فلم نہیں بنائی ہے ۔  ظاہر ہے کہ ہمیں یعنی امریکہ میں بسنے والے یہودیوں اور اسرائیل میں بسنے والے یہودیوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس مسئلےکو حل کرنا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ مقبوضہ علاقے میں بسنے والے ان تمام لوگوں کو کچھ پتا نہیں کہ آج ان کا بچہ اسکول سے گھر واپس آئے گا یا نہیں ،اسرائیلی فوجی کی گولی ان کے بچے کی جان لے لے گی۔

جولین نے اس  فلم میں  ایک الجھے ہوئے فلسطینی معاشرے کو نہایت مہارت سے فلمبند کیا ہے ۔ جس میں امن پسندعوام بھی ہیں اور دہشت گرد  اور کرپٹ   شہری بھی۔

فلم کا اختتام 1993ءمیں اوسلو میں ہونے والے امن معاہدے پر ہوتا ہے۔جس میں ایک فلسطینی ریاست  کی راہ  ہموار ہوئی تھی۔  فلم میں ہند   الحسینی میرال کو بتاتی ہے کہ اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ  ایک فلسطینی ریاست  کا قیام دیکھ سکے گی اور اس نے واقعی ایسا ہوتے  ہوئے نہیں دیکھا۔

جولین کوتوقع ہے کہ ان کی  فلم سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پر امن بات چیت کا راستہ  کھلے گا جیسے مصر اور تیونس میں لوگوں نے پرامن انقلاب بر پا کیاہے۔

Comments (0)

Advertise Here
Advertise Here

SEO Powered By SEOPressor