Posted on ۲۷ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
پاکستانی توپخانے پیچھے ہٹانے ، مشقوں کے طریقہ کار پر نئی تجاویز بھارت سے دو روزہ مذاکرات شروع
۔ کنٹرول لائن پر جنگ بندی، دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری آپریشنز اور کوسٹ گارڈز کے درمیان ہاٹ لائن کے معاہدوں پر غور ۔
اسلام آباد ( نامہ نگار) پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں پر دو روزہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہو چکے ہيں جن میں پاکستان کی طرف سے دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری منور سعید خان اور بھارت کی طرف سے یشونت سنہا شریک ہیں ۔پیر کو شروع ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے نادانستہ سرحد عبور
کر کے بھٹک جانے والوں کی واپسی ، سرحد پر توپ خانہ ہٹانے اور مشقوں کے متعلق آگاہ کرنے کے معاملات کو بہتر بنانے کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کیں ۔ واضح رہے کہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی اس موضوع پر معاہدے موجود ہيں جن میں ہاٹ لائن اور 1991 میں ہونے والے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے معاہدے شامل ہیں ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے نئی تجاویز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت نتائج حاصل کرنے پر بھی زور دیا ۔
Posted on ۲۷ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر حال ہی میں ملا عمر کا نام انتہائی مطلب مجرموں کی
فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے
افقانستانی نژاد طالبان رہنما ملا عمر کے ساتھ امریکہ کے جذبات کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ سورج تو مغرب سے نکل
سکتا ہے پر امریکہ ملا عمر کے لیے کوئی نرم گوشہ نہيں رکھ سکتا
۔ مگر اب ایسا ہو چکا ہے
امریکہ کے نفاذ قانون کے ادارے ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر حال ہی میں ملا عمر کا نام انتہائی مطلب مجرموں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے ۔حالانکہ اب سے پہلے تک ملا عمر کی گرفتاری پر ایک کروڑ انعام رکھا گیا تھا ۔
جبکہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان حکیم اللہ محسود کو بدستور ویب سائٹ پر انتہائی مطلوب افراد فہرست میں شامل رکھا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے ملا عمر کا نام نکالے جانے کا مطلب افغان طالبان سے مذاکرات کے عمل کو تیز کرنا ہے تاکہ اتحادی فوج کے انخلا کو پرامن بنایا جاسکے
Read this Article in English
Posted on ۱۷ مئی ۲۰۱۱ by editor
طالبان نے گوانتا ناموبے میں قید 20 افراد کی رہائی،اتحادی افواج کےانخلا اورافغان سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
واشنگٹن (میزان ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ اوباما انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ مذکرات کا
عمل تیز کر دیا ہے اور امریکا کا خیال ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے اب پاکستان اہم نہیں ہے
امریکی اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔ نو دن پہلے قطراور جرمنی میں ملا محمد عمر کے قریبی ساتھیوں سے مذاکرات کیے گئے جن میں عرب اور یورپی ممالک کے غیر سیاسی افراد نے مدد کی ۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام طالبان کا قطر میں مذاکرات کا سنٹر قائم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی ایلچی مارک گراسمین مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ طالبان نے امریکا سے گوانتا ناموبے میں قید 20 افراد کی رہائی،اتحادی افواج کے انخلا اور افغان سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں پرانے کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد ملا عمر کو بھی اپنا کنٹرول ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان کی معاونت ضروری نہیں جبکہ طالبان بھی پاکستان کے بغیر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامند ہیں ۔
Posted on ۱۷ مئی ۲۰۱۱ by admin

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے دعویٰ کہا ہے کہ اسامہ بن لادن ہلاکت سے پہلے امریکی قیدی تھا، حکومت نے اوباما کو دوبارہ صدر بنوانے کے لئے اسے ہلاک کیا۔
سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اس بات کی ٹھوس معلومات ہیں کہ اسامہ طویل عرصے سے امریکی قید میں تھا، اوباما انتظامیہ نے اس کی ہلاکت کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اسامہ کی ہلاکت الیکشن پراپیگنڈہ ہے، اسامہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی استعمال کیا گیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ان کا ملک مستقبل میں بڑی طاقتوں کیساتھ مذاکرات کے حق میں ہے، جوہری معاملات پر مذاکرات کے لئے بھی تیار ہے۔ احمدی نژاد نے کہا کہ ایٹمی معاملے کا بہترین حل ایران کیساتھ تعاون ہے۔
Posted on ۱۵ مئی ۲۰۱۱ by editor
جوڈیشل واچ کا مطالبہ امریکی عوام کا یہ قانونی حق ہے کہ انہیں اُسامہ کی ہلاکت کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی محکمہ دفاع اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی وڈیو، جس میں ان کی
ہلاکت اور تدفین کے مناظر فلمبند ہیں، دکھانے کی ایک درخواست کا فوری جواب دینے سے انکار کر رہا ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کے مطابق امریکہ میں ایک قدامت پسند ادارے نے اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی اور ان کی تدفین کی تصاویر کو منظر عام پر لانے کے لیے قانونی درخواست دائر کی ہے۔
جوڈیشل واچ نامی اس تنظیم نے محکمۂ دفاع سے معلومات حاصل کرنے کے حق کے قانون ’فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ‘ کے تحت مطالبہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کی تصاویر جاری کی جائیں۔ جوڈیشل واچ نے اسامہ کے خلاف کارروائی کے ایک ہی روز بعد اس طرح کی درخواست دائر کی تھی۔ ایک درخواست امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے بھی کی گئی تھی۔ جمعہ کو تنظیم نے واشنگٹن کی ایک عدالت میں قانونی درخواست دائر کی تھی۔
امریکی محکمۂ دفاع نے نو مئی کو جوڈیشل واچ کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ’اس وقت ہم آپ کی درخواست پر معلومات کی فراہمی کے قانون میں دی گئی بیس روز کی مدت کے اندر فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
جوڈیشل واچ نے کہا کہ امریکی عوام کا یہ قانونی حق ہے کہ انہیں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں۔ امریکہ کے صدر براک اوباما نےاعلان کیا تھا کہ مئی دو کی کارروائی کی تصاویر جاری نہیں کی جائیں گی۔
تاہم گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کے کچھ ارکان کو مئی دو کی کارروائی کے بارے میں کچھ مواد دکھایا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ریپبلکن جماعت کے سینیٹر جیمز انہوف بھی ان ارکان کانگریس میں شامل تھے۔انہوف نے بتایا کہ ایک تصویر خوفناک ہے جس میں اسامہ کا بھیجا ان کی آنکھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اے پی کے مطابق انہوف تصاویر جاری کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوف نے کہا کہ مذکورہ ایک تصویر کے علاوہ باقی تصاویر جن میں اسامہ کی میت کو غسل دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا زیادہ پریشان کن نہیں اور انہیں جاری کیا جا سکتا ہے۔
Posted on ۱۴ مئی ۲۰۱۱ by editor
بھارت کا خطے میں کردار تعمیری ہے اور اسے تسلیم کرتے ہیں، پاکستانی طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پرتشدد واقعات کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایبٹ آباد آپریشن میں ہیلی کاپٹر
کی تباہی پر بات کرنے سے انکار کردیا ۔انکا کہنا ہے دہشت گردی سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران مارک ٹونر نےپشاور کے علاقے شبقدر میں ہوئے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا پاکستانی طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پرتشدد واقعات کر سکتے ہیں۔ دھماکوں کا نقصان سب سے زیادہ پاکستانی عوام کا ہو رہا ہے، ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے ترجمان نے کہا دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیداکی جارہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف امریکا اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔اسامہ کی موجودگی کا کسے علم تھااس پرپاکستان میں کئی افواہیں ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کا خطے میں کردار تعمیری ہے اور اسے تسلیم کرتے ہیں اورامریکہ افغانستان میں بھارتی کردار کی حمایت کرتاہےاور اسکے افغانستان میں کردار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
Posted on ۱۳ مئی ۲۰۱۱ by editor
سعودی عرب بحرین کی شاہی حکومت پراپنے پٹھو کواقتدارمیں دیکھنا چاہیتا ہےاور 75 سالہ وزیراعظم کی پشت پناہی کررہا ہے۔
منامہ (میزان ڈیسک) بحرین کی شاہی حکومت سعودی فوج کی بحرین میں طویل المدت قیام اوربعض
جمہوری حقوق دینے کے سوال پرتقسیم نظرآتی ہے،بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جون 2011ء میں ملک سے ایمرجنسی ختم کردی جائے گی اور سعودی فوف کو اپنے ملک جانے کا کہا جائےگا،ملک کے وزیراعظم اور بادشاہ کے75 سالہ چچا خلیفہ بن حمد نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے40سال سے وزیراعظم کے منصب پر فائز خلیفہ بن حمد ایک انتہائی متشدد انسان ہیں بادشاہ حمد بن عیسیٰ کے فیصلوں کی نہ صرف مخالفت کررہے ہیں بلکہ سعودی شہ پر اختلافی اُمور کو اپنے حامیوں تک پہنچا دیا ہے،جسکی وجہ سے شاہی خاندان اور اُنکے حامیوں کے درمیان تناو پیدا ہوگیا ہے رفاع،حد،محرق،بدیع کے مقامات پر شاہی خاندان اور اِن کے حامیوں کے درمیان لڑائی کی غیر مصدقہ اطلاعات عالمی پریس کو موصول ہورہی ہیں۔
وزیراعظم خلیفہ بن حمد بحرین سے سعودی فوجوں کی واپسی کی شدید مخالفت کررہے ہیں جبکہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے بحرین کے بادشاہ حمد بن خلیفہ کو دھمکی دی ہےکہ وہ وزیراعظم کے سلسلے میں احتیاط سے کام لیں وگرنہ سعودی عرب مزید افواج بحرین بھیج سکتا ہےاوریہ کہ سعودی فوج بحرین سے نہیں جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب بحرین کی شاہی حکومت پر اپنے پٹھو کو اقتدار میں دیکھنا چاہیتا ہےاور حمد بن عیسیٰ کے مقابلے میں 75 سالہ وزیراعظم کی پشت پناہی کررہا ہے۔
دوسری طرف آج جمعہ کو امریکی کانگریس ہیومن رائٹس واچ،ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم،بحرینی انسانی حقوق کا دفترکی مشترکہ بریفنگ کے بعد بحرین میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لےگی،خیال کیا جارہا ہے کہ امریکی کانگریس بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لےگی اوراپنی حکومت کو اقدامات کرنے کو کہے گی۔
Posted on ۱۲ مئی ۲۰۱۱ by editor
بھارتی وزیراعظم اپنے دورے کے دوران افغان صدر سے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے
کابل (میزان ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ اُن کا ملک افغانستان میں
طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی صدر حامد کرزئی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور افغان حکومت تعمیر نو کے عمل میں بھارت پر انحصار کرسکتی ہے۔
وہ جمعرات کو دور روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں دیگر اعلیٰ افغان عہدے داروں کے علاوہ صدر کرزئی بھی موجود تھے۔
ترقیاتی کوششوں میں بھارت اُپ کا ہمسایہ اور ساتھی ہے۔ آپ اپنے معاشرے، معیشت اور نظام سیاست کی تعمیر میں ہم پر انحصار کرسکتے ہیں۔
من موہن سنگھ اور صدر کرزئی کے درمیان بات چیت میں علاقائی استحکام، انسداد دہشت گردی اور دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک شراکتداری کے موضوعات زیر بحث آئے۔
افغانستان کے صدرحامد کرزئی ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں طالبان عسکریت پسندوں کو تشدد ترک کر کے اُنھیں قومی دھارے میں شامل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں افغان رہنما کی ان کوششوں کی حمایت کی۔ ہم افغان عوام کی امن و مصالحت کی کوششوں کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ بھارت متحد، خودمختار اور خوشحال افغانستان کا حامی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کا سلسلہ ختم ہو اور ملک کی تعمیر نو افغان عوام کی مرضی کے مطابق کی جائے۔
بھارتی عہدے داروں کے مطابق اپنے دورے میں من موہن سنگھ افغانستان کے لیے ایک مالی پیکج کا اعلان بھی کریں گے۔ بھارت افغانستان میں قومی شاہراوں، ہسپتالوں اور بجلی کے نظام کی تعمیر پر ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ افغان پولیس، عدلیہ اور سفارتی شعبوں کی تعمیر نو کے منصوبوں میں بھی نئی دہلی نے کابل کی معاونت کی ہے۔
اس سے قبل 2005ء میں من موہن سنگھ نے افغانستان کادورہ کیا تھا جبکہ صدر کرزئی کئی مرتبہ بھارت کے سرکاری دورے کرچکے ہیں جن میں اس سال فروری کا دورہ بھی شامل ہے۔
من موہن سنگھ نے کہا کہ صدر کرزئی کی قیادت میں افغانستان نے نمایاں ترقی کی ہے۔ بھارت کے ساتھ اُن کی دوستی نے بھارتی عوام کے دل و دماغ جیت لیے ہیں
دورے کے آغاز میں من موہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر بھارت پر بھی پڑتا ہے اور افغانستان میں تعمیر نو کی کوششوں میں کامیابی کے بغیر یہ خطہ خوشحال نہیں ہوسکتا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سنگھ اپنے دورے کے دوران افغان صدر حامد کرزئی سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے جنہیں امریکی کمانڈوز نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کارروائی کرکے ہلاک کردیا تھا۔
Posted on ۱۲ مئی ۲۰۱۱ by editor
ایران نے بحرین کے عوام پر انسانیت سوز تشدد کی مذمت اور شاہی حکومت سےعوام کو حقوق دینےکا مطالبہ کیا ہے۔
تہران (میزان ڈیسک) بحرین میں عوامی تحریک میں تیزی آنے کےبعد بحرین کے بادشاہ نے اپنے
ملک کا سیاسی بحران حل کرنے کےلۓ ایران سے مدد کی اپیل کی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے بحرین کی اعلی کونسل برائے اسلامی امور کے اراکین سےملاقات میں کہا ہےکہ بحرین اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور چاہتاہےکہ ایران بحرین کے سیاسی بحرین کو حل کرنےمیں مدد کرے۔ یادرہے ملت بحرین چودہ فروری سے اپنے حقوق کا مطالبہ کررہی ہے ۔ ملت بحرین آل خلیفہ کی استبدادی اور آمر حکومت کے خاتمے کی خواہاں ہے۔ بحرینی حکومت نے عوامی مظاہروں اور احتجاج کو کچلنے کےلئے سعودی عرب کی فوجی امداد کے سہارے دسیوں افراد کو شہید اور ہزاروں کوگرفتار کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے علاقائی ملکوں میں امن و استحکام کی ضرورت پرتاکید کرتےہوئے آل خلیفہ حکومت کے کارندوں اورسعودی عرب کی فوج کے ہاتھوں بحرین کے عوام پر انسانیت سوز تشدد کی مذمت کی ہے اور شاہی حکومت سے بحرینی عوام کو حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Posted on ۱۱ مئی ۲۰۱۱ by editor
رافیل بنڈانڈی نے پیش گوئی کی تھی کہ 11 مئی، 2011ء کو آنے والا ایک تباہ کن زلزلہ اٹلی کے دارالحکومت کو ملیامیٹ کر دے گا
اٹلی (نیوزڈیسک) اطالوی حکام پریشانی میں مبتلا لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر
رہے ہیں کہ ایک مشتبہ پیش گوئی کے برعکس بدھ کو زلزلے سے تاریخی شہر روم تباہ نہیں ہو گا۔
باور کیا جاتا ہے کہ زلزلہ نگاری کے ایک ماہر رافیل بنڈانڈی نے پیش گوئی کی تھی کہ 11 مئی، 2011ء کو آنے والا ایک تباہ کن زلزلہ اٹلی کے دارالحکومت کو ملیامیٹ کر دے گا۔ بنڈانڈی سنہ 1979ء میں انتقال کر گئے تھے۔
بنڈانڈی کی زلزلوں کے حوالے سے پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں، لیکن اُن کی تصنیفات کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے کبھی روم کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی۔ اس کے باوجو روم کے کئی رہائشی اپنی دکانیں اور مکانات کو تالے لگانے کے بعد شہر چھوڑ گئے ہیں۔
اطالوی حکام نے سرکاری ویب سائٹس پر یہ پیغامات بھی شائع کیے ہیں کے زلزلوں کی پیش گوئی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے اور یہ کہ روم کا شمار اُن علاقوں میں نہیں ہوتا جہاں زلزلے آنے کا خطرہ رہتا ہے۔ حکام نے شہریوں کو ٹیلی فون پر اس بارے میں مفت معلومات فراہم کرنے کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔
اٹلی میں آخری تباہ کن زلزلہ 2009ء میں وسطی شہر L’Aquila میں آیا تھا جس سے تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 6.3 شدت کے اس زلزلے کے جھٹکے تقریباً 120 کلومیٹر مغرب میں روم میں بھی محسوس کیے گئے تھے تاہم ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔