Posted on ۱۳ مئی ۲۰۱۱ by editor
سعودی عرب بحرین کی شاہی حکومت پراپنے پٹھو کواقتدارمیں دیکھنا چاہیتا ہےاور 75 سالہ وزیراعظم کی پشت پناہی کررہا ہے۔
منامہ (میزان ڈیسک) بحرین کی شاہی حکومت سعودی فوج کی بحرین میں طویل المدت قیام اوربعض
جمہوری حقوق دینے کے سوال پرتقسیم نظرآتی ہے،بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جون 2011ء میں ملک سے ایمرجنسی ختم کردی جائے گی اور سعودی فوف کو اپنے ملک جانے کا کہا جائےگا،ملک کے وزیراعظم اور بادشاہ کے75 سالہ چچا خلیفہ بن حمد نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے40سال سے وزیراعظم کے منصب پر فائز خلیفہ بن حمد ایک انتہائی متشدد انسان ہیں بادشاہ حمد بن عیسیٰ کے فیصلوں کی نہ صرف مخالفت کررہے ہیں بلکہ سعودی شہ پر اختلافی اُمور کو اپنے حامیوں تک پہنچا دیا ہے،جسکی وجہ سے شاہی خاندان اور اُنکے حامیوں کے درمیان تناو پیدا ہوگیا ہے رفاع،حد،محرق،بدیع کے مقامات پر شاہی خاندان اور اِن کے حامیوں کے درمیان لڑائی کی غیر مصدقہ اطلاعات عالمی پریس کو موصول ہورہی ہیں۔
وزیراعظم خلیفہ بن حمد بحرین سے سعودی فوجوں کی واپسی کی شدید مخالفت کررہے ہیں جبکہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے بحرین کے بادشاہ حمد بن خلیفہ کو دھمکی دی ہےکہ وہ وزیراعظم کے سلسلے میں احتیاط سے کام لیں وگرنہ سعودی عرب مزید افواج بحرین بھیج سکتا ہےاوریہ کہ سعودی فوج بحرین سے نہیں جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب بحرین کی شاہی حکومت پر اپنے پٹھو کو اقتدار میں دیکھنا چاہیتا ہےاور حمد بن عیسیٰ کے مقابلے میں 75 سالہ وزیراعظم کی پشت پناہی کررہا ہے۔
دوسری طرف آج جمعہ کو امریکی کانگریس ہیومن رائٹس واچ،ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم،بحرینی انسانی حقوق کا دفترکی مشترکہ بریفنگ کے بعد بحرین میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لےگی،خیال کیا جارہا ہے کہ امریکی کانگریس بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لےگی اوراپنی حکومت کو اقدامات کرنے کو کہے گی۔
Posted on ۲۸ اپریل ۲۰۱۱ by editor
صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں مسلم لیگ (ق) کے وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ملاقات کی
اسلام آباد (نیوزڈیسک) صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں مسلم لیگ (ق) کے وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں ملاقات کی ، اس سے قبل مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی کمیٹی نے حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلے
کا اختیار چوہدری شجاعت حسین کو دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کے وفد میں چوہدری پرویز الہی اور فیصل صالح حیات بھی موجود تھے ذرائع کے مطابق اس موقع پر دونوں جماعتوں کی قیادت نے مستقبل کے اتحاد پر بات چیت کی اور کابینہ میں شمولیت کے امور کو حتمی شکل دی ۔
قبل ازیں مسلم لیگ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں اراکین کی اکثریت نے چوہدری شجاعت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا اختیار چوہدری شجاعت حسین کو ددیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے (ق) لیگ کے مفاہمتی مسودے پر لچکدار رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے موجودہ وزرا ء کے محکموں میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے اور چودھری احمد مختار کو وزارت پانی و بجلی کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے۔
Posted on ۱۴ اپریل ۲۰۱۱ by editor
چھوٹی اسکرین کی معروف اداکارہ سعدیہ امام نےگلوکار راحت فتح علی خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
لاہور(نیوزڈیسک) ٹی وی کی معروف اداکارہ سعدیہ امام نے گلوکار راحت فتح علی خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کااظہار کردیا۔ معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان جو دنیا بھرکو اپنی گائیکی کے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ ان کی ایک اور مداح
اداکارہ سعدیہ امام نے کہا کہ اب تک انہیں کئی گلوکاروں نے اپنی ویڈیو میں کام کرنے کی آفر کی ہے لیکن ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ راحت فتح علی خان کے گانے میں پرفارم کریں ۔
سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ راحت فتح علی جیسا لیجینڈ پاکستانی قوم کے لئے فخر کا باعث ہے۔ جنھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے
Posted on ۱۳ اپریل ۲۰۱۱ by editor
ہر مرتبہ مرد ہی قصور وار نہیں ہوتا اور یہ مائنڈ سٹ ختم ہونا چائیے کہ عورت ہی ظلم کی چکی میں پستی ہے۔
کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان میں عورتوں کے خلاف تشدد روز کا معمول ہے دنیا بھر سے مالی وسائل حاصل کرنے والی این جی اوز پاکستان کے دور دارزپاسماندہ علاقوں کے چکر لگاتی ہیں اور عورتوں پر مظالم کی داستان دنیا بھر میں عام کرتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ متاثرہ عورت کو اس کا کتنا فائدہ پہنچتا ہے، یہ الزام کہ پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز بیرونی ایجنڈے پر کام کررہی ہیں مطلقا درست نہیں ہے،پاکستان ،افغانستان،بھارت اورخلیجی عرب مملک جہان عمومی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تناسب سب سے زیادہ ہےلہذا اِن ملکوں میں این جی اوز کا کردار کا مثبت ہونا ضروری ہے،اب بحرین کو ہی لیں وہاں ہرروز عورتوں کیساتھ حکام دست داری کررہے ہیں لیکن اس پر سب کی خاموشی ہے۔
پاکستان میں عورتوں پر تشدد اور اُن کے حقوق کی پامالی کے زیادہ واقعات قبائلی معاشرے میں ہوتے ہیں اور ایسی ایسی سزائیں تجویز کی جاتی ہیں جنھیں متمدن دنیا میں وحشت اور بربریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں شہری علاقوں میں عورت کیساتھ زیادہ دیر تک انسانیت سوز رویہ اختیار کرنا ممکن نہیں لہذا شہری علاقوں میں عورت کو جلا کر قصّہ تمام کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔
اب آئیے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون چلتے ہیں،جہاں ایک شوہر کو مبینہ طور پر بیوی نے اپنے بھائیوں کیساتھ ملکر جلا دیا جو بعد ازاں دوران علاج دم توڑ گیا۔ متوفی 30 سالہ غفار کے معالج نے بتایا کہ وہ سو فیصد تک جھلس چکا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک مرد پرعورت کے ہاتھوں مبینہ ظلم پر کون کون سی این جی اوز سامنے آتی ہیں۔ مردوں پر مظالم کی روک تھام کیلئے بھی آواز ضرور اُٹھانی چائیے کیونکہ ہر مرتبہ مرد ہی قصور وار نہیں ہوتا اور یہ مائنڈ سٹ ختم ہونا چائیے کہ عورت ہی ظلم کی چکی میں پستی ہے۔
Posted on ۰۹ اپریل ۲۰۱۱ by admin
برطانیہ میں غیر قانونی حراستوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کیج پرزنرز کے عاصم قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو سو سے زائد غیر قانونی حراستی مراکز ہیں۔ بی بی سی نامہ نگار ہارون رشید کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صورتِ حال بہت خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ڈرون حملے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Posted on ۰۱ اپریل ۲۰۱۱ by editor
فلوریڈا کے ایک کلیسا میں شیطان صفت پادری ٹیری جونز کا قرآن کریم کو آگ لگانے کا اقدام شرمناک و تعصب پر مبنی ہے اور عالمی امن
کیلئے خطرہ ہے
اسلامی کانفرنس تنظیم نے قرآن کریم کی شان میں ایک امریکی پادری کی گستاخانہ حرکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں رکن ملکوں کے نمائندوں کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کئے گئے بیان میں قرآن کریم کو آگ لگانے پر مبنی امریکی پادری کے نفرت انگیز اقدام کو انتہائی شرمناک اور متعصبانہ قراردیا گیا اور اس کی مذمت کی گئی۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک کلیسا میں شیطان صفت پادری ٹیری جونز کی سرپرستی میں اسلامی اقدار کی اہانت کرتے ہوئے قرآن کریم کو آگ لگائی ۔ اسلامی کانفرنس تنظیم نے اپنے بیا ن میں کہا ہے کہ یہ انتہاپسندانہ اقدام ایک خاص متعصبانہ سوچ کی علامت ہے،او آئی سی اس طرح کے اقدام کو کلیسا جیسے مقدس مقام پر انجام دئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اسلامی کانفرنس تنظیم نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عالمی امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہيں او آئی سی نے ساتھ ہی عالمی برادری سے بھی کہا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدام کی مذمت کرے ۔