Posted on ۰۴ جنوری ۲۰۱۲ by admin
سپریم کورٹ آف پاکستان کے میمو گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ یہ نوٹسز چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن نے آصف علی زرداری سمیت فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی اور مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کو جاری کیے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو میمو سے متعلق آئینی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا اور معاملے کی چھان بین کے لیے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ کمیشن 4 ہفتے میں کام مکمل کرلے گا ۔
جب کہ دوسری طرف میمو گیٹ کی شروعات میں ہی عدلیہ کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اپنانے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان سمیت وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان، قمرزمان کائرہ، خورشید شاہ اور فاروق اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ۔ سپریم کورٹ میں عدالتی فیصلے کے خلاف تضحیک آمیز پریس کانفرنس کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ عدالت میں 1دسمبر کو بابر اعوان کی پریس کانفرنس کا تحریری متن پڑھ کر سنایاگیا۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ مذکورہ پریس کانفرنس میں عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں توہین کا پہلو بھی نکلتا ہے ۔ بعد ازا ںسپریم کورٹ نے بابر اعوان کے علاوہ فردوس عاشق اعوان ،خورشید شاہ اور قمرزمان کائرہ کو توہین عدالت کےنوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13جنوری تک ملتوی کردی ۔
یادرہے 1 دسمبر کو میمو گیٹ کیس کی سماعت کے بعد بابر اعوان نے دیگر وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے میمو اسکینڈ ل پر تشکیل دیئے جانے والا کمیشن غیر آئینی ہے کیوں کہ کمیشن کی تشکیل دینے کا اختیار صرف انتظامیہ کے پاس ہے۔ آئن معاہدہ عمرانی کی آخری دستاویز ہے اسے پس پشت ڈالنے کی کوشش کی ہو رہی ہے لیکن اسے کامیاب نہیں دیں گے۔
قانون پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ توہین عدالت کے مرتکب افراد اگر کسی سرکاری عہدے پر فائز ہوں تو ان کا وہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ پبلک آفس کےلئے نااہل ہوجاتےہیں
Posted on ۰۳ جنوری ۲۰۱۲ by admin
کراچی، __ جعلی دواؤں کے خلاف منگل کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پرایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جعلی ادویات کی تیاری، انہیں ذخیرہ کرنے، استعمال کو روکنے اور ان کی فروخت روکنے کے لیے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔یہ قرارداد مسلم لیگ (فنکشنل) کی رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے پیش کی گئی ۔

نصرت سحر عباسی نے کہا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر جعلی دوائیں فروخت ہو رہی ہیں۔انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے ان پر پابندی ضروری ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سندھ کے صدر جام تماچی انڑ نے کہا کہ جعلی دواؤں کی تیاری اور فروخت میں حکومت سندھ کے اہل کار بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔بعد ازمیعاد اور نقلی دوائیں خریدلی جاتی ہیں۔ دواؤں کی خرید کے لیے ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔اسپورٹس منسٹر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے کہا کہ جعلی دواؤں کے ساتھ ساتھ جعلی آکسیجن سلنڈرز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ جو کہ ایک بہت بڑا جرم ہے۔دیگر ارکان نے بھی اپنی تقریر میں جعلی دوائیں بنانے والی فیکٹریوں کو بند کرنے اور اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
Posted on ۲۹ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر آج سہ پہر تین بجے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس سرجن باقر شاہ جاں بحق ہو گئے. چند ماہ پہلے خروٹ آباد والے واقعے کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ دلیری سے منصافانہ طریقے سے عوام کے سامنے لانے پر ڈاکٹر باقر شاہ کو دھمکیوں کا سامنا تھا ۔
ڈاکٹر باقر شاہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں پولیس سرجن کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔ وقوعے کے وقت ڈاکٹر باقر شاہ اپنی گاڑی میں بی ایم سی سے عیسیٰ نگری جا رہے تھے کہ راستے میں دو نامعلوم نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے سبزل روڈ پر عیسیٰ نگری موڑ کے قریب ان کی گاڑی روک کر ان پر نائن ایم ایم سے
اندھا دھند فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں ڈاکٹر باقر شاہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملہ آورجائے وقوعہ سے فرار ہوگئے۔ ان کے نائب قاصد نے انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا ۔ پولیس کے مطابق مقتول ڈاکٹر باقر کو پانچ گولیاں لگیں ۔ اس سے قبل بھی ڈاکٹر باقر شاہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے جس پر محکمہ نے تحقیقات کےلئے ٹیم تشکیل دی تھی اور ان کو زخمی کرنے کے الزام میں دو پولیس اہل کاروں کو معطل کردیا تھا ۔ ڈاکٹر باقر نے سانحۂ خروٹ آباد میں پولیس اور ایف سی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں مقتولین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا تھا اور اسکی رپورٹ کی تھی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر باقر پر بہت دباﺅ ڈالا گیا جس کا انہوں نے ذرائع ابلاغ سے اظہار بھی کیا تھا ۔ انہوں نے ہہ بھی کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ جس کے بعد کل کے واقعے میں سانحۂ خروٹ آباد کے تقریباً سات ماہ بعد ڈاکٹر باقر شاہ کو نامعلوم افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس کے افسران اور دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے ۔ ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کی خبرآن واحد میں شہر میں پھیل گئی۔ ڈاکٹرز ، میڈیکل سٹاف اور شعبۂ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بی ایم سی ہسپتال پہنچ گئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے غفلت برتنے والے پولیس اہل کاروں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا ہے جب کہ پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ہڑتال کی کال دی ہے ۔
Posted on ۲۹ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
حکومت سندھ نے گٹکے اور مین پوری کو مضرصحت قرار دیتے ہوئے اس کی تیاری اور خریدوفروخت پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کردی ہے۔ واضح رہے کہ گٹکا اور مین پوری پر یہ پابندی اب سے کجھ ماہ قبل ستمبر میں بھی لگائی گئی تھی ۔ صوبائی محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق سندھ میں مین پوری اور گٹکا کی کھلے عام فروخت کی
وجہ سے اس کی تیاری اور خریدوفروخت پر فوری طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق گٹکے اور مین پوری کے استعمال سے بیماریوں خاص طور پر منہ کے کینسر میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جب کہ دوسری طرف گٹکے میں انتہائی مضر صحت اور غلیظ اشیا ء کے استعمال کے باوجود شہری اس نشے کے عادی ہو چکے ہیں ۔ محکمہ داخلہ نے اس سلسلے میں سب انسپکٹر رینک تک کے افسر کو اس قانون کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کرنے کا اختیار دیا ہے اور فوری طور پر گٹکے اور مین پوری کی خرید و فروخت اور تیاری پر پابندی عائد کردی ہے ۔ صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کے مطابق اس پابندی کا مقصد عوام کی صحت کا خیال رکھنا ہے ۔
Posted on ۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
دو مہینے پہلے پر اسرار طور پر قتل ہونے والی بچیوں کے قاتل کا پتہ چلا لیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق کراچی اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں پندرہ اکتوبر 2011 کی رات شیر محمد کی تین معذور بیٹیوں کی لاش اس کے گھر کے ٹنکی میں پڑي ہوئی ملی ۔ جس کے بعد ملزم نے گھر سے باہر آ کر شور مچانا شروع کر دیا ۔ اور محلے داروں کی مدد سے لاشوں کو نکالا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پرپولیس نے تفتیش شروع کر دی واقعہ کے بعد ملزم نے ایف آئی آر میں نا معلوم افراد پر شبہ ظاہر کیا مگر پولیس نے ملزم کے رویے کی وجہ سے اس کو مشکوک سمجھا اور اس کو حراست میں لے لیا جس کے نتیجے میں اب تینوں مقتول بچیوں کے باپ نے اعتراف جرم کرلیا۔
ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ نشے کی حالت میں گھر میں داخل ہوا اور تینوں بیٹیوں کو بے رحمی سے قتل کیا۔ملزم کا کہنا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے گناہ پر شرمسار ہے۔
Posted on ۲۷ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
فیصل آباد صنعتوں کو گیس کی معطلی چھٹے روز میں داخل
گزشتہ چھ روز سے گیس لوڈ مینجمنٹ کے مسئلے کا شکار فیصل آباد شہر غصے سے ابل پڑا ۔ صنعت کاروں نے بل نہ ادا کرنے کا اعلان کیا ۔ اور سر عام بل اور سوئی گیس کے نوٹس ز کو آگ لگا دی ۔
ڈیرہ غازی میں بھی گیس کی بندش کے خلاف عورتوں اور بچوں نے جلاؤ گھیراؤ کیا ۔
فیصل آباد میں گیس کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے پیداری عمل بری طرح متاثر ہے ۔ جس پر سوئی سدرن نے متعلقہ کمپنیز کو نوٹس ز بھیجے ۔ جس کی صنعت کاروں نے کوئی نوٹس لیے بغیر آگ لگا دی ۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے رانا عارف نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل اندسٹری گیس کے مسئلے کی وجہ سے پورا ہفتہ بند رہنے لگی ہے ۔ فیصل آباد کے بعد اب ڈیرہ غازی میں بھی اب سوئی گیس کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ جس پر عوام بے حد مشتعل ہیں ۔
سوئی ناردرن گیس کی جانب سے جاری لوڈ مینجمنٹ شیڈول کے مطابق فیصل آباد کی صنعتوں کو کئی گھنٹے تک
گیس کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔ آل پاکستان پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق محکمہ سوئی گیس نے صبح چھ بجے کے بجائے رات نو بجے سے ہی شہر میں گیس کا پریشر کم کردیا تھاجس کے باعث مشینیں بند ہوگئیں اور کارخانوں میں پیداواری عمل رک گیا۔