جامعہ کراچی میں مارک شیٹ کے حصول کی فیسوں میں جعلسازی اور خورد برد کے خاتمے کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا ہے۔
جس سے جامعہ کراچی کو سالانہ 25 سے 30 لاکھ روپے کا فائدہ ہوگا۔اس سلسلے میں مارک شیٹ کے حصول کے لئے کمپیوٹر ائزڈ واؤ چرز جار
ی کئے جائیں گے۔
اس سے پہلے عام فیس پر ارجنٹ اور فوری مارک شیٹ نکلوائی جاتی تھیں جس سے جامعہ کراچی کو مالی نقصان ہورہا تھا اور عملہ ان مارک شیٹ کے عمل میں مصروف رہتا تھا جس سے روز مرہ کے کام میں تاخیر ہوتی تھی ۔ جس کے لیے اوریکل سسٹم رائج کیا گیا ہے ۔اس سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر کمپیوٹرائزڈ واؤچر جاری کیا جائے گا اور فیس کے عمل کے ساتھ ساتھ مارک شیٹ کے اجراءکو بھی شفاف بنایا جائے گا ۔ مانیٹرنگ سیل بنانے کے بعد جمع ہونے والی فیس کا ایک واؤ چر اس مانیٹرنگ سیل کو فراہم کیا جائے گا۔اس طرح عام فیس پر ارجنٹ مارک شیٹ حاصل کرنے کے عمل کی جعل سازی کو روکا جاسکے گا ۔
ترجمان جامعہ کراچی کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ عام فیس پر ارجنٹ اور فوری مارک شیٹ نکلوائی جاتی تھیں جس سے جامعہ کراچی کو مالی نقصان ہورہا تھا اور عملہ ان مارک شیٹ کے عمل میں مصروف رہتا تھا جس سے روز مرہ کے کام میں تاخیر ہوتی تھی ۔
اس عمل کو بہتر بنانے کے لئے پرووائس چانسلر پروفیسر ناصر الدین خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ مارک شیٹ کے عمل کو شفاف بنانے اور مقررہ فیسوں میں خورد برد وجعلساری روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں جس پر کمپیوٹر کے بہترین اور معروف سوفٹ وئیر اوریکل سسٹم کو شعبہ امتحانات میں متعارف کرایا ہے۔





