Posted on ۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
کل سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کیس کی سماعت کے دوران امریکا میں سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی
سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میمو کے معاملے پر عدالت درخواست گزارکے موقف سے پہلے ہی متاثرنظرآتی ہے۔ ایسی صورت میں انہیں اپنی درخواست میں تعصب کا الزام لگانا پڑے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان حلفی کی تردید نہیں کی ۔ صدر کے جواب نہ دینے کا کیا مطلب لیاجائے۔ عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ میموکیس صرف کاغذ کے ایک ٹکڑے کا وجود ہے اور الزام امریکا کے وفادارشہری کی جانب سے لگایا گیا ہے۔ہمیں عوامی اہمیت اوربنیادی حقوق کی حدود کا تعین کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میمو سیاسی معاملہ ہے اور مقدمہ آئی ایس آئی کا سربراہ عدالت میں لایا ہے۔عسکری قیادت اورحکومت کے درمیان تناؤ ہےجس میں حسین حقانی کو بکرا بنایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے ذریعے دس اکتوبر2011 کو منظر عام پر آنے والے امریکی ایڈمرل مائیک مولن کے نام حسین حقانی کے مبینہ میمو کیخلاف سپریم کورٹ میں پہلی درخواست وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفرالله خان نے انیس نومبر کو دائر کی۔ 21 نومبر کو طارق اسد ایڈووکیٹ نے اس موضوع پر دوسری درخواست دائر کی۔ 23 سے 25نومبر تک مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ سات مزید درخواستیں عدالت میں جمع کرائیں جن میں صدر آصف علی زرداری کو بھی فریق بنایا گیا۔
کل کی سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا حسین حقانی نے یہ نہیں لکھا کہ انہوں نے 16 نومبرکومستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جس پر عاصمہ جہانگیر نے بات کو آئیں بائیں شائیں کرنے کوشش کی ۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نہیں، آئین وقانون بادشاہ ہے۔ ہم آئین اور حلف کی پاسداری کریں گے ۔ان کا کہنا ہم چاہتے ہیں کہ سب شواہد سامنے آئیں ۔حکومت نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان حلفی کی تردید نہیں کی ۔صرف اپنا موقف دیا ہے جبکہ صدر نے اب تک جواب نہیں دیا ۔ عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ملکی فلاح اورعوامی بہبود صرف وزیراعظم کا کام ہے عدالت کوان جھگڑوں سے نکال دیا گیا ہے ۔ میں اس شرط پرانکوائری چاہتی ہوں کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل لے کرآسکوں ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میمو کے معاملے پر حکومت کو ہر قسم کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرے ۔ یہ بھی پوچھا جائے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا منصور اعجاز سے رابطہ کب ،کیسے اور کیوں ہوا ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر کے جواب کے حوالے سے ان کے پاس کوئی ہدایات نہیں ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ میموکی تحقیقات وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے خط لکھ کرپارلیمانی کمیٹی کو سونپ دیں ۔یہ بات پارلیمنٹ کوکم ترکرنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم بھی پارلیمنٹ کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتے ۔عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر اور دیگر فریقین کو ہدایت کی کہ وہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دلائل کل تک مکمل کر لیں ۔
دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقعے پر صدر آصف علی زرداری نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں پوچھتا ہوں چوہدری افتخار صاحب سے کہ بی بی کے کیس کا کیا ہوا؟‘صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ’عدالتیں میرے ماتحت نہیں ہیں ۔ کاش ایسا ہوتا کہ ہوتیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ صدر نے چیف جسٹس سے پوچھا ’ آپ کو دوسرے کیس بڑی جلدی نظر آ جاتے ہیں ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا جو کیس میں نے آپ کے پاس بھیجا ہوا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا ۔‘
Posted on ۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ by NoorAtt
عوام کو روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دینے والی جماعت اپنے ہی کارکنوں کی خودکشی سے پریشان
مرحومہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر پی پی کے چند کارکنوں نے گڑھی خدا بخش میں اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر خود سوزی کی کوشش کی ہے۔
موقع پر موجود دیگر کارکن انہیں بچانے میں کامیاب ہوگئے تاہم کارکنوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر صدر زرداری کی آمد کے بعد بھی ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ اجتماعی خود سوزی کر لینگے
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے20سے25کارکنوں نے گذشتہ رات اپنی قیادت سے روز گار کے لیے ملاقات کی کوشش کی اور آج صبح مایوسی کی حالت میں خود کو زنجیروں سے جکڑ کر تیل چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی۔

- People party worker try to sucide
Posted on ۱۷ مئی ۲۰۱۱ by editor
صہیب المکی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں سرگرم القاعدہ رہنماؤں کی براہِ راست ماتحتی میں کام کر رہا تھا۔
کراچی (میزان نیوز) پاک فوج کومنگل کے روز کراچی میں القائدہ کیخلاف ربردست کامیابی ملی ہے۔ پاک فوج
کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے سینیئر رہنما ابو صہیب المکی کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا محمد علی قاسم یعقوب المعروف ابو صہیب المکی کو سکیورٹی ایجنسیوں نے پاکستان کے سب سےبڑے کراچی سے حراست میں لیا ہے۔ بیان کے مطابق ابو صہیب المکی کا تعلق یمن سے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ القاعدہ رہنما سے ہونے والی ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں سرگرم القاعدہ رہنماؤں کی براہِ راست ماتحتی میں کام کر رہا تھا۔ آئی ایس پی آر نے ابو صہیب المکی کی گرفتاری سے خطے میں القاعدہ کے نیٹ ورک اور آپریشنز کو سامنے لانے میں مدد ملے گی۔
یہ کراچی سے کسی اہم القاعدہ رہنما کی گرفتاری کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل ستمبر دو ہزار دو میں کراچی سے پاکستانی سکیورٹی دستوں نے امریکی انٹیلیجنس کی مدد سے رمزی بن الشبہ نامی القاعدہ رہنما کو ایک مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں عسکری ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن دلان کی ہلاکت کے بعد اس تنظیم کی حمایت کرنے والے افراد کی تلاش کے سلسلے میں مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔
اس آپریشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خالصتاً عسکری خفیہ اداروں کا آپریشن ہے اور اس میں سویلین خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
Posted on ۱۷ مئی ۲۰۱۱ by editor
طالبان نے گوانتا ناموبے میں قید 20 افراد کی رہائی،اتحادی افواج کےانخلا اورافغان سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
واشنگٹن (میزان ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ اوباما انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ مذکرات کا
عمل تیز کر دیا ہے اور امریکا کا خیال ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے اب پاکستان اہم نہیں ہے
امریکی اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔ نو دن پہلے قطراور جرمنی میں ملا محمد عمر کے قریبی ساتھیوں سے مذاکرات کیے گئے جن میں عرب اور یورپی ممالک کے غیر سیاسی افراد نے مدد کی ۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام طالبان کا قطر میں مذاکرات کا سنٹر قائم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کیلئے امریکی ایلچی مارک گراسمین مذاکرات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ طالبان نے امریکا سے گوانتا ناموبے میں قید 20 افراد کی رہائی،اتحادی افواج کے انخلا اور افغان سیاست میں اہم کردار حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں پرانے کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد ملا عمر کو بھی اپنا کنٹرول ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان کی معاونت ضروری نہیں جبکہ طالبان بھی پاکستان کے بغیر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامند ہیں ۔
Posted on ۱۷ مئی ۲۰۱۱ by editor
مورچے میں موجود دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے، ایک کی حالت نازک ہے۔ پاک افغان سرحد پر کچھ عرصےسے کشیدگی
پشاور (میزان نیوز) پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحد پر قائم ایک پاکستانی مورچے پر امریکی گن شپ ہیلی کاپٹرز کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کے قبائلی علاقے
شمالی وزیرستان میں دتہ خیل کے علاقے وچہ دیدی میں منگل کی صبح نو بجے کے قریب پیش آیا۔ انتظامیہ کے مطابق امریکی ہیلی کاپٹرز نے افغان علاقے سے ہی پاکستانی مورچے کو نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں مورچے میں موجود دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں میران شاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔
خیال رہے کہ دتہ خیل کے علاقے میں سرحد پار سے پاکستانی علاقے کو نشانہ بنائے جانے کا یہ رواں ماہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گیارہ مئی کو دتہ خیل میں زوئے سیدگی کے مقام پر رات کے وقت افغان سرزمین سے کئی میزائل داغے گئے تھے جس میں عام شہریوں کے مکانات نشانہ بنے تھے اور تین افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔
پاک افغان سرحد کے دونوں جانب گزشتہ کچھ عرصے کے دوران فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ان واقعات پر پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی جانب سے کسی خاص ردِعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔
Posted on ۱۶ مئی ۲۰۱۱ by editor
پاکستان کو انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ بنانا دونوں ملکوں اور خطے کے لیے ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے،سینیٹر کیری
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ’’زبانی جمع
خرچ نہیں عملی اقدامات‘‘ مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت کا تعین کریں گے۔
پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتوں کے بعد پیر کی سہ پہر اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں امریکی سینیٹ کی بارسوخ کمیٹی برائے خارجہ اُمور کے چیئرمین نے متنبہ کیا کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن اورامریکہ کے دشمنوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی اُن کے ملک کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں ’’دونوں ملکوں کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے‘‘ اور حتمی فیصلہ پاکستانی عوام نے کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کو قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور کے مطابق ایک روادار جمہوریت بنانا چاہتے ہیں یا انتہاپسندوں کی ایک محفوظ پناہ گاہ۔ ’’دوسرا راستہ پاکستان، امریکہ اور خطے کے لیے ایک انتہائی خطرناک راستہ ہے۔اُنھوں نے کہا کہ بات چیت میں پاکستانی رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مزید راہیں تلاش کرنے کے عزم کو دہرایا اور دونوں ملک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے اور اہم اہداف کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم جان کیری کے بقول یہ ابتدائی اقدامات ہیں اور رواں ماہ دو اعلیٰ امریکی عہدے دار ان پر مزید پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اپنی حالیہ ملاقاتوں کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ان کا مقصد دوطرفہ روابط کو درست ڈگر پر ڈالنا اور پاکستان پر یہ واضح کرنا تھا کہ دونوں ملک تعلقات میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔
Posted on ۱۶ مئی ۲۰۱۱ by editor
صدروزیراعظم اورآرمی چیف سےملاقاتیں، امریکہ کے پاس شواہد ہیں کہ پاکستان کی حکومت سرحد پارحملوں کاعلم رکھتی ہے۔
اسلام آباد/کابل (میزان نیوز) امریکی سینیٹ کی خارجہ اْمور کمیٹی کے چیئرمین جان کیری نے پیر کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی ہے جس میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ پر امریکی فورسز کے آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی
صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سینیٹر جان کیری نے صدر آصف علی زداری سے بھی ملاقات کی جس میں اطلاعات کے مطابق اُسامہ کے خلاد یکطرفہ آپریشن اوراُسکی وجہ سےدوطرفہ تعلقات پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری طور پر اس ملاقاتوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کی شب پاکستان پہنچنے کے بعد جان کیر ی نے راولپنڈی میں جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے اْنھیں آگاہ کیا کہ ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن کو اْن کی افواج کی صفوں میں شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔
پاکستانی فوج کی طرف سے رات دیر گئے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پیر کو سینیٹرجان کیری کی سیاسی و فوجی قیادت کے ساتھ مشترکہ ملاقاتوں میں پاک امریکہ تعلقات پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔
دو مئی کو ابیٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی میں القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سینیٹر جان کیری پہلے اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار ہیں جو پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔ اسلام آباد آمد سے قبل سینیٹرجان کیری نے کابل میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات ایک ’نازک مرحلے‘ پر کھڑے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد صورت حال میں بنیادی تبدیلی آئی ہے اور اگر پاکستان نے اس کا ادراک نا کیا تو اسے امریکہ سے تعلقات میں ہمہ گیر تبدیلی کا سامنا کرنا ہوگا۔ ’’یہ وقت صرف انتہائی سنجیدہ بات چیت کا ہے جس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔اُنھوں نے بتایا کہ ایسے ’’انتہائی پریشان کن‘‘ شواہد موجود ہیں جن کے مطابق پاکستان کی حکومت سرحد پار حملوں کا علم رکھتی ہے۔
افغانستان کے نجی ٹی وی ’طلوع‘ سے گفتگو میں امریکی سینیٹ کی خارجہ اُمور کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’’پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کیسا ملک دیکھنا چاہتا ہے اور اس جدوجہد میں وہ کس کے ساتھ ہے۔
ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنماء کی پناہ پر امریکی فورسز کی یک طرفہ کارروائی کے بعد گذشتہ ہفتے پارلیمان کے بند کمرے میں مشترکہ اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ کو انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزاور فضائیہ کے نائب سربراہ نے اس واقعہ سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
دس گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس خصوصی اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر 12 نکاتی قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں امریکی فورسز کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ سے موجودہ تعلقات پر نظر ثانی کی جائے۔
Posted on ۱۶ مئی ۲۰۱۱ by editor
مقتول سامبا ہوٹل ڈیفنس میں رہتا تھا اور قونصلیٹ جا رہا تھا کراچی میں پانچ روز قبل سعودی قونصلیٹ پر کریکر حملہ ہوا تھا
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سوار
کی فائرنگ سے سعودی عرب کے قونصل خانے کا ایک ملازم ہلاک ہوگیا ہے۔ واقعے کے بعد سعودی قونصل خانے کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ پیر کی صبح قونصل خانے کے قریب خیابان شہباز میں پیش آیا ہے۔ متقول کا نام حسن الکاہی بتایا گیا ہے جو قونصل خانے کا ملازم تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول سعودی شہری تھا۔ ڈی آئی جی اقبال محمود جنوبی نے میڈیا کو بتایا کہ مقتول سامبا ہوٹل ڈیفنس میں رہتا تھا اور وہاں سے وہ ڈیوٹی پر قونصلیٹ جا رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ مقتول پر چار گولیاں فائر کی گئی ہیں جن میں سے ایک ان کے سر میں لگی ہے، اسی دوران ان کی گاڑی پول سے بھی ٹکراگئی۔ ڈی جی آئی کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور ابھی یہ تفتیش کی جائے گی کہ اسے کسی کار نے کور دیا ہوا تھا یا وہ اکیلا تھا،کراچی میں ہی پانچ روز قبل ہی سعودی قونصلیٹ پر کریکر سے حملہ کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد قونصل خانے کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی اقبال محمود کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کے بہت زیادہ ملازم ہیں۔ پولیس کی کوشش تھی کہ وہ جس جگہ رہتے ہیں اس جگہ انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ ان کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر دوہری سکیورٹی ہے اور وہاں کسی موٹر سائیکل سوار کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔
Posted on ۱۵ مئی ۲۰۱۱ by editor
جوڈیشل واچ کا مطالبہ امریکی عوام کا یہ قانونی حق ہے کہ انہیں اُسامہ کی ہلاکت کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی محکمہ دفاع اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی وڈیو، جس میں ان کی
ہلاکت اور تدفین کے مناظر فلمبند ہیں، دکھانے کی ایک درخواست کا فوری جواب دینے سے انکار کر رہا ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کے مطابق امریکہ میں ایک قدامت پسند ادارے نے اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی اور ان کی تدفین کی تصاویر کو منظر عام پر لانے کے لیے قانونی درخواست دائر کی ہے۔
جوڈیشل واچ نامی اس تنظیم نے محکمۂ دفاع سے معلومات حاصل کرنے کے حق کے قانون ’فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ‘ کے تحت مطالبہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد کی تصاویر جاری کی جائیں۔ جوڈیشل واچ نے اسامہ کے خلاف کارروائی کے ایک ہی روز بعد اس طرح کی درخواست دائر کی تھی۔ ایک درخواست امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے بھی کی گئی تھی۔ جمعہ کو تنظیم نے واشنگٹن کی ایک عدالت میں قانونی درخواست دائر کی تھی۔
امریکی محکمۂ دفاع نے نو مئی کو جوڈیشل واچ کو ایک خط میں لکھا تھا کہ ’اس وقت ہم آپ کی درخواست پر معلومات کی فراہمی کے قانون میں دی گئی بیس روز کی مدت کے اندر فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
جوڈیشل واچ نے کہا کہ امریکی عوام کا یہ قانونی حق ہے کہ انہیں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں۔ امریکہ کے صدر براک اوباما نےاعلان کیا تھا کہ مئی دو کی کارروائی کی تصاویر جاری نہیں کی جائیں گی۔
تاہم گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کے کچھ ارکان کو مئی دو کی کارروائی کے بارے میں کچھ مواد دکھایا گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ریپبلکن جماعت کے سینیٹر جیمز انہوف بھی ان ارکان کانگریس میں شامل تھے۔انہوف نے بتایا کہ ایک تصویر خوفناک ہے جس میں اسامہ کا بھیجا ان کی آنکھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اے پی کے مطابق انہوف تصاویر جاری کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوف نے کہا کہ مذکورہ ایک تصویر کے علاوہ باقی تصاویر جن میں اسامہ کی میت کو غسل دیتے ہوئے بھی دکھایا گیا زیادہ پریشان کن نہیں اور انہیں جاری کیا جا سکتا ہے۔
Posted on ۱۴ مئی ۲۰۱۱ by editor
بھارت کا خطے میں کردار تعمیری ہے اور اسے تسلیم کرتے ہیں، پاکستانی طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پرتشدد واقعات کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایبٹ آباد آپریشن میں ہیلی کاپٹر
کی تباہی پر بات کرنے سے انکار کردیا ۔انکا کہنا ہے دہشت گردی سے پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران مارک ٹونر نےپشاور کے علاقے شبقدر میں ہوئے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا پاکستانی طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پرتشدد واقعات کر سکتے ہیں۔ دھماکوں کا نقصان سب سے زیادہ پاکستانی عوام کا ہو رہا ہے، ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے ترجمان نے کہا دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیداکی جارہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف امریکا اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔اسامہ کی موجودگی کا کسے علم تھااس پرپاکستان میں کئی افواہیں ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کا خطے میں کردار تعمیری ہے اور اسے تسلیم کرتے ہیں اورامریکہ افغانستان میں بھارتی کردار کی حمایت کرتاہےاور اسکے افغانستان میں کردار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔