Archive | سائنس

Tags: , ,

گھر ہوگا جراثیم سے روشن

Posted on ۲۹ دسمبر ۲۰۱۱ by admin

جراثیم کی برائیاں تو ہم سبھی کرتے  اور سنتے رہتے ہيں لیکن کچھ اچھے بیکٹریا بھی ہوتے ہيں ۔اب وہ ووقت آ رہا ہے۔  جب جراثیم سے گھر بھی روشن ہوا کریں گے۔ یہ روشنی گھریلو کچرے کو ری سائیکل کر کے حاصل کی جائے گی ۔ فلپس نے ایسی بایو لائٹ ایجادکی ہے۔ جو گھر کو جراثیم سے جگمگادے گی۔ اس کی تکنیک یہ ہے کہ زندہ بیکٹریا سے ٹھنڈی سبز روشنی ملا کرے گی۔ یہ لیمپس متعدد گلاس چیمبرز  سے بنا ہے۔ یہ اس طرح روشنی دے گا جیسے جگنو سے حاصل ہوتی ہے ۔ شیشے کے مرتبانوں میں وہ بیکٹریا بند ہو ں گے جن سے روشنی خارج ہوتی ہے ۔ ان کو میتھین گیس کی خوراک دی جائے گی۔ تو روشنی بنے گی ۔ فلپس کویقین ہے کہ سڑکوں اور کارخانوں کو روشن کرنے کے لیے یہ بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

Comments (0)

LHC Decoding our Universe

Tags: , , ,

تخلیق کائنات کا راز افشا | کائنات

Posted on ۲۶ دسمبر ۲۰۱۱ by admin

تخلیق کائنات کا راز افشا

جوہری طبعیات کیجدید تجربہ گاہ LHC لارج ہیڈرن کولوڈر کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہیں اپنے طویل تجربات کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سےخدائی صفات کے حامل ذرات )God Particle )کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔ گاڈ پارٹیکل کی امکانی موجودگی پر سائنس دانوں کو دو الگ الگ ٹیمیں ایک عرصے سے کام کررہی تھیں۔اوائل دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں سائنس دانوں نےبریفنگ میں کہا کہ ماہرین کی ایک ٹیم کو کائنات کے سب سے چھوٹے ذر

LHC Decoding our Universe

لارج ہیڈرن کولوڈر سائنسدان

ے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں ۔ اس ذرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کا ئنات کے بننے میں اس کا اہم  کردار ہے۔ گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کا انکشاف پارٹیکل فزکس کے ماہرین کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ اس سے کائنات کی تخلیق کےعظیم راز سےپردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اطالوی محقق فابیولا گلنوٹی ، جو تحقیقی ٹیم اٹلس سےوابستہ ہیں، کہناہے کہ توانائی کے بہت  کم سطحوں پر گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے کچھ آثار نظر آئے  ہیں۔ ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے اعدادوشمار کا تفصلی جائزہ لیا جارہا ہے جس کے حتمی نتائج اگلے سال جاری کیے جائیں گے۔ کائنات میں آپ کو بے شمار اشیاء ، ان کےخوبصورت رنگ اور کرشمے نظر آتے ہیں۔ جب کہ لاتعداد چیزیں تو ایسی ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ انسان اپنے شعور کے ابتدائی دور سے یہ جاننے کی کوشش میں رہا ہے کہ کائنات کس طرح بنی تھی اورچاند ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔ بہت عرصہ پہلے سائنس دانوں نے یہ معلوم کیاتھا کہ کائنات میں موجود ہر چیز ایٹم پر قائم ہے جو مختصرترین اکائی ہے۔ ہرمادے کا ایٹم تین اجزا سے مل کربناہے جسے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کہا جاتا ہے۔ مگر ان سب کی  بدیاد ایک ہے۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایٹم از خود وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ انہیں ایک قوت نے انہیں اکھٹا ہونے میں مدد دی۔ یہ قوت اس ذرے میں ہے جسے گارڈ پارٹیکل  کہاجاتا ہے۔ یعنی خدائی صفات رکھنے والا ذرہ۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایٹم از خود وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ انہیں ایک قوت نے انہیں اکھٹا ہونے میں مدد دی۔ یہ قوت اس ذرے میں ہے جسے گارڈ پارٹیکل کہاجاتا ہے۔جدید جوہری طبعیات کا یہ نظریہ سب سے پہلے 1964ء میں برطانیہ کی ایڈن برگ یونیورسٹی کے ایک سائنس دان پیٹر برگ ہیگزنے پیش کیا۔ اور انہی کے نام پر اس تصوراتی ذرے کو ہیگز بوسن کا نام دیا گیا۔ اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جس کا کوئی حجم ہے، چاہے وہ ٹھوس ، مائع یا گیس ہے۔اس کے اندر ’گاڈ پارٹیکل‘ موجودہے۔ کیونکہ گارڈ پارٹیکل میں ہی وہ توانائی اور کشش موجود ہے جو چیزوں کو اسی طرح اپنی جانب کھینچ لیتی ہے جسے کسی مقبول لیڈر یا اسٹار کی مقناطیسی کشش لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے۔ اور ان کے گرد ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ ایٹم کی مثال بھی اسی مجمع کی سی ہے، جسے گارڈ پارٹیکل نےمجتمع کررکھاہے۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ تقریباً 15 ارب سال قبل کائنات ایک بہت بڑے گولے کی شکل میں تھی ۔ جو اپنی اندرونی قوت کے دباؤ سے پھٹ کر بکھر گیا۔ پھرکروڑوں سال تک کائنات میں صرف توانائی بکھرتی رہی اور پھردرجہ حرارت کم ہونے کے بعدوہ سورج چاند ستاروں اور دوسری کائناتی اجسام میں ڈھل گئی۔ مگر تشکیل کے اس عمل میں گاڈ پارٹیکل نے اہم کردار ادا کیا ۔ اب وہ کئی برسوں سے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے تجربات کررہے ہیں۔ گارڈ پارٹیکل کے نظریے کی تصدیق کے لیے دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے بڑی تجربہ گاہ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد پرزیر زمین قائم کی گئ تھی ۔جسے لارج ہائیڈرون کولائیڈر یا ایل ایچ سی کہاجاتا ہے۔ یہ لیبارٹری تقربیاً27 کلومیٹر لمبی سرنگ میں واقع ہے اور زمین کی سطح سے اس کی گہرائی574 فٹ ہے۔ یہاں کام کا آغاز ستمبر2008ء میں ہوا تھا اور اس لبیارٹری میں کیے جانے والے تجربات میں دنیا کے ایک سوسے زیادہ ممالک کے سائنس دان کام کرتے رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ چند ماہ پہلے اسی تجربہ گاہ نے روشنی سے بھی تیز رفتار ذرے نیوٹرینو کودریافت کرکے آئن سٹائن کے اس شہرہ آفاق نظریے کو غلط ثابت کردیاتھا کہ اس کائنات کی کوئی چیز روشنی کی رفتار کو نہیں پہنچ سکتی۔ گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے سائنس دانوں کی ٹیموں نے اٹلس اور سی ایم ایس کے نام سے الگ الگ تجربات کیے۔ برطانیہ کی لیور پول یونیورسٹی میں پارٹیکل فزکس کی ایک سائنس دان ڈاکٹر تارا شیرس کا کہناہے کہ گارڈ پارٹیکل کی دریافت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم نے کائنات کی تخلیق کا راز جان لیا ہے

Comments (0)

wnk44323-thumb-550xauto-21576

Tags: ,

آنکھ جھپکانے پر مجبور کر نے والی عینک

Posted on ۰۶ مئی ۲۰۱۱ by editor

جاپانی عینک ساز ادارے نے ایک ایسی عینک بنائی ہے، جسے پہنا جائے تو وہ انسان کو آنکھ جھپکانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کمپیوٹر، ویڈیو گیمز یا ٹی وی سکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے والے افراد کی آنکھوں کو تحفظ دینے کے لئے یہ پلکیں جھپکانے پر مجبور کرنے والی خود کار عینک ہے۔ جاپانی ماہرین کے مطابق اس عینک کے شیشوں کو اس انداز سے تیار کیاگیا ہے کہ اسے پہننے والا شخص ہر پانچ سیکنڈ بعد آنکھ جھپکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور بصارت میں خرابی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

اس عینک کو ”ونک گلاسز“ کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس عینک کی قیمت 430 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ میسوناگا عینک ساز جاپانی ادارے نے اپنی تیار کردہ عینک کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے استعمال سے کمپیوٹر پر کام کرنے والے لوگوں کو نظر کی کمزوری سے نجات مل جائے گی۔ اس عینک میں ایک خاص طرح کا شیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اسے پہننے والا اپنی پلکیں نہ جھپکے تو اس کے شیشوں پر دھند چھا جاتی ہے۔ اس دھند سے بچنے کے لئے ہر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر آنکھ جھپکنی پڑتی ہے۔ اس عینک کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اگر 3سے5 سیکنڈ تک کسی چیز پر مسلسل نگاہیں مرکوز رکھی جائیں توبھی عینک کے شیشے پر دھند چھا جاتی ہے۔ یہ دھند اس وقت خودبخود ختم ہو جاتی ہے، جب آنکھ جھپک دی جائے۔ سو اسے پہننے والا شخص خود بخود آنکھ جھپکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مرد ہر 3 سیکنڈ بعد جب کہ خواتین ہر 4 سیکنڈ بعد آنکھ جھپکتی ہیں۔جاپانی شہر فوکوئی سے تعلق رکھنے والی عینک ساز کمپنی میسوناگا کو پچھلے برس شہرت اس وقت ملی، جب امریکی نائب صدارتی امیدوار سارا پالن بین الاقوامی میڈیا پر نظر آئیں۔ یہ کمپنی سارا پالن کے لئے عینکیں ڈیزائن کرتی ہے۔

Comments (0)

medicine

ملیریا:نئی دوا سےسالانہ دولاکھ جانوں کا تحفظ

Posted on ۲۳ اپریل ۲۰۱۱ by editor

نیویارک (نیوزڈیسک) ایک بین الاقوامی  طبی تنظیم نے کہاہے کہ ملیریا سے بچاؤ کی ایک نئی دوا کے استعمال سے ہر سال لاکھوں بچوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈز نے  گزشتہ روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ملیریا سے بچاؤ کی مروجہ دوا کونین کے     استعمال  زیادہ مفید ہے تنظیم کا کہنا ہے کہ نئی دوا کے استعمال سے ہر سال مزید دو لاکھ جانیں بچائی Artesunateبجائے

جا سکتی ہیں۔تنظیم نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے کونین کی بجائے نئی دوا کے استعمال میں مدد کے فنڈز دینے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا کہناہے کہ دنیا بھر میں ایسے مریضوں کے علاج کے لیے جن پر ملیریا کا شدید حملہ ہوا ہو، چار کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مزید اخراجات آئیں گے۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک تخمینے میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال دنیا بھر میں ملیریئے سے آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جن میں زیادہ تر  براعظم افریقہ کے  بچے اور حاملہ خواتین تھیں۔

ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈز کا کہناہے کہ 2009ء میں دنیا بھر میں ساڑھے 22 کروڑ ملیریا کے کیسوں کا اندراج ہواتھا جن میں سے80 لاکھ مریضوں پر بیماری کا حملہ انتہائی شدید تھا۔

تنظیم نے دنیا بھر کی صحت کی وزارتوں سے اپیل کی ہے کہ ملیریا کے علاج کے لیے اپنے راہنما اصول تبدیل کریں اوربڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظردوا ساز اداروں کو نئی تجویز کردہ دوا کی پیداوار بڑھانے کے لیے کہیں۔

Comments (0)

cd news

Tags: ,

عالمی ڈیٹا سٹور کرنے کی صلاحیت کیا ہے؟

Posted on ۱۲ اپریل ۲۰۱۱ by usman

سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2007 تک دنیا میں سٹور ہونے والا ڈیٹا 295 ایکسا بائٹ ہے جو اوسطاً 12 ملین ہارڈ ڈرائیو کے مساوی ہے۔

تحقیق کاروں نے 1986 سے 2007 کی انفارمیشن کمپیوٹروں، ڈی وی ڈیز، کتابوں اور اشتہاروں سمیت 60 قسم کی ٹیکنالوجی سے لیے گئے اعدادو شمار کی بنیاد پریہ اندازہ پیش کیا ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ہم یہ تمام اطلاعات لے کر انہیں کتابوں میں جمع کریں تو ان کتابوں کا انبارامریکہ یا چین کے برابر کے رقبے میں پھیل جائے گا۔

کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس پھر میگا بائٹس اور اب عموماً گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے جس کے بعد ٹیرا بائٹس، پیٹا بائٹس اور اب ایکسا بائٹس آ گیا ہے اور ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے۔

تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی انفارمیشن سی ڈیز پر جمع کی جائے تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا

Comments (0)

tea news

چائےجسمانی مدافعتی نظام کی مضبوطی کیلئے مفید

Posted on ۱۱ اپریل ۲۰۱۱ by editor

اگر آپ کا وزن بڑھ رہاہے توآپ کو کھانے پینے سے ہاتھ کھینچنے ، لمبی دوڑ لگانے، جم جانے یا وزن گھٹانے والی دوائیں کھانے کی ضرورت نہیں۔ اس کا سادہ اور آسان حل ہے صرف چائے کے تین چار کپ روزانہ ، لیکن بہتر یہ ہے کہ اس میں دودھ اور چینی نہ ڈالی جائے ۔ کیونکہ دودھ چائے کے مفید اثرات کم کردیتاہے اورچینی وزن میں اضافے کی ایک اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔

ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ  چائے میں ایسے قدرتی مرکبات کی ایک بڑی مقدار موجود ہے جو  جسم  کی چربی پگھلانے اور  خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی دل کے امراض اور اسٹروک کا ایک بڑا سبب ہے۔ توگویا چائے کی ہر پیالی آپ کو اس خطرے سے دورلے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔

چائے کے فوائد کا سلسلہ صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ طبی ماہرین کا کہناہے کہ چائے خون کا دباؤ کم کرنےمیں مفید ہے ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر انفکشن سے بچاؤ میں مدد کرتے ہیں۔

چائے دنیا کا سب سے پرانا مشروب ہے اور لگ  بھگ پانچ ہزار سال سے استعمال کیا جارہاہے۔ چائے کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جدید دنیا میں، جہاں بے شمار خوش ذائقہ ، خوش رنگ اور صحت بخش مشروبات کثرت سے دستیاب ہیں، یہ دوسرا سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب ہے۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں چائے سے زیادہ پی جانے والی چیز کا نام کیا ہے؟ ذہن پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم آپ کو بتا دیتے ہیں، وہ کوئی مشروب نہیں ہے بلکہ سادہ پانی ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کثرت سے چائے پی جاتی ہے۔ پاکستان میں مقامی طورپر چائے کی کاشت بہت  کم ہے۔ اس لیے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے  زیادہ تر چائے باہر سے درآمد کی جاتی ہے۔  پاکستان چائے درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔

اگرکسی باکستانی سے پوچھا جائے کہ چائے کی کتنی اقسام ہیں تو وہ جھٹ کہے گا کہ تین، یعنی دودھ والی چائے، سبز چائے اور گلابی کشمیری چائے۔  ہمارے ہاں کشیمری چائے میں اس قدر پستے بادام اور میوہ ڈال دیا جاتا ہے کہ اگر اسے چائے کی بجائے سویٹ ڈش کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔

لیکن سائنسی لحاظ سے، اس میں موجود اجزا کی مقدار اور خوبیوں کے اعتبار سے چائے کی چار اقسام ہیں۔  یعنی سفید ، سبز، وولانگ اور کالی چائے، تاہم یہ تمام اقسام چائے کے ایک ہی  پودےسے حاصل کی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چائے بلیک ٹی یعنی کالی چائے ہے۔ جسے گرم گرم چسکیاں لے کر بھی پیا جاتا ہے اور برف ڈال کر بھی اس سے لطف اندوز ہوا جاتاہے۔

سفید چائے رنگت میں ہلکی سنہری مائل اور اس کا ذائقہ بہت لطیف ہوتا ہے۔ سبزچائے، رنگت میں قدرے سبزی مائل اور ذائقے میں سبز چائے سے قدرے تیز ہوتی ہے۔ وولانگ چائے کا ذائقہ تیز اور رنگت گہری ہوتی ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ ا جزا انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور چربی گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔

دیگراقسام کے مقابلے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ پی جانے والی چائے بلیک ٹی یعنی کالی چائے ہے۔ اسے اپنی گہری رنگت کی وجہ سے کالی چائے کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ اور خوشبو چائے کی دیگرتمام اقسام کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتی ہے اور صحت کو فائدہ پہنچانے والے قدرتی مرکبات کی مقدار بھی اس میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ کالی چائے کو زیادہ تر دودھ اور چینی ملا کر پیا جاتا ہے۔

کالی چائے  میں دیگر اقسام کی نسب   کیفین کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ قدرتی مرکب قدرے نشہ آور ہے تاہم ذہن کو سکون پہنچاتا ہے اور انسان کو تازہ دم کرتاہے۔  تاہم چائے میں کیفین کی مقدار کافی  کے مقابلے میں تین سے چار گنا تک کم ہوتی ہے۔

ایک حالیہ سائنسی مطالعے سے چائے میں یہ دونوں اجزا وزن کم کرنے مدد دیتے ہیں۔ سائنس دانوں نے جب  یہ مرکبات ان چوہوں کو دیے گئے جنہیں  موٹا کرنے کے لیے مرغن خوراک دی جاری تھی تو ان کا بڑھتا ہوا وزن نہ صرف رک گیا بلکہ اس میں کمی بھی ہوئی۔

تجربات کے دوران سائنس دانوں کو پتا چلا کہ جب چوہوں کو خوراک میں  چائے سے حاصل کردہ کچھ اجزا شامل کیے گئے تو ان کے کولیسٹرول کی سطح  اور خون میں موجود  چربیلے مرکبات میں بھی کم ہوئے۔

بھارتی ریاست آسام  میں واقع چائے کے ایک تحقیقی مرکز جورہات کی ایک سائنس دان ڈاکٹر دیواجیت بورتھاکور کا کہنا ہے کہ چائے کے فوائد اس وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک اس میں دودھ نہیں ملایا جاتا۔ دودھ  چائے کے وزن پر کنٹرول کرنے والے مرکبات کو متاثر کرتا ہے اور ہم چائے کے فوائد سے محروم ہوجاتے ہیں۔

بھارتی تحقیقی مرکز میں سائنس دان چائے کی ایک ایسی قسم بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں نہ صرف وزن کم کرنے والے قدرتی اجزا کی مقدار زیاد ہ ہو گی  بلکہ وہ دودھ کی چکنائی کے خلاف مزاحمت بھی رکھتے ہوں۔

حال ہی میں جریدے نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان کے ایک تحقیقی ادارے کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ چائے میں موجود اجزا خون میں شامل چربیلے مادوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جاپانی سائنس دان ڈاکٹر ہیرواکی یاجی ما کا کہنا ہے کہ کالی چائے میں ایسے اجزا یکثرت  ہوتے ہیں جو چربیلے مادوں کو اپنے اندر جذب کرکے انہیں جسم سے خارج کردیتے ہیں۔

بلیک ٹی یا کالی چائے سب سے زیادہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں استعمال کی جاتی ہے۔  رنگت دینے کے لیے لوگ اس میں دودھ ملاتے ہیں اور ذائقے کے لیے چینی ڈالتے ہیں۔  بلکہ پاکستان میں تو ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو سرے سے دودھ میں ہی چائے کی پتی ڈال کر اسے ابال لیتے ہیں اور اسے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔ جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف چائے بلکہ دودھ کے فوائد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چربی گھٹانے اور اپنے وزن پر قابو رکھنے کے لیے کالی چائے، سبز چائے کی نسبت زیادہ مفید ہے۔

برطانوی سائنس دانوں کا کہناہے کہ اگر چائے میں کریم نکلا ہوا دودھ ڈالا جائے تو چائے کے فوائد برقرار رہتے ہیں۔ آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی کی ایک ماہر ڈاکٹر لیسا ریان کہتی ہیں کہ جیسے جیسے دودھ میں چکنائی کی مقدار بڑھتی ہے، چائے کے صحت بخش اجزاکے فوائد کم ہوتے چلےجاتے ہیں۔

اردو کے معروف انشاپرداز اور صاحب طرز ادیب اور عالم دین مولانا ابوالکلام آزاد اس را ز سے پون صدی قبل ہی آگاہ تھے۔ اپنے ایک مضمون میں انہوں نے  دارجلنگ کی چائے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چائے کی لطافت کو لوگ دودھ اور چینی کی کثافت سے ضائع کردیتے ہیں۔

Comments (0)

anti biotic

انٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت کا حامل جرثومہ دریافت

Posted on ۱۰ اپریل ۲۰۱۱ by editor

سائنس دانوں نے ایک جدید تحقیق کے ذریعے ایسا بیکٹیریا دریافت کیا ہے کہ جس پر علاج کے لیے دی جانے والی اکثر جراثیم کش یا انٹی بائیوٹک ادویات اثر نہیں کرتیں۔

برطانیہ کی کارڈیف یونیورسٹی کے سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے بھارت میں اس بیکٹیریا کی موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے بھارتی حکام سے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

نئی دہلی میں پینے کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی میں این ڈی ایم ون نسل کے اس بیکٹیریا کی موجودگی کی نشاندہی پہلی مرتبہ کی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیچش اور ہیضہ جیسی بیماریوں کا سبب یہ جرثومہ صحت کے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

سائنس دانوں نے نئی تحقیق اُن مریضوں پر کی جو این ڈی ایم ون بیکٹیریا کا شکار ہوئے تھے جب کہ تجزیے کے لیے پانی کے نمونے شہر کے نلکوں اور سڑکوں کے کنارے جمع گندے پانی سے لائے گئے۔

نلکوں سے لیے گئے پانی میں انٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مدافعت کے حامل بیکٹریا کی موجودگی کی شرح چار فیصد رہی جب کہ گندے پانی میں یہ شرح 30 فیصد تک تھی۔

یہ نئی دریافت سائنس دانوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے کیونکہ اس کے انتہائی مہلک نتائج ہو سکتے ہیں اس لیے اس سے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دنیا کے تمام ممالک کو مل کرکام کرنا ہوگا۔

طبی ماہرین ایک طویل عرصے سے ماحول میں اس طرح کے بیکٹیریا کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے آئے ہیں اور جدید تحقیق نے اب اس کی تصدیق کر دی ہے۔

2008ء میں پہلی مرتبہ اس جرثومے کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے بعد امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا متعدد افراد اس سے متاثر ہوئے۔ ان مریضوں میں اکثر حال ہی میں یا تو بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کا دورہ کر کے آئے تھے یا وہاں زیرعلاج رہے۔

Comments (0)

google-plus-1

گوگل کے جھنڈے اب سوشل نیٹ ورکنگ کی دنیا میں بھی “گوگل پلس”

Posted on ۰۵ اپریل ۲۰۱۱ by usman

گوگل اپنے صارفیں کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کروا رہا ہے، جس کا نام ’پلس ون‘ رکھا گیا ہے۔ گوگل کی اس نئی سروس کا مقصد انٹرنیٹ دنیا کی بے تاج بادشاہ سوشل ویب سائٹ فیس بک کو مات دینا ہوسکتا ہے۔

دنیا کے نمبر ایک سرچ انجن گوگل پر جب کوئی صارف اپنی مطلوبہ معلومات تلاش کرے گا تو سرچ رزلٹ کے ساتھ اب ایک نیا بٹن دکھائی دیا کرے گا، جس کا نام ’+1‘ رکھا گیا ہے۔ اس نئی سہولت کی بدولت اب گوگل صارفین کسی بھی ویب سائٹ کی ریٹنگ پر اثر انداز بھی ہو سکتے ہیں۔
اس نئے فیچر کا مقصد نہ صرف حریف ویب سائٹ فیس بک کو مات دینا ہے بلکہ گوگل صارفین کے لیے یہ سہولت پیدا کرنا بھی ہے کہ وہ جان سکیں کہ کونسی ویب سائٹ کس قدر فائدہ مند ہے اور لوگ اسے کس قدر پسند کرتے ہیں۔
اس نئے فیچر کی مدد سے گوگل صارفین مخصوص نتائج سے اپنے دوستوں کو بھی فوری طور آگاہ کر سکیں گے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس فیچر کی مدد سے گوگل ویب سائٹ رینکنگ پر بھی اثر پڑے گا۔ اس فیچر کی مدد سے گوگل سرچ انجن میں وہی ویب سائٹس ٹاپ پر آنے میں کامیاب ہو سکیں گی، جن کی شہرت اچھی ہوگی اور صارفین نے ان کے حق میں ووٹ دیا ہو گا۔ ابھی تک گوگل سرچ انجن میں ویب سائٹس کی درجہ بندی ایک مخصوص طریقے سے کی جاتی ہے۔اس سے پہلے دنیا کے مشہور امریکی انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے اپنے اکاؤنٹس کے حامل افراد کے لیے ایک نیا سوشل نیٹ ورکنگ ٹول ’بز‘ بھی متعارف کروایا تھا۔ ’بز‘ نامی اس سروس کا مقصد فیس بک اور ٹوئیٹر اور دیگر نیٹ ورکنگ سائٹس کی طرز پر صارفین کو معلومات کے فوری تبادلے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔
انٹر نیٹ دنیا کی دنیا کی دو معروف ترین سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئیٹر بھی صارفین کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2004ء میں شروع ہونے والی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے اس وقت پانچ سو ملین صارفین ہیں۔ گوگل کی حالیہ سروس کو اس کمپنی کے حریفوں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافے کے بعد گوگل کی جانب سے اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
معلومات کے دروازے کے طور پر مشہور گوگل انجن کو گزشتہ برس 29 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ اس آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ اشتہارات تھے۔ اب ایڈورٹائزمنٹ کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد فیس بک کا رخ کررہی ہے، جس سے گوگل سرچ انجن کی آمدنی میں کمی کا خدشہ ہے

Comments (0)

naspatinews

ناشپاتی :کولیسٹرول کی مقدار کم کرنےاور قبض کے تدارک کیلئے مفید

Posted on ۰۵ اپریل ۲۰۱۱ by usman

فیصل آباد:ناشپاتی کا رس دار میٹھا پھل غذائی اہمیت کے لحاظ سے انتہائی افادیت کا حامل ہے کیونکہ اس پھل کا استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرنے ، جسم میں خون کی ترسیل بڑھانے اور قبض کے تدارک میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے جس کا پاکستان میں کل زیر کاشت رقبہ 2.6ہزار ہیکٹر ہے جس میں سے 2.4ہزار ہیکٹر صوبہ خیبرپختونخواہ میں 0.1ہزار ہیکٹر پنجاب اور اتنا ہی صوبہ بلوچستان میں ہے۔ ماہرین زراعت نے بتا یا کہ ناشپاتی میں وٹامن ‘سی’ اور’ کے’ کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ حیاتین کی دیگر اقسام ٹوکو فیرول ، نیا سن ،رائبو فلیون کا بھی موثر زریعہ ہے۔ اسی طرح اس میں کاپر ،مینگنیز، پوٹاشیم ، فولاد ، فاسفورس بھی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ 100گرام ناشپاتی میں تقریباً 42کیلو ریز ہوتی ہیں جو انسانی جسم کیلئے بہت مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبز ، سرخ ، بھورے ، پیلے رنگ کی ناشپاتی استعمال کر کے کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے

ناشپاتی مشرق سے لے کر مغرب تک بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔ تازہ ناشپاتی کھانے کے علاوہ خواتین اس کا مربہ اور چٹنی بنا کر محفوظ کرتی ہیں۔ بچے جام جیلی کی شکل میں شوق سے استعمال کرتے ہيں۔ ناشپاتی میٹھے کی شکل میں بہت سے پکوانوں کسٹرڈ ، کیک ، آئس کریم وغیرہ میں شامل ہوتی ہے ۔ریسرچرز ۔
کشمیری ناشپاتی جسے ” بگوشے ” بھی کہتے ہیں عام ناشپاتی سے زیادہ مزیدار اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے۔ بیرون ملک میں اس کی کئی اقسام اور اشکال ملتی ہیں ۔ ماہر غذائیت و خوراک دانے دار گودے والی نرم ناشپاتی کو بہترین قرار دیتے ہيں ۔ معدے کے لیے ناشپاتی بہت اکسیر ہے ۔ اور قوت مدافعت کے لیے بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق ناشپاتی بچوں کو دمہ میں مبتلا ہونے سے بھی روکتی ہے۔ ناشپاتی کا استعمال سانس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے ۔

Comments (0)

Advertise Here
Advertise Here

SEO Powered By SEOPressor