تخلیق کائنات کا راز افشا
جوہری طبعیات کیجدید تجربہ گاہ LHC لارج ہیڈرن کولوڈر کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہیں اپنے طویل تجربات کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سےخدائی صفات کے حامل ذرات )God Particle )کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔ گاڈ پارٹیکل کی امکانی موجودگی پر سائنس دانوں کو دو الگ الگ ٹیمیں ایک عرصے سے کام کررہی تھیں۔اوائل دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں سائنس دانوں نےبریفنگ میں کہا کہ ماہرین کی ایک ٹیم کو کائنات کے سب سے چھوٹے ذر
ے کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں ۔ اس ذرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کا ئنات کے بننے میں اس کا اہم کردار ہے۔ گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کا انکشاف پارٹیکل فزکس کے ماہرین کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ اس سے کائنات کی تخلیق کےعظیم راز سےپردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اطالوی محقق فابیولا گلنوٹی ، جو تحقیقی ٹیم اٹلس سےوابستہ ہیں، کہناہے کہ توانائی کے بہت کم سطحوں پر گاڈ پارٹیکل کی موجودگی کے کچھ آثار نظر آئے ہیں۔ ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے اعدادوشمار کا تفصلی جائزہ لیا جارہا ہے جس کے حتمی نتائج اگلے سال جاری کیے جائیں گے۔ کائنات میں آپ کو بے شمار اشیاء ، ان کےخوبصورت رنگ اور کرشمے نظر آتے ہیں۔ جب کہ لاتعداد چیزیں تو ایسی ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہیں۔ انسان اپنے شعور کے ابتدائی دور سے یہ جاننے کی کوشش میں رہا ہے کہ کائنات کس طرح بنی تھی اورچاند ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔ بہت عرصہ پہلے سائنس دانوں نے یہ معلوم کیاتھا کہ کائنات میں موجود ہر چیز ایٹم پر قائم ہے جو مختصرترین اکائی ہے۔ ہرمادے کا ایٹم تین اجزا سے مل کربناہے جسے الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان کہا جاتا ہے۔ مگر ان سب کی بدیاد ایک ہے۔
سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایٹم از خود وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ انہیں ایک قوت نے انہیں اکھٹا ہونے میں مدد دی۔ یہ قوت اس ذرے میں ہے جسے گارڈ پارٹیکل کہاجاتا ہے۔ یعنی خدائی صفات رکھنے والا ذرہ۔
سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایٹم از خود وجود میں نہیں آئے۔ بلکہ انہیں ایک قوت نے انہیں اکھٹا ہونے میں مدد دی۔ یہ قوت اس ذرے میں ہے جسے گارڈ پارٹیکل کہاجاتا ہے۔جدید جوہری طبعیات کا یہ نظریہ سب سے پہلے 1964ء میں برطانیہ کی ایڈن برگ یونیورسٹی کے ایک سائنس دان پیٹر برگ ہیگزنے پیش کیا۔ اور انہی کے نام پر اس تصوراتی ذرے کو ہیگز بوسن کا نام دیا گیا۔ اس نظریے میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جس کا کوئی حجم ہے، چاہے وہ ٹھوس ، مائع یا گیس ہے۔اس کے اندر ’گاڈ پارٹیکل‘ موجودہے۔ کیونکہ گارڈ پارٹیکل میں ہی وہ توانائی اور کشش موجود ہے جو چیزوں کو اسی طرح اپنی جانب کھینچ لیتی ہے جسے کسی مقبول لیڈر یا اسٹار کی مقناطیسی کشش لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے۔ اور ان کے گرد ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ ایٹم کی مثال بھی اسی مجمع کی سی ہے، جسے گارڈ پارٹیکل نےمجتمع کررکھاہے۔






