Posted on ۲۹ دسمبر ۲۰۱۱ by admin
جراثیم کی برائیاں تو ہم سبھی کرتے اور سنتے رہتے ہيں لیکن کچھ اچھے بیکٹریا بھی ہوتے ہيں ۔اب وہ ووقت آ رہا ہے۔ جب جراثیم سے گھر بھی روشن ہوا کریں گے۔ یہ روشنی گھریلو کچرے کو ری سائیکل کر کے حاصل کی جائے گی ۔ فلپس نے ایسی بایو لائٹ ایجادکی ہے۔ جو گھر کو جراثیم سے جگمگادے گی۔ اس کی تکنیک یہ ہے کہ زندہ بیکٹریا سے ٹھنڈی سبز روشنی ملا کرے گی۔ یہ لیمپس متعدد گلاس چیمبرز سے بنا ہے۔ یہ اس طرح روشنی دے گا جیسے جگنو سے حاصل ہوتی ہے ۔ شیشے کے مرتبانوں میں وہ بیکٹریا بند ہو ں گے جن سے روشنی خارج ہوتی ہے ۔ ان کو میتھین گیس کی خوراک دی جائے گی۔ تو روشنی بنے گی ۔ فلپس کویقین ہے کہ سڑکوں اور کارخانوں کو روشن کرنے کے لیے یہ بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
Posted on ۰۶ مئی ۲۰۱۱ by editor
جاپانی عینک ساز ادارے نے ایک ایسی عینک بنائی ہے، جسے پہنا جائے تو وہ انسان کو آنکھ جھپکانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کمپیوٹر، ویڈیو گیمز یا ٹی وی سکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے والے افراد کی آنکھوں کو تحفظ دینے کے لئے یہ پلکیں جھپکانے پر مجبور کرنے والی خود کار عینک ہے۔ جاپانی ماہرین کے مطابق اس عینک کے شیشوں کو اس انداز سے تیار کیاگیا ہے کہ اسے پہننے والا شخص ہر پانچ سیکنڈ بعد آنکھ جھپکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور بصارت میں خرابی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

اس عینک کو ”ونک گلاسز“ کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس عینک کی قیمت 430 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ میسوناگا عینک ساز جاپانی ادارے نے اپنی تیار کردہ عینک کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے استعمال سے کمپیوٹر پر کام کرنے والے لوگوں کو نظر کی کمزوری سے نجات مل جائے گی۔ اس عینک میں ایک خاص طرح کا شیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اسے پہننے والا اپنی پلکیں نہ جھپکے تو اس کے شیشوں پر دھند چھا جاتی ہے۔ اس دھند سے بچنے کے لئے ہر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر آنکھ جھپکنی پڑتی ہے۔ اس عینک کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اگر 3سے5 سیکنڈ تک کسی چیز پر مسلسل نگاہیں مرکوز رکھی جائیں توبھی عینک کے شیشے پر دھند چھا جاتی ہے۔ یہ دھند اس وقت خودبخود ختم ہو جاتی ہے، جب آنکھ جھپک دی جائے۔ سو اسے پہننے والا شخص خود بخود آنکھ جھپکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مرد ہر 3 سیکنڈ بعد جب کہ خواتین ہر 4 سیکنڈ بعد آنکھ جھپکتی ہیں۔جاپانی شہر فوکوئی سے تعلق رکھنے والی عینک ساز کمپنی میسوناگا کو پچھلے برس شہرت اس وقت ملی، جب امریکی نائب صدارتی امیدوار سارا پالن بین الاقوامی میڈیا پر نظر آئیں۔ یہ کمپنی سارا پالن کے لئے عینکیں ڈیزائن کرتی ہے۔
Posted on ۱۲ اپریل ۲۰۱۱ by usman
سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2007 تک دنیا میں سٹور ہونے والا ڈیٹا 295 ایکسا بائٹ ہے جو اوسطاً 12 ملین
ہارڈ ڈرائیو کے مساوی ہے۔
تحقیق کاروں نے 1986 سے 2007 کی انفارمیشن کمپیوٹروں، ڈی وی ڈیز، کتابوں اور اشتہاروں سمیت 60 قسم کی ٹیکنالوجی سے لیے گئے اعدادو شمار کی بنیاد پریہ اندازہ پیش کیا ہے۔
جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ہم یہ تمام اطلاعات لے کر انہیں کتابوں میں جمع کریں تو ان کتابوں کا انبارامریکہ یا چین کے برابر کے رقبے میں پھیل جائے گا۔
کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس پھر میگا بائٹس اور اب عموماً گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے جس کے بعد ٹیرا بائٹس، پیٹا بائٹس اور اب ایکسا بائٹس آ گیا ہے اور ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے۔
تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی انفارمیشن سی ڈیز پر جمع کی جائے تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا
Posted on ۰۵ اپریل ۲۰۱۱ by usman
گوگل اپنے صارفیں کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کروا رہا ہے، جس کا نام ’پلس ون‘ رکھا گیا ہے۔ گوگل کی اس نئی سروس کا مقصد انٹرنیٹ دنیا کی بے تاج بادشاہ سوشل ویب سائٹ فیس بک کو مات دینا ہوسکتا ہے۔

دنیا کے نمبر ایک سرچ انجن گوگل پر جب کوئی صارف اپنی مطلوبہ معلومات تلاش کرے گا تو سرچ رزلٹ کے ساتھ اب ایک نیا بٹن دکھائی دیا کرے گا، جس کا نام ’+1‘ رکھا گیا ہے۔ اس نئی سہولت کی بدولت اب گوگل صارفین کسی بھی ویب سائٹ کی ریٹنگ پر اثر انداز بھی ہو سکتے ہیں۔
اس نئے فیچر کا مقصد نہ صرف حریف ویب سائٹ فیس بک کو مات دینا ہے بلکہ گوگل صارفین کے لیے یہ سہولت پیدا کرنا بھی ہے کہ وہ جان سکیں کہ کونسی ویب سائٹ کس قدر فائدہ مند ہے اور لوگ اسے کس قدر پسند کرتے ہیں۔
اس نئے فیچر کی مدد سے گوگل صارفین مخصوص نتائج سے اپنے دوستوں کو بھی فوری طور آگاہ کر سکیں گے۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس فیچر کی مدد سے گوگل ویب سائٹ رینکنگ پر بھی اثر پڑے گا۔ اس فیچر کی مدد سے گوگل سرچ انجن میں وہی ویب سائٹس ٹاپ پر آنے میں کامیاب ہو سکیں گی، جن کی شہرت اچھی ہوگی اور صارفین نے ان کے حق میں ووٹ دیا ہو گا۔
ابھی تک گوگل سرچ انجن میں ویب سائٹس کی درجہ بندی ایک مخصوص طریقے سے کی جاتی ہے۔اس سے پہلے دنیا کے مشہور امریکی انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے اپنے اکاؤنٹس کے حامل افراد کے لیے ایک نیا سوشل نیٹ ورکنگ ٹول ’بز‘ بھی متعارف کروایا تھا۔ ’بز‘ نامی اس سروس کا مقصد فیس بک اور ٹوئیٹر اور دیگر نیٹ ورکنگ سائٹس کی طرز پر صارفین کو معلومات کے فوری تبادلے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔
انٹر نیٹ دنیا کی دنیا کی دو معروف ترین سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئیٹر بھی صارفین کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھر پور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 2004ء میں شروع ہونے والی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے اس وقت پانچ سو ملین صارفین ہیں۔ گوگل کی حالیہ سروس کو اس کمپنی کے حریفوں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافے کے بعد گوگل کی جانب سے اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
معلومات کے دروازے کے طور پر مشہور گوگل انجن کو گزشتہ برس 29 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ اس آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ اشتہارات تھے۔ اب ایڈورٹائزمنٹ کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد فیس بک کا رخ کررہی ہے، جس سے گوگل سرچ انجن کی آمدنی میں کمی کا خدشہ ہے