اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

افغان ایئرفورس بیس پرفائرنگ8نیٹو فوجی ہلاک

حملہ آور افغانی مسلح شخص ایک عسکریت پسند تھا جس نے فوجی وردی پہن رکھی تھی، طالبان کا دعویٰ

کابل (نیوزڈیسک) افغانستان میں  عہدے داروں کا کہناہے کہ کابل ایئر پورٹ پر افغان فوج کے ایک پائلٹ کی نیٹو کے فوجیوں پر فائرنگ سے کم ازکم آٹھ غیر ملکی اہل کار اور کنٹریکٹر ہلاک ہوگئے۔ یہ 2001ء کے بعد سے ، جب سے افغانستان میں دہشت گردی کےخلاف جنگ شروع ہوئی ہے، مہلک ترین واقعہ ہے۔

افغانستان کے وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بدھ کے روز  کابل کے ہوائی اڈے  پر واقع افغان ایئرفورس کی ایک تنصیب میں ہونے والے اس مقابلے کے دوران اتحادی افواج نے افغان پائلٹ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

وزارت دفاع کے عہدے داروں نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ حملہ آور افغانی مسلح شخص ایک عسکریت پسند تھا جس نے فوجی وردی پہن رکھی تھی۔ نیٹو نے اس واقعہ کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی اور نہ ہی ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قومیت کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔

بدھ کا واقعہ افغان سیکیورٹی فورس  کے ارکان یا فوجی وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے حملوں کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔اس ماہ کے شروع میں ایک افغان سرحدی محافظ نے  شمالی صوبے فرح میں دو امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیاتھا۔ فروری میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک مسلح شخص نے  بغلان صوبے میں تین جرمن فوجیوں کو ہلاک اور چھ کو زخمی کردیا تھا۔اور گذشتہ نومبر میں افغان بارڈر پولیس کے ایک اہل کار نے مشرقی افغانستان میں ایک تربیتی مشن کے دوران چھ امریکی فوجیوں کو ہلاک کردیاتھا۔

ایک اور خبر کے مطابق افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ فوجیوں نے جنوبی صوبے قندھار میں اتوار کے روزجیل سے  300 میٹر لمبی ایک سرنگ کے ذریعے فرار ہونے والے 488 قیدیوں میں سے 71 کو دوبارہ پکڑ لیا ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہہ قیدیوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کی مدد انہیں شناخت کرنے  اور دوبارہ پکڑنے میں مدد ملے گی۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں اکثریت طالبان عسکریت پسندوں کی ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor