امریکہ سے سیکورٹی معاہدہ کی تجدید حرام ہے
عراق کے شیعہ اکثریتی مسلک کے مرجع دینی نے فتویٰ جاری کردیا،عراقی فوج سلامتی کی ذمہ داری پوری کرسکتی ہے،عراقی وزیراعظم
بغداد (نیوزڈیسک) عراق کے اکثریتی اسلامی مسلک کے مرجع دینی آیت اللہ العظمی سید کاظم الحسینی
الحائری نے فتوی دیا ہے کہ 2011 کے بعد امریکیوں کا عراق میں رہنا حرام ہے۔ اُن کے دفتر کےذرائع کا کہنا ہے کہ اس فتویٰ کے ذریعے عراقی حکومت اور پارلیمنٹ کو بتادیا گیا ہےکہ2011ء کے بعد امریکی فوجیوں کو عراقی مسلمین کیلئے برداشت کرنا حرام ہوگا۔ بے شک امریکیوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا اور ہماری سرزمین میں فساد بپا کیا اور جو کچھ صدام کے زمانے سے باقی تھا وہ بھی ویران کردیا چنانچہ سات سالہ قبضے کے بعد متعلقہ معاہدے کے مطابق امریکی افواج کو 2011 کے آخر تک عراق سے نکل جانا چاہئے۔
آیت اللہ العظمی حائری کا فتویٰ کل اتوار کو ان کی ویب سائٹ پرجاری کیا گیا ہے۔
عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی زیادہ ہے لیکن نظر یوں آتا ہے کہ امریکی عراق میں اپنے قیام کی مدت میں اضافے کیلئے عراق اور امریکہ کے درمیان سیکورٹی معاہدے کی تجدید کی کوششیں کررہے ہیں۔ ایسےحالات میں جبکہ عراق کی مقتدر دینی شخصیات امریکی فوج کے انخلاء پر زور دے رہے ہیں،عراقی حکومت اور پارلیمان کیلئے امریکہ کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کی تجدید مشکل دکھائی دیتی ہے۔آیت اللہ نے فتویٰ کے اختتام پرکہا کہ خدایا! تو گواہ رہ کہ میں نے ابلاغ کی ذمہ داری پر عمل کیا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن نے حالیہ ایام میں کئی فوجی کمانڈر عراق روانہ کئے ہیں تا کہ عراقی حکام کو سیکورٹی معاہدے کی مدت میں تجدید کے لئے آمادہ کرسکیں تاہم انہیں وزیر اعظم نوری المالکی سمیت عراق کی مختلف سیاسی جماعتون کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نوری المالکی نے اسی مقصد سے آنے والے امریکی اہلکاروں سے کہا ہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز ملکی امن و امان کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہیں اور سیکورٹی معاہدے کی تجدید کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
: