اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

اُسامہ کےقتل کی تصاویرنشرنہ کرنیکا فیصلہ

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے ملنے والی معلومات کے بعد مزید نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن (میزان ڈیسک) امریکہ کےصدرباراک اوباما نے اسامہ بن لادن کےقتل کی تصاویر نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ فیصلہ اس امکان کے پیش نظر کیا ہے کہ ان تصاویر سے تشدد کو مزید ہوا مل سکتی اور یہ تصاویر پرپیگنڈہ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے ملنے والی معلومات کے بعد مزید نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ایک جائز فوجی ہدف تھے۔ انھوں نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو بتایا کہ اسامہ نے فوجی آپریشن کے دوران خود امریکی کمانڈوز کے حوالے کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کی ہلاکت قومی دفاع کی کارروائی تھی۔

گزشتہ روز امریکہ نے کہا تھا کہ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا اس وقت وہ مسلح نہیں تھے البتہ انھوں نے مزاحمت کی تھی۔اس کارروائی کے بعد ناقدین نے اُسامہ کے خلاف ہونے والے کمانڈو ایکشن کی قانونی حیثیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایرک ہولڈر نے بتایا کہ اسامہ کسی بھی لمحے فرار کے لیے تیار تھے، ان کے لباس میں پانچ سو یورو کے نوٹ سلے ہوئے تھے اور دو ٹیلی فون نمبر بھی درج تھے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں پاکستان فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن میں بچنے والوں میں اسامہ بن لادن کے رشتہ دار بھی شامل ہیں جن کا علاج راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال میں ہو رہا ہے۔

امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے دہشتگردوں کی فہرست میں مزید نام شامل ہو سکتے ہیں۔

اسامہ کو ہلاک کرنے والی کمانڈو ٹیم نے ایبٹ آباد میں اس گھر سے جہاں اسامہ بن لادن قیام پذیر تھے دس کمپیوٹر، دس موبائیل فون اور تقریباً ایک سو فلیش ڈرائیویں برآمد کی تھیں۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor