اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

بابری مسجد: ہائیکورٹ الہ آباد کا فیصلہ معطل

جب کسی فریق نے متنازعہ اراضی کو تقسیم کرنے کی درخواست نہیں کی تو اس طرح کے فیصلہ نہین دیا جانا چاہیے تھا

نئی دہلی (میزان ڈیسک) بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو حکم امتناعی کے ذریعے معطل کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پچھلے سال ستمبر کے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازعے کے فیصلے پر ہندو اور مسلم فریقین کی اپیلوں کی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو یہ کہہ کر معطل کر دیا کہ اراضی کی تقسیم کی کسی فریق نے درخواست ہی نہیں کی تھی۔ جسٹس آفتاب عالم اور آر ایم لودھا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے ابتدائی مشاہدے میں کہا کہ ’یہ بہت عجیب بات ہے کہ جب کسی فریق نے متنازعہ اراضی کو تقسیم کرنے کی درخواست نہیں کی تو اس طرح کے فیصلہ نہین دیا جانا چاہیے تھا ۔ اس لیے اس فیصلے کو معطل کیا جاتا ہے مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنما سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے ۔

ہندو فریق کے وکیل روی شنکر پرساد نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے تمام اپیلوں کو سماعت کے لیے قبول کر لیا ہے ۔ تمام دستاویزات کی تیاری کے بعد اب اس مقدمے کی سماعت از سر نو ہو گی۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor