اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

بحرین:بحران شدید،سعودی عرب ایران کشیدگی

سعودی حکومت نے تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کی دھمکی دی ہے، مبصرین کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

منامہ (نیوزڈیسک) برطانوی روز نامہ گارڈین نے اپنی ویب سائٹ پرجاری کردہ ایک رپورٹ میں بحرین میں حکمراں شاہی خاندان کا اکثریتی عوام کیساتھ ناروا سلوک اور اقدامات سے عوام کیخلاف  تشدد اور سرکوبی  کی نئی لہر کا پتہ چلتا ہے،بحرین کے داراحکومت منامہ کے مضافات میں سعودی اور بحرینی فوجوں کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ شاہی حکومت کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبایا جائے گا۔ سعودی حکام کہتے ہیں کہ اُن کی فوج بحرین سے اُس وقت تک واپس نہیں جائے گی جبتکہ وہاں آلِ خلیفہ کی بادشاہت مستحکم نہ ہوجائے۔

دوسری طرف بحرین کے مسئلے کو لیکر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے،ایرانی حکام کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے امریکی اشارے پر بحرین میں جمہوری تحریک کو دبانے کیلئے بحرین فوج بھیجی تھی۔خیال رہے بحرین کی شاہی حکومت نے عوام کی مرضی کیخلاف اپنی سمندری حدود امریکی بحری بیڑے کے استعمال میں دے رکھی ہے۔ ایران سرکاری طور پراس فوجی مداخلت کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کررہا ہے کہ سعودی فوجوں کوبحرین سے نکالا جائے،اب سعودی شاہی حکومت نے تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کی دھمکی دی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔

بحرین کی سیاسی تنظیم تحریک الاحرار کے سربراہ سعید الشہابی نےپریس ٹی وی کوانٹرویودیتےہوئےکہاہےکہ شاہی فرمان پر سیکڑوں بحرینی شہریوں کونوکریوں سےنکال دینا، گذشتہ مہینےکی تنخواہیں نہ دینا، بیرون ملک تعلیم حاصل کرنےوالےطلبہ کواسکالرشپ سےمحروم کردینا اور دسیوں ڈاکٹروں اورنرسوں سمیت عام لوگوں کی گرفتاری اور تشدد انسانیت کےخلاف جرائم  نسل کشی اورنسلی امتیاز ہے اور اس پر دنیا کی خاموشی مذید حیرت کا باعث ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor