لیبیا پرپہلا امریکی ڈرون حملہ قذافی محفوظ
امریکی ڈرون نےطرابلس میں صدر قذافی کی رہائش کے قریب یہ حملہ کیا،ہفتے کی صبح ہونے والےحملے میں کوئی ہلاک و زخمی نہیں ہوا
طرابلس (نیوزڈیسک) امریکی عہدیداروں نے لیبیا پر پہلے ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے۔ ہفتے کو کیے گئے اس حملے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔امریکہ کی وزارت دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے لیبیا میں ڈرونز کا استعمال نیٹو افواج کی جاری فضائی
کارروائی کو مزید بہتر بنانے کا حصہ ہے۔
دریں اثناء نیٹو افواج کےتحت امریکی ڈرون نے طرابلس میں صدر معمر قذافی کی رہائش کے قریبی علاقے پر حملہ کیا،ہفتے کی صبح ہونے والے اس حملے میں کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
لیبیائی حکام نے حملے کی جگہ سے متعلق بتایا ہے کہ یہ ایک پارکنگ ایریا تھا لیکن مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کنکریٹ کے بلاکس سے بنا ہوا ایک بنکر تھا جس کے قریب ڈبوں میں بھرا اسلحہ بھی موجود تھا۔
دوسری طرف اٹلی کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ لیبیائی حکام نے گذشتہ ماہ طرابلس کی بندرگاہ سے تحویل میں لیے گئے ایک اطالوی بحری جہاز کو عملے کے گیارہ ارکان سمیت رہا کردیا ہے۔ یہ بحری جہاز ایک اطالوی کمپنی کے لیے کام کرتا تھا جسے بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے لیبیا پر نو فلائی زون نافذ کرنے سے کچھ دیر قبل تحویل میں لیا گیا۔