اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

پاکستان:چینی فوج کی موجودگی بھارت،چین سےبات کرئےگا

در آمد میں بھارت کا چین پر انحصار تیزی سے بڑھتا گیا ہے جبکہ بھارت کی برآمد بنیادی طور پر خام فولاد تک محدود ہے۔

بیجنگ (نیوزڈیسک) بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ چین , بھارت، برازیل، روس اور جنوبی افریقہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ کے دورے پر ہیں۔

اقتصادی اعتبار سے ابھرتے ہوئے ان ملکوں کی انجمن برکس کا مقصد معیشت اور بین الا قوامی معاملات میں تعاون کرنا ہے۔

برکس کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ وزیر اعظم منموہن سنگھ چین کے صدر ہو جنتاؤ سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بات چیت کے لیے علیحدہ ملاقات کریں گے۔

چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور بیجنگ کے دورے سے قبل مسٹر سنگھ نے دلی میں جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہند، چین تعلقات بہت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور اب یہ تعلقات عالمی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارت کی مالیت 60 ارب ڈالر ہے جو آئندہ چار برسوں میں سو ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ لیکن یہ تجارتی تعلقات عمومی طورپر چین کے حق میں ہیں کیونکہ چین ابھی تک بھارت سے صرف خام فولاد ہی درآمد کرتا رہا ہے۔ جبکہ بھارت الکٹرانک کے سامان و بھاری مشینری اور ٹیلی مواصلات کے کل پرزوں سمیت متعدد بنیادی اشیاء چین سے درآمد کرتا رہا ہے۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں بھارتی امور کی تحقیق کے سربراہ سمیرن چکرورتی کا کہنا ہے کہ اہم اشیا کی در آمد میں بھارت کا چین پر انحصار تیزی سے بڑھتاگیا ہے جبکہ بھارت کی برآمد بنیادی طور پر خام فولاد تک محدود ہے۔ مسٹر سنگھ صدر ہو جنتاتاؤ سے اپنی بات چیت میں چین کی منڈی بھارت کے لیے کھولنے پر زور دیں گے۔

منموہن سنگھ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ہفتے بھارتی فوج نے یہ تشویش طاہر کی تھی کہ چینی فوجی کشمیر میں کنٹرول لائن کے نزدیک موجود ہیں ۔

حالیہ مہینوں میں ارونا چل پردیش اور لداخ سیکٹر میں چینی فوجیوں کے بھارتی خطے میں داخل ہونے کی کئی بار خبریں آئی ہیں۔ چین کے ذریعے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے باشندوں کے لیے معمول کا ویزا دینے کا بجائے علیحد ہ پرچی پر ویزا جاری کرنے سے بھی بھارت میں چین کے رویے کے بارے میں شک و شبہات رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان کئی برس سے سرحدی تنازعے پر بات جیت چل رہی ہے لیکن بظاہر اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو ئی ہے۔

مسٹر سمیرن مکھرجی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دیں۔ اگر دونوں ممالک کو ایک مشترکہ سرحد کے ساتھ پر امن طریقے سے اور تیز رفتار اقتصادی ترقی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے تو دونوں کو کشیدہ تعلقات کے بجائے باہمی تعاون و اشتراک کے تعلقات قائم کرنے ہونگے ورنہ دونوں ہی ملکوں پر منفی اثرات پڑیں گے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor