پاکستان : بیوی نےشوہر کوجلاکر ہلاک کردیا
ہر مرتبہ مرد ہی قصور وار نہیں ہوتا اور یہ مائنڈ سٹ ختم ہونا چائیے کہ عورت ہی ظلم کی چکی میں پستی ہے۔
کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان میں عورتوں کے خلاف تشدد روز کا معمول ہے دنیا بھر سے مالی وسائل حاصل کرنے والی این جی اوز پاکستان کے دور دارزپاسماندہ علاقوں کے چکر لگاتی ہیں اور عورتوں پر مظالم کی داستان دنیا بھر میں عام کرتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ متاثرہ عورت کو اس کا کتنا فائدہ پہنچتا ہے، یہ الزام کہ پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز بیرونی ایجنڈے پر کام کررہی ہیں مطلقا درست نہیں ہے،پاکستان ،افغانستان،بھارت اورخلیجی عرب مملک جہان عمومی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تناسب سب سے زیادہ ہےلہذا اِن ملکوں میں این جی اوز کا کردار کا مثبت ہونا ضروری ہے،اب بحرین کو ہی لیں وہاں ہرروز عورتوں کیساتھ حکام دست داری کررہے ہیں لیکن اس پر سب کی خاموشی ہے۔
پاکستان میں عورتوں پر تشدد اور اُن کے حقوق کی پامالی کے زیادہ واقعات قبائلی معاشرے میں ہوتے ہیں اور ایسی ایسی سزائیں تجویز کی جاتی ہیں جنھیں متمدن دنیا میں وحشت اور بربریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں شہری علاقوں میں عورت کیساتھ زیادہ دیر تک انسانیت سوز رویہ اختیار کرنا ممکن نہیں لہذا شہری علاقوں میں عورت کو جلا کر قصّہ تمام کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔
اب آئیے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون چلتے ہیں،جہاں ایک شوہر کو مبینہ طور پر بیوی نے اپنے بھائیوں کیساتھ ملکر جلا دیا جو بعد ازاں دوران علاج دم توڑ گیا۔ متوفی 30 سالہ غفار کے معالج نے بتایا کہ وہ سو فیصد تک جھلس چکا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک مرد پرعورت کے ہاتھوں مبینہ ظلم پر کون کون سی این جی اوز سامنے آتی ہیں۔ مردوں پر مظالم کی روک تھام کیلئے بھی آواز ضرور اُٹھانی چائیے کیونکہ ہر مرتبہ مرد ہی قصور وار نہیں ہوتا اور یہ مائنڈ سٹ ختم ہونا چائیے کہ عورت ہی ظلم کی چکی میں پستی ہے۔
1 تبصرہ