اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

آئی ایس آئی کےسربراہ جنرل پاشا کی سی آئی اے چیف سے ملاقات

یہ دورہ ایسے وقت کیا جارہاہےجب دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دونوں خفیہ اداروں کے درمیان تعاون اطلاعات کے مطابق تعطل کا شکار ہے۔

اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان کے حساس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پیر کو اسلام آباد سے امریکہ کے لیے روانہ ہوئے جہاں وہ امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ سے اہم ملاقات کی۔اور اپنا تین روزہ دورہ مختصر کرکے واشنگٹن سے روانہ ہوگئے۔ اس ملاقات کو نتیجہ خیز بتایا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل شجاح پاشا کے دورہ امریکہ کے بارے میں سلامتی کے اُمور سے متعلق ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے  بتایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ باہمی دلچسپی کے اُمور پر بات چیت کے لیے امریکہ گئے ہیں۔

وہ یہ دورہ ایک ایسے وقت کر رہے ہیں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں خفیہ اداروں کے درمیان تعاون اطلاعات کے مطابق تعطل کا شکار ہے۔ مبصرین کے خیال میں جنرل پاشا کی اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات دونوں خفیہ اداروں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

امریکی خفیہ ادارے سے نجی حیثیت میں منسلک عہدے دار ریمنڈ ڈیوس کی جنوری کے اواخر میں دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعد سے آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے تعلقات میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

امریکہ کا اصرار تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنا حاصل ہے لیکن گذشتہ ماہ مقتولین کے لواحقین کے ساتھ دیت کے اسلامی قانون کے تحت اُس کی رہائی عمل میں آئی۔

باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ملک کی سلامتی کے ذمہ دارادروں کو چوکنا کردیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے پاکستان کے شہروں میں پرائمری فلیڈ انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کررہی ہے، دونوں اداروں کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے جنرل پاشا کا دورہ امریکہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor