اسرائیل،غزہ کی ناکہ بندی ختم کرئے اقوامِ متحدہ
اسرائیلی وزیراعظم نے آئندہ ماہ غزہ کی ناکہ بندی کے باوجود امدادی سامان پر مشتمل کشتیوں کے قافلے کو روکوانے کیلئے اقوامِ متحدہ سے
مدد مانگی ہے۔
نیویارک (نیوزڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے ارادے سے آنے والے کشتیوں کے قافلےفریڈم فلوٹیلا کو روکنے میں مدد کریں۔
مسٹر نیتن یاہو یہ درخواست سیکرٹری جنرل بان کی مون سے فون پر بات کرتے ہوئی کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے مسٹر بان کو بتایا کہ اس فلوٹیلا کے منتظمین میں ”اسلامی انتہا پسند عناصر“ بھی شامل ہیں جو ممکنہ طورپر اسرائیل سے محاذ آرائی کرسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی وزیراعظم کے تحفظات سننے کے بعد کہا کہ غزہ کیلئےامدادی سامان لے جانے کے خواہشمندوں کے لیے زمینی راستے بھی موجود ہیں،اسرائیل کوبھی علاقے کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے ”بامقصد اقدام“ کرنے چاہئیں۔
کشتیوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی بیڑہ آئندہ ماہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک سال قبل بھی کشتیوں کے ایک قافلہ”فریڈم فلوٹیلا“جب غزہ کی طرف بڑھ رہا تھا تو اسرائیلی کمانڈوز نے اس پر حملہ کرکے نو امدادی کارکنوں اور میڈیا پرسن کو ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے پر دنیا بھر میں اسرائیل کو شدید تنقید کر سامنا کرنا پڑا تھا۔
خیال رہے اسرائیل نے یکطرفہ طور پرکئی سالوں سے غزہ کا محاصرہ کیا سوا ہےاور عالمی برادری کی مسلسل اپیلوں کے باوجود اسرائیل محاصرہ ختم کرنے کو تیار نہیں ہے غزہ کا زمینی راستہ اسرائیل سے اور دوسری طرف مصر سے ملتا ہے، اسرائیل نے مصر کی سرحدیں بن کردی ہیں اور اسرائیل سے سپلائی لائن مکمل طور پر منقطع کردیں ہیں جس کے باعث غزہ کے فلسطینی ادویات اور خوراک کی قلت سے دوچار ہیں۔