امریکہ وقت کی پکار کو سنےورنہ سب برباد ہوجائے گا
اسی دوہرے میعار پر مبنی عالمی پالیسیوں کی وجہ سے آج دنیا غیر محفوظ ہوگئی ہے ۔ وقت گزر رہا ہے جلد سدہار پیدا کیا جائے۔
کراچی (نیوزڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا میں ملعون پادری کی جانب سے قرآن کریم کی بے حرمتی کیخلاف افغانستان میں جاری پُرتشدد مظاہروں کہ جس میں 20 بےگناہ افراد لقمہ اجل بن گئے اور مزار شریف میں اقوامِ متحدہ کا دفتر خاکستر ہوگا توامریکی صدر براک اوباما نے سخت گیر نظریات رکھنے والے پادری کے اس فعل کو “انتہائی عدم برداشت اور تعصب” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرنے پرگزارہ کیا جبکہ ملعون پادری کیخلاف کوئی کارراوئی نہیں کی بلکہ اس پادری کی ہرزہ سرائی مسلسل جاری ہے۔ اوبامہ نے صرف ایک جملے میں پادری کا نام لئے بغیر اُسکی مذمت تو کی مگر اُن کا اصل ہدف وہ مشتعل افراد رہے جنھوں نے دو روز قبل مزار شریف میں اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملہ کیا اور کم از کم 10 غیر ملکی اہکاروں کے گلے کاٹ دیئے تھے۔ یقینا مشتعل افراد کا یہ اقدام انسانیت سوز ہے بلکل اُسی طرح جیسا کہ ملعون پادری کا فعلِ قبیح تھا۔
اب وہ وقت نہیں ہے جب سرمایہ دار دنیا کا دوہرا معیار رکھنا محسوس عمل قرار نہیں پاتا تھا،مسلم اُمہ سرمایہ داروں کے اشاروں پر چلنے والی امریکی انتظامیہ سے ضرور یہ پوچھے گی کہ لیبیا میں آمر قذافی کی جانب سے اپنی عوام کیخلاف فوجی طاقت استعمال کرنے پر تو امریکی فضائیہ لیبیا کی حکومت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول تہس نہس کر دیتی ہےلیکن بحرین اور سعودی بادشاہتوں کو اپنے عوام کیخلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے باوجود کیوں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ جمہوریت کیلئے دوہرا معیار کیوں ہے۔ امریکی ٹیکس دہندگان اپنی حکومت سے یہ سوال کب کریں گے کیوں نہیں سرمایہ داروں کی لے پالک مغربی حکومتوں سے یہ سوال کیا جاتا ہے؟ پاکستان اور لیبیا کیلئے جمہوریت اور بحرین ،سعودی عرب،یمن، متحدہ عرب امارات اورکویت کیلئے بادشاہتیں کیوں؟ ایسا کب تک چلتا رہے گا پھر کہا جاتا ہے کہ مسلم معاشرہ تشدد کو پسند کرتا ہے،اسی دوہرے میعار پر مبنی عالمی پالیسیوں کی وجہ سے آج دنیا غیر محفوظ ہوگئی ہے ۔ وقت گزر رہا ہے جلد سدہار پیدا کیا جائے،عالمی طاقت رکھنے والے صدر اوبامہ وقت کی پکار کو سنے کی کوشش کریں ورنہ سب برباد ہو جائے گا۔