اُسامہ قتل: وائٹ ہاوس اپنےبیان سےپھرگیا
اسامہ کا القاعدہ میں کردار محدود نہیں ہوا تھا،امریکہ ایمن الزواہری نے القاعدہ کے معاملات سے اُسامہ کو لا تعلق کردیا تھا
واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسامہ بن لادن کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے متعلق اب ایسی معلومات سامنے آ رہی ہیں جو پہلے دی گئی تفصیلات سے بظاہر مختلف ہیں۔ان نئی تفصیلات سے بظاہر اسامہ بن لادن
کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں جاری ہونے والی ابتدائی تفصیلات کی نفی ہوتی ہے۔
امریکی حکام کا اب یہ کہنا ہے کہ اسامہ کے مکان کے اندر ہونے والی کارروائی کے دوران امریکی سپیشل فورسز پر صرف ایک شخص نے گولی چلائی اور اسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی کارروائی چالیس منٹ تک جاری رہی جس میں مسسلسل دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔
امریکی حکام نے اخبار دی نیویارک ٹائمز کو یہ بھی بتایا ہے کہ دستاویزات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن کا القاعدہ میں کردار محدود نہیں ہوا تھا اور وہ مسلسل منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اخبار نے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’ وہ نئے اہداف کے بارے میں خیالات پیش کرتا تھا اور ان خیالات کو القاعدہ کے سینئر رہنماؤں تک پہنچاتا تھا‘۔ اس سے قبل 5/مئی کو حکومتِ پاکستان کے حکام نے پریس کو آگاہ کیا تھا کہ ایمن الزواہری نے القاعدہ کے معاملات سے اُسامہ بن لادن کو لا تعلق کردیا تھا اور وہ ایبٹ آباد میں لاتعلق زندگی گزار رہے تھے۔