بحرینی آمرنےمظاہرین کیخلاف اسرائیل سے مدد مانگ لی
بحرین کے بادشاہ نے اپنے ملک کے شہریوں کے قتل عام کے لئے اسرائیلی سیکورٹی اور فوجی ماہرین سے استفادے کے لئے اسرئیلی حکومت کے صدر سے رابطہ قائم کیا ہے
منامہ (نیوزڈیسک) بحرین کے ایک سیاسی رہنما ی
حیی الحدید نے العالم سے اپنی گفتگو میں لندن سے شائع ہونےوالے اخبار گارڈين میں موساد کے ساتھ بحرین کی خفیہ ایجنسی کے تعلقات کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات کوئی نہيں بات نہيں ہيں کیونکہ بحرین کے حکام اسرائیلی حکام سے مسلسل رابطے میں ہيں اس بحرینی سیاستداں نے کہا کہ بحرینی وزیر خارجہ کے اسرائیلی لابی سے تعلقات بہت پرانے ہیں انہوں نے کہا کہ بحرینی حکومت ایک ظالم اور تشدد پسند حکومت ہے بحرین کے سیاسی لیڈر نے کہا کہ بحرینی عوام نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک ثابت قدم اور دلیر عوام ہيں انہوں نے کہاکہ بحرینی حکومت سعودی عرب کی فوجی مدد اور عوام کاقتل اور شدید تشدد کے باوجود بھی عوامی مظاہروں کو قابو نہیں کرسکی ۔ یاد رہے ہفتے کو بحرین کے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے منامہ کے پرل اسکوائر پر اجتماع کرکے ایک بارپھر اپنے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت کی برطرفی تک وہ اپنے مظاہرے جاری رکھیں گے مظاہرین نے کہا کہ وہ بحرینی عوام کے پائمال شدہ حقوق کو بحال کرکے ہی دم لیں گے ۔دریں اثنابحرین کے عوام کی حمایت میں دنیا کے مختلف علاقوں میں عوام نے ریلیاں نکالیں اور ان پر کئے جارہے سعودی و بحرینی حکومتوں کے مظالم کی مذمت کی ۔ سعودی عرب کے شہر القطیف اور عوامیہ میں مسلسل دوسرے روز بھی بحرینی عوام کے حق میں مظاہرے ہوئے سعودی شہریوں نے بحرینی عوام پر اپنے ملک کی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے بحرین سے سعودی عرب کی فوج کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیا ۔ جرمنی اور یورپ کے کئی دوسرے شہروں میں بھی عوام نے بحرین کے مظلوم شہریوں کے حق میں مظاہرے کئے ۔ ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں بھی علماء نے اپنے ایک ہنگامی اجلاس میں بحرینی عوام پر سعودی اور بحرینی افواج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرینی عوام کے قتل عام کو فوری طور پر بند کرائيں ۔