بحرین : اپوزیشن کیخلاف کریک ڈاون 300 گرفتار100 لاپتہ
بحرینی اپوزیشن اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو سعودی فوج کے تحت عقوبت خانوں میں اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہےاور لاشیں
سڑکوں اور گلیوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔
منامہ (نیوزڈیسک) بحرین کے سب سے بڑے اپوزیشن اتحاد اور انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بحرین کے آمر حکمران حمد بن عیسیٰ اپوزیشن کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرنے میں تیزی سے کام لے رہے ہیں ، اور جمہوریت پسند مظاہرین پر کارروائی کے ایک حصے کے طور پر 300سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور مخالفین کو سعودی عرب کی فوج کے تحت تیار کردہ عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں اور سو سے زائد لاپتہ افراد میں سے کئی افراد کی لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں رات کے اندھیرے میں پھینکی جا چکی ہیں جن کے جسموں پر تشدد کے نشانات نمایاں ہوتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد اور بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستانیوں سمیت کسی غیر ملکی کو حکومت مخالف تحریک نقصان نہیں پہنچا رہی ہے یہ کام بھی سعودی فوجوں کی بحرین پر جارحیت کے بعد شروع ہوا ہے اور مقصد یہ ہے کہ بحرین میں غیرملکیوں کی حفاظت کے بہانے اپنی مذموم سازش کو کامیاب بنایا جا سکے۔
’الوفاق کے رہنماوں نے جمعرات کو بتایا کہ16مارچ کو جب سے سکیورٹی فورسز نے منامہ پرل اسکوائر سے احتجاجی مظاہرین کو ہٹایا ہے آمریت مخالف عوام کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے ، بحرینی اہل کاروں نے 304افراد کو حراست میں لیا ہے جِس میں 11خواتین شامل ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ 24سرگرم کارکن بھی لاپتا ہیں جبکہ مجموعی طور پر 100 سے زیادہ افراد خفیہ عقوبت خانوں میں رکھے گئے ہیں
انسانی حقوق کے معروف کارکن جنھیں گرفتار کیا گیا وہ بلاگ لکھتے ہیں اور اُن کا نام محمود الیوسف ہے۔ وہ بحرینی حکومت کی اظہارِرائے کی آزادی کےجانے پہچانے ناقد ہیں۔ اُن کے خاندان کے ارکان اور انسانی آزادی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرینی اہل کاروں نے اُنھیں بدھ کے دِن حراست میں لیا۔
’الوفاق‘کےترجمان نے بتایا کہ گشت کرنے والی پولیس پارٹی نےبدھ کے روز’سارک‘ نامی شیعہ آبادی کے قصبے میں نوجوانوں کے ایک گروہ پر فائر کھولا جِس میں ایک 15برس کا لڑکا جابحق ہوا۔