اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

بحرین : قومی سیکورٹی کے نام پر مارشل لاء

رات بارہ بجے سے صبح تک کرفیو نافذ رہتا ہے ، سعودی عرب کے ایک ہزار فوجی حساس تنصیبات پر تعینات ہیں۔گارڈنر کی خصوصی رپورٹ

منامہ (نیوزڈیسک) بحرین کے دارالحکومت مناما میں اگرچہ حکومت مخالف مظاہروں کو کچل دیا گیا ہے لیکن آمر حکمرانوں اور اکثریتی عوام میں خلش برقرار ہے۔ بحرین میں پچھلے ماہ مظاہرین کے حوالے سے حکمرانوں کی قوتِ برداشت ختم ہوئی تو انہوں نے قومی سکیورٹی کے نام پر پابندیاں عائد کیں۔ لیکن ان پابندیوں کا دوسرا نام مارشل لاء ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے خصوصی نمائندے فرینک گارڈنر کے مطابق ملک بھر میں پولیس چیک پوسٹیں ہیں، ٹینک جگہ جگہ کھڑے ہیں، رات بارہ بجے سے صبح تک کرفیو نافذ رہتا ہے اور سعودی عرب کے ایک ہزار فوجی اور پولیس حساس تنصیبات پر تعینات ہیں۔

بحرین میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر رکاوٹیں اور سکیورٹی سے ان کو فرق نہیں پڑتا،لیکن اکثریتی عوام اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔

مناما کے جنوبی نواحی علاقے میں حراست میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے جنازے میں ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ علی عیسیٰ پر الزام تھا کہ اس نے مظاہروں کے دوران اپنی گاڑی سے پولیس اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی،لیکن جب اس کے خاندان والوں کو دھمکایا گیا تو اس نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا۔ چھ روز بعد علی عیسیٰ حراست میں ہلاکت ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جیل اہلکاروں کے ساتھ لڑا تھا جس کے دوران اس کی ہلاکت ہوئی۔ اس کی لاش دیکھ کر اس کا خاندان غم سے نڈھال ہو گیا۔ علی کے پورے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ پچھلے چند دنوں میں سکیورٹی اہلکاروں نے بادشاہ مخالف آبادی کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا ہے۔

جب اس واقعے کا ذکر وزیر صحت اور وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر فاطمہ سے کیا گیا تو ان کو پہلا موقف تھا کہ اپوزیشن کہانیاں گھڑتے ہیں۔ لیکن جب ان کو یہ بتایا گیا کہ جنازہ ہوا ہے اور جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے ہیں تو انہوں نے تحقیق کرانے کا وعدہ کیا۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس تنظیم کے ڈینیئل ویلیئمز کا کہنا ہے ’اگر علی عیسیٰ کی موت ٹریفک حادثے میں ہوتی تو اس کے جسم پر اتنے نشانات نہ ہوتے جتنے ابھی ہیں۔

پچھلے چند دنوں میں سکیورٹی اہلکاروں نے عوام کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا ہے۔ رات گئے سکیورٹی اہلکار گھروں میں گھس جاتے ہیں اور سارے خاندان کے سامنے چند لوگوں پر تشدد کرتے ہیں اور پھر گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اور خاندان والوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی بتایا جاتا ہے کہ اس افراد کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک ماہ میں چارسو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اور چار افراد کی ہلاکت حراست میں ہوئی ہے۔ اور اسی لیے شیعہ آبادی میں بےچینی پائی جاتی ہے۔ایک سفارتکار کا کہنا ہے ’بے روزگار اور مشتعل طبقے کو دشمن بنانا عقلمندی نہیں ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor