بحرین میں انسانی حقوق پامال، بیٹی کی بھوک ہڑتال
الوقت اخبار کے منصور الجمری اور دو دوسرے سابق ایڈیٹروں کو بحرین کے مظاہروں سے متعلق خبریں شائع کرنے کے الزامات کا
سامنا ہے
منامہ (نیوزڈیسک) بحرین میں انسانی حقوق کے ایک ممتاز کارکن کی بیٹی نے اپنے والد، خاوند اور خاندان کے دیگردو افراد کی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ انہیں حکومت مخالف مظاہرین کی پکڑدھکڑ کی مہم کے دوران ہفتے کے روز گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا تھا۔
زینب الخواجہ نے ویب سائٹ پرشائع کردہ اپنے بلاگ میں کہا ہے کہ انہوں نے پیر کی شام بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جو اپنے عزیزوں کی رہائی تک جاری رہے گی۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
زینب کے والد عبدالہادی خواجہ طویل عرصہ جلاوطنی کی زندگی گذارنے کے بعد تقریباً دس سال قبل بحرین واپس گئے تھے۔ حکام نے انہیں ہفتے کے روز خاندان کے دیگر تین افراد کے ساتھ گرفتار کرلیا تھا۔
بحرین میں حکومت مخالف مظاہرین شاہی حکومت کے خاتمے اور ایک نیا سیاسی نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں جس میں ملک کی عوام کو زیادہ حقوق حاصل ہوں ۔
اسی اثناء میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کے روز بحرین کے حکام پر زور دیا کہ وہ حزب اختلاف کے اخبار کے سابق چیف ایڈیٹر کے خلاف الزامات واپس لیں۔
پیر کے روز بحرین کے خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ الوقت اخبار کے منصور الجمری اور دو دوسرے سابق ایڈیٹروں کو بحرین کے مظاہروں سے متعلق خبریں شائع کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جمری نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا کو خاموش کرانے کی کوششیں کررہی ہے۔