بحرین: 24 شہید،انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
بحرین کے حکام نے انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن ہادی کو مارنے پیٹنے کے بعد گرفتار کرلیا۔ مظاہرین کو طبی امداد سے روکا جاتاہے
انسانی حقوق کی تنظیموں اور عبدالہادی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بحرین کے حکام نے انسانی حقوق کے
ایک معروف کارکن ہادی کو مارنے پیٹنے کے بعد گرفتار کرلیا۔ سرکاری عہدے دار ان دنوںحکومت مخالف مظاہرین کی پکڑدھکڑ کررہے ہیں۔
ان کا کہناہے کہ مسلح افراد نے، جن کے بارے میں اہل خانہ اور پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ وہ سعودی فوج کے اہل کار تھےاور مقامی پولیس کے ہمراہ تھے، ہفتے کی صبح عبدالہادی الخواجہ کے گھر پر دھاوار بولا۔ ان کی بیٹی کا کہناہے کہ مسلح افراد نے انہیں اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور پھر وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ بیٹی کا کہناتھا کہ سعودی اور مقامی اہکاراُن کی ولدہ ، خاوند اور ایک اور رشتے دار کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
خواجہ بحرین کے سینٹر فار ہیومن رائٹس سمیت انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے عہدے دار ہیں۔ گرفتاری دوروز قبل عبدالہادی نے بحرین کے حکام پر الزام لگایا تھا کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کو طبی امداد کے لیے اسپتال جانے سے روک رہے ہیں۔
جمعرات کے روز ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈز نے کہاتھا کہ بحرین کی سیکیورٹی فورسز طبی سہولتوں کے حصول کو مظاہرین کی شناخت کے طور پر استعمال کررہی ہیں اور وہ ان افراد کو گرفتار کرلیتی ہیں جو اسپتال سے مرہم پٹی کراتے ہیں۔
تنظیم کا کہناہے کہ ان افراد کو بالخصوص گرفتار کیا جاتا ہے جو پولیس یا فوج کی گولیوں سے زخمی ہونے کے بعد علاج معالجے کے لیے اسپتال جاتے ہیں۔ بحرین کے عہدے داروں کا کہناہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک24 افراد شہید ہوچکے ہیں۔