اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

تاریخ کےریکارڈکی درستگی، بابراعوان مستعفی ہونگے

بدھ کوبھٹو ریفرنس کی سماعت کے دوران بابراعوان نے استعفیٰ عدالت میں پیش کریا اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اُن کا عہدہ اس معاملے میں رکاوٹ بنے۔

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر قانون بابر اعون نے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر اور پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف صدر آصف علی زرداری کی طرف سے دائر ریفرنس کی پیروی کریں گے۔

صدر زرداری نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے عدالتی فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا تھا جس کی بدھ کو سماعت کے دوران بابراعوان نے اپنا استعفیٰ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اُن کا عہدہ اس معاملے میں رکاوٹ بنے۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کی معاونت کرکے ”آئین کی روشنی میں سیاہ دھبے کو پاکستان کی تاریخ سے اُتاریں گے۔“

اُن کے بقول صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدلیہ کی آزادی، جمہوریت اور آئین کے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے۔

ریفرنس میں صدر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت پر ختم ہونے والے عدالتی مقدمات کا ازسرِنو جائزہ لے کر اس پر اپنی رائے دیں۔ پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ذوالفقارعلی بھٹوکی موت کی سزا برقرار رکھنے والے سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل ایک سابق جج نے بھی بعد میں سرِ عام یہ تسلیم کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عدالتی فیصلہ اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دباوٴ میں دیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے ایک مقدمے میں اُنھیں موت کی سز ا سنائی تھی اور مارچ 1979ء میں سپریم کورٹ نے اپنے منقسم فیصلے میں اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کے قائدین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو عدالتی قتل قرار دیتے ہیں اور اُن کاکہنا ہے کہ اُنھوں نے سپریم کورٹ سے اس لیے رجوع کیا ہے تاکہ’ تاریخ کا ریکارڈ‘ درست کیا جائے۔

صدر زرداری کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے کو’ ری اوپن‘ کروانے کے ریفرنس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل بے معنی ہے۔

2 تبصرے

  1. Noor says:

    خون کے یہ دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

  2. Saman Ahmed says:

    Bhutto sab ki phansi per methyan bantne wale aik bhuto ka modama reopen karwne mai pesh pesh hain. yar itna topi darama karo k humare mo se tum jese logo k liay kam az kam galiyan to na niklain.
    sharam tum ko magar nhi ati.

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor