جنوبی وزیرستان: ڈرون حملہ 4 جابحق،امریکہ سے احتجاج
سترہ مارچ شمالی وزیرستان میں ایک جرگے پر حملے کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے ہیں۔
پشاور (نیوزڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دفترِخارجہ نے واقعے پر امریکی سفیر سے احتجاج کیا ہے۔
پولیٹیکل انتظامیہ کے حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں بغڑ چینہ کے مقام پر امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک میزائل پک اپ گاڑی کو لگا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جس مقام پر حملہ کیا گیا ہے یہ علاقہ انگور اڈہ کے قریب وانا کی جانب واقع ہے جہاں دہشت پسندوں کے ٹھکانے بھی موجود ہیں لیکن اس حملے میں کون نشانہ بنا ہے اب تک اس کا علم نہیں ہو سکا۔
حکام کے مطابق جس مقام پر حملہ کیا گیا ہے یہ علاقہ انگور اڈہ کے قریب وانا کی جانب واقع ہے جہاں شدت پسندوں کے ٹھکانے بھی موجود ہیں لیکن اس حملے میں کون نشانہ بنا ہے اب تک اس کا علم نہیں ہو سکا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک میزائل ایک مکان پر گرا ہے لیکن ابھی تک اس میں ہونے والی ہلاکتوں کا علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مقامی افراد ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں آج صبح سے ہی امریکی ڈرون طیارے فضا میں گشت کر رہے تھے جس سے علاقے میں خوف پایا جاتا تھا۔ سترہ مارچ کے اس حملے کے بعد یہ پہلی کارروائی ہے جب شمالی وزیرستان میں ایک جرگے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں مقامی لوگوں کے مطابق چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ دو روز پہلے امریکی سی آئی اے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکام کے مابین امریکہ میں ملاقات ہوئی ہے جس میں ڈرون حملوں پر بات چیت کی گئی ہے۔