اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

حکومت سے نچلی سطح تک کرپشن ہے،امریکہ

پاکستان میں حقوقِ انسانی سے متعلق بڑے مسائل میں ماورائے عدالت قتل، لوگوں کا لاپتہ ہو جانا اور ٹارچر شامل ہیں۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ

واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکہ نے سنہ دو ہزار دس کے لیے انسانی حقوقِ کے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں دنیا کے کئی ملکوں میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کے ذکر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ’ماورائے عدالت قتل، لوگوں کے لاپتہ ہونے اور ٹارچر‘ کو بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

جمعہ کو امریکی محکمۂ خارجہ کی حقوقِ انسانی کی یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہیلری کلنٹن نے دنیا میں’تکلیف دہ رجحانات‘ کی بات کی اور وینزویلا، روس اور چین کا بالخوص ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی حکومتوں نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کی خلاف ورزیاں کیں۔

تاہم امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ دنیا میں کچھ باتیں اچھی بھی ہوئی ہیں جن میں گزشتہ چند ماہ میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں لوگوں نے اپنے آفاقی حقوقِ انسانی کا مطالبہ کیا جو ہیلری کلنٹن کے بقول ایک مثبت تبدیلی ہے۔

پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں ’حقوقِ انسانی سے متعلق بڑے مسائل میں ماورائے عدالت قتل، لوگوں کا لاپتہ ہو جانا اور ٹارچر شامل ہیں۔ اگرچہ حکومت نے انٹرنیٹ پر چلنے والی اس وڈیو کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا جس میں فوجی وردی میں کچھ لوگ ماورائے عدالت قتل میں ملوث نظر آئے، لیکن قابلِ اعتبار انداز سے تحقیق نہ کرنے، انضباطی اور احتسابی اقدامات کی کمی اور ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مستقل طور پر کارروائی نہ ہونے سے سزا سے لوگوں کے مبرا ہونے کا کلچر فروغ پاتا رہا۔

اس رپورٹ کے مطابق حکومت کی سطح سے پولیس کے نچلے درجوں میں وسیع پیمانے پر کرپشن دیکھی گئی ہے جس کا سدِ باب کرنے کے لیے حکومت نے بمشکل کوئی اقدامات کیے۔ ’ریپ، گھریلو تشدد، جنسی بنیاد پر دھمکانا، غیرت کے نام پر قتل، اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک بھی اہم مسائل رہے۔

رپورٹ میں ’پاکستانی جیلوں کی حالتِ زار، لوگوں کو من مانی حراست میں رکھنا، استغاثہ اور وکلاء کی کمزور تربیت، عدلیہ میں نچلی سطح پر آزادی نہ ہونا اور شہریوں کی پرائیوسی کی خلاف ورزیوں‘ کا بھی خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں کیا گیا، پریس پر کسی حد تک سینسرشپ لگی، لوگوں کے اجتماع کے حق پر بھی قدغن لگی۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor