سوات:فوج کیساتھ جھڑپ میں 7 مسلح شدت پسند ہلاک
مارے گئے جنگجو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے سوات میں داخل ہوئے تھے۔ حکام
پشاور(نیوزڈیسک) پاکستان کی وادی سوات میں اتوار کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں سات مسلح شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ جھڑپ سردام نامی قصبے میں اُس وقت ہوئی جب سکیورٹی فورسز نے
مقامی افراد کی اطلاع پر علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔
حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ مارے گئے جنگجو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے سوات میں داخل ہوئے تھے۔ مہمند ایجنسی میں پاکستان کی مسلح افواج نے خیبر ایجنسی سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ جمعرات سے بڑا آپریشن شروع کررکھا ہے،جبکہ دوسری طرف ڈیرہ غازی خان سے گرفتار خود کش حملہ آور عمر کے انکشافات کے بعد سیکورٹی فورسز نے باجوڑ سے سات انتہا پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔
پاکستانی فوج نے 2009ء میں ایک بھرپور کارروائی کرکے سوات اور اس سے ملحقہ اضلاع کے بیشتر علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا تھا، جب کہ سینکڑوں جنگجوؤں افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں خصوصاً مہمند ایجنسی میں روپوش ہو گئے تھے۔ سوات اور اس کے قریبی پہاڑی علاقے میں وقتاً فوقتاً سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔