سپریم کورٹ : وفاق کی نظرِثانی کی درخواست مسترد
عدالت نے حکم دیا ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، سیکرٹر ی قانون کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ ملتوی
اسلام آباد (نیوزڈیسک) سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے لاہور اور سندھ ہائی
کورٹس کے چھ ایڈیشنل ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے حکم دیا ان چھ ججز کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ ان ججز میں لاہور ہائی کورٹ کے چار اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز شامل ہیں۔ ان میں یاور علی خان، فرخ عرفان خان، ماموں رشید شیخ، مظاہر علی اکبر، محمد تسلیم اور سلمان حامد شامل ہیں۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے نہ ہی پارلیمانی کمیٹی کی حیثیت ختم ہوگی اور نہ ہی اس کمیٹی کا اختیار ختم ہوگا۔
عدالت نے ان چھ ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پر وفاقی سیکرٹر ی قانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔
جسٹس محمود اختر شاہد صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جوڈیشیل کمیشن کی طرف سے بھجوائے جانے والے نام مسترد کردے۔
اُنہوں نے کہا کہ ان چھ ایڈیشنل ججز کی سفارشات کو مسترد کیے جانے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے وجوہات بھی بیان کی تھیں۔ بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان ججز سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی وجوہات کو سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں یہ قرار دے چکی ہے کہ جوڈیشیل کمیشن کی سفارشات مسترد کیے جانے کی صورت میں آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی جس سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے اور اُن کے ارکان کے فیصلے کو کسی طور پر بھی چیلنج نہیں جاسکتا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آٹھ رکنی کمیٹی کو کسی طور پر بھی پارلیمنٹ نہیں کہا جاسکتا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کے ارکان کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔ بینچ میں شامل جسٹس طارق پرویز کا کہنا ہے کہ آئین میں متوازی ادارے بنانے کی گُنجائش نہیں ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج یاور علی خان کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ چاہتی ہے کہ اُن کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی کو پارلیمنٹ میں چیلنج نہ کیا جائے تو پھر اُنہیں اس حوالے سے نئی قانون سازی کرنا ہوگی جس طرح سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین میں کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے تو سپریم کورٹ کو اس قانون پر نظرثانی کا اختیار بھی ہے۔