شام کیخلاف اسرائیل اور سعودی حکومت کا محاذ
سعودی شہزادے بندر بن سلطان آلِ سعود نے شیخ یوسف القرضاوی سے رابطہ کیا اور انھیں سعودی عرب کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا
دمشق (نیوزڈیسک) شام میں سیاسی انتشار پیدا کرنے میں اسرائیلی کردار بے نقاب ہوجانے کے بعد اب شام کی انٹیلی جنس نے صدر بشار الاسد کو اطلاع دی ہےکہ کچھ حلقوں کیطرف سے سیاسی انتشارپیدا کرنے کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد کہ اب سعودی عرب کی حکومت نے شام کےوہابی نظریات رکھنے والے مذہبی حلقوں کے ذریعےایسے فرقہ وارانہ رنگ دینا شروع کردیا ہے تاکہ شام میں سعودی عرب کے سیاسی نظریات آگے بڑھائے جا سکیں اور بشار الاسد کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کے اسرائیل کو تسلیم کرنے پرمبنی فارمولے کو مان لے شام کے مذہبی رواداری پر مبنی معاشرےکو تباہ کرنے کی اسرائیلی خواہش کو سعودیوں کے ذریعے عملی جامہ پہنائے جانے پر حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے سعودی نواز عالم شیخ یوسف القرضاوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں ناکہ سعودیوں کی ایماء پر جنھوں نے فلسطینی کاز کو یہودیوں کی حمایت کے عوض بیج دیا ہے شیخ یوسف بشارالاسد کے خلاف بغاوت کی دعوت دینے سے قبل یہ سوچیں کہ وہ کیا کررہے ہیں، بشار الاسد نہ صرف اسرائیل کے خلاف ڈٹے ہوئے واحد عرب رہنما ہیں بلکہ اُنھوں نے فلسطینوں کو گلے لگایا اور اپنے ملک کے وسائل مہیا کئے۔
دوسری طرف اسرائیل نے شام میں سیاسی انتشار کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے روس کو شام کیساتھ میزائل معاہدے پر نظر ثانی کرنے کیلئے کہا ہے۔ اسرائیلی حکام روسیوں کو یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شام کا تبدیل ہوتا ہوا سیاسی منظر نامہ میزائل معاہدے کیلئے خطرناک ہےاور یہ کہ میزائل حزباللہ اور حماس کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔
ابنا نیوز ایجنسی کے مطابق خالد مشعل شام کے مذہبی اسکالر سے درخواست کی ہے کہ وہ سعودیوں کے اشارے پر یہودیوں کی سازش کا حصّہ نہ بنے بلکہ اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلے کریں۔ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے شیخ یوسف القرضاوی سے رابطہ کیا اور انھیں سعودی عرب کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے صدر اسد کے مخالفین کا ساتھ دینے کو کہا۔