شمالی وزیرستان: ڈرون حملہ 23 جابحق
جس مکان پر میزائل داغے گئے ہیں وہ ٹھکانہ حافظ گل بہادر کا ہے پانچ بچے اور چار خواتین جابحق ہوئی
پشاور (نیوزڈیسک) پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعہ کی صبح امریکی ڈرون طیارے نے ایک مکان پر چار میزائل
داغے جس کے نتیجے میں تیئس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں نے تحصیل میر علی کے علاقے سپین وام میں میزائل داغے، مکان بہت بڑا تھا اور ڈرون طیارے سے چار میزائل داغے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق جس مکان پر میزائل داغے گئے ہیں وہ ٹھکانہ حافظ گل بہادر کا ہے۔ حکام کے مطابق جس ٹھکانے پر حملہ ہوا ہے اس کے ساتھ والے مکان جو کہ گل شریف نامی شخص کی ملکیت ہے کو بھی شدید نقصان پہنچا جسکی وجہ سے پانچ بچے اور چار خواتین جابحق ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث شدت پسندوں نے سپین وام کو ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ سپین وام کی سرحدیں کرم ایجنسی اور ضلع ہنگو سے ملتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی فوج کے چیئرمین جوانئنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن ایک روز قبل ہی پاکستان کے دورے پر تھے۔ انہوں نے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا کہ اس کے روابط شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک سے ہیں۔
ان کے دورے کے اختتام پر آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جنرل کیانی نے ایڈمرل مولن کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے ڈرون حملوں کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ یہ حملے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے باعث عوامی رائے فوجی کارروائی کے خلاف ہوتی جا رہی ہے