طالبان نےپاڑہ چنارپشاورشاہراہ پربارودی سُرنگیں بچھادیں
فوج کرم ایجنسی میں طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی ہے،معاہدہ شکنی کی سزا پر حکومت نے عملدرآمد نہ کراکے بحران پیدا کیا
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پیرکو ایک مسافر گاڑی سڑک میں نصب بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور قبائلیوں کے مطابق یہ گاڑی گڑمان کے علاقے سے ایجنسی کے
صدر مقام پاڑہ چنار جا رہی تھی ۔ زخمیوں کو پاڑہ چنار ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔
پاڑہ چنار کو پشاور سے ملانے والی شاہراہ پر گذشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد بار مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور کم وبیش شیعہ مسلک کے40 افراد جابحق ہوچکے ہیں جنمیں بچے بھی شامل ہیں۔ جس کے بعد سے اس مرکزی سڑک پر ٹریفک بند ہے۔
کرم ایجنسی کئی سال تک فرقہ وارانہ فساد کی لیپٹ میں رہی اور اس کے صدر مقام پاڑہ چنار کو پشاور سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر تشدد کے ایسے ہی واقعات کے باعث یہ سڑک تقریبا تین سال تک بند رہی اور رواں سال جنوری میں ایک معاہدے کے بعد اسے آمد ورفت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا۔ اس معاہدے پر ایک فریق کی خلاف ورزی کی بنا پرسڑک دوبارہ بند ہوگئی ہے،سابق سینیٹر علامہ عابد حسین نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ معاہدہ شکنی کی سزا پر حکومت نے عملدرآمد نہ کراکےبحران پیدا کردیا ہے اور کرم ایجنسی کی شیعہ آبادی ایک بار پھر محصور ہوگئی ہے اور حکومت اور فوج کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مخالف فریق کے ہم عقیدہ طالبان کیخلاف کرم ایجنسی میں فوج کارروائی نہیں کرنا چاہتی ہے
دریں اثنا پشاور کے علاقے حیات آبادمیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب خود کارہتھیاروں سے لیس شدت پسندوں نے پولیس کے اہلکاروں پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک زخمی کر دیا۔ حکام کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی سے تین حملہ آور بھی مارے گئے۔