اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

غزہ:القائدہ نےفلسطینی حامی اطالوی کارکن کو ہلاک کردیا

فسلطینی حامی اطالوی کارکن کے قتل سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ القائدہ اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے درپردہ تعلقات ہیں،مبصرین

حماس نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے ایک امن پسند اطالوی کارکن کی لاش غزہ شہر میں ایک مکان سے مل گئی ہے۔ جمعہ کے روز حکام نے بتایا کہ حماس پولیس نے القاعدہ سے منسلک جہادی گروپ ”سلافی“ کے ایک رکن کے مکان پر چھاپا مارا جہاں سے اُنھیں مغوی کارکن ویٹوریو آریگونی کی لاش ملی۔

ایک روز قبل جہادی گروپ نے مغوی کارکن کی ویڈیو فلم جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر حماس نے انتہا پسند گروہ کے ایک رہنما اور دو ممبران کو جمعرات کی شب تک رہا نا کیا تو اطالوی باشندے کو قتل کر دیا جائے گا۔

ویڈیو میں مغوی کی آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوئی تھی جب کہ اُس کے چہرے پر زخم بھی واضح تھا۔ ویڈیو میں ایک شخص جس کا صرف ہاتھ نظر آیا، نے ویٹوریو آریگونی کے سر کو بالوں سے پکڑ کر اوپر کی طرف کیا تاکہ مغوی کا چہرہ کیمرے میں نظر آ سکے۔ حماس حکام کے مطابق دو اغوا کاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

ویٹوریو آریگونی ایک صحافی اور مصنف تھے اور وہ فلسطینیوں کے حامی ایک گروپ ”انٹر نیشنل سولیڈیرٹی موومنٹ“ سے منسلک تھے۔

ویٹوریو آریگونی کی لاش ملنے سے پہلے اطالوی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اُسے اغوا کی اس واردات کا علم ہے اور مغوی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

2007ء میں حماس کی طرف سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کسی غیر ملکی کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس افسوسناک واقعے پر آزاد مبصرین کاکہنا ہے کہ فسلطینی حامی اطالوی کارکن کے قتل سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ القائدہ اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے درپردہ تعلقات ہیں اور انسان دشمن دونوں قوتوں کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی مقصد میں یکسانیت ہے۔ عام ذہنوں کاسوال ہے کہ نائن الیون کے سانحہ پر یہودی ورلڈ ٹرید  سنٹر سے کیوں غائب تھے۔غزہ میں فسلطینی حامی کے قتل نے القائدہ اور اسرائیل کے تعلقات کو آشکار کردیا ہے۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor