غزہ پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری 17 فلسطینی شہید
امریکی ترجمان نےحماس کی مذمت کی مگرغزہ کےعام شہریوں پراسرائیلی طیاروں کی بمباری اورمیزائیل حملے کی مذمت سے گریز کیا۔
فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے تین کارکن شہید ہو گئے ہیں۔ اس طرح تین دن سے جاری اسرائیلی جارحانہ کارروایوں میں سترہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعدادعام شہریوں کی ہے۔ درجنوں افراد زخمی بھی ہے۔ اسرائیل نے جمعہ کے روز غزہ میں بمباری کی جبکہ فلسطین کی آزادی کیلئے سرگرم حماس نے اسرائیل پر مارٹر گولے داغے، یاد رہے کہ جمعرات کو حماس نے ایک اسرائیلی بس کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک یہودی نوجوان شدید زخمی ہوا تھا۔ جسکے بعد اسرائیل نے غزہ پر طیاروں سے میزائیل
داغے اور شدید بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بیس سے زیادہ حملے کیے جن میں درجن سے زائد افراد شہید اور پینتالیس کے قریب زخمی ہو گئے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل حملے گزشتہ ہفتے اسرائیل کی طرف سے حماس کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کے جواب میں کئے ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی پولیس کے ترجمان کےمطابق حماس نے اسرائیل پر جمعہ کے روز پندرہ راکٹ داغے گئے تاہم کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق اسرائیل پر جمعرات کے روز پچاس سے زیادہ مارٹر گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں ایک مکان کو نقصان پہنچا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کی شب جنگ بندی کا معاہدہ ہوا مگر اس کے باوجود اسرائیل نے غزہ پر میزائیل حملہ کردیا، جس سے جنگ بندی کامعاہدہ ختم ہو گیا، حماس کے ملٹری ونگ کے ترجمان نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
حماس کی جانب سے اسرائیلی بس پر کیے جانے والے حملے کی امریکہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو اُن اطلاعات پر تشویش ہے جس کے مطابق غزہ میں حماس کے شدت پسند جدید ٹینک شکن ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔امریکی ترجمان نے غزہ کے عام شہریوں پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور میزائیل حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔