اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

قذافی جنگ بندی اورمخالفین سےمذاکرات پر آمادہ ہوگئے

کرنل قذافی نے کئی گھنٹوں مذاکرات کے بعد افریقی یونین کا امن منصوبہ تسلیم کر لیا،جنگ بندی کے بعد متحرب فریقین مذاکرات کریں گے

طرابلس (نیوزڈیسک) جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا ہے کہ لیبیا کے رہنماء کرنل قذافی نے آٹھ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افریقی یونین کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کو تسلیم کر لیا ہے۔

صدر جیکب زوما کی قیادت میں پانچ افریقی ملکوں کےسربراہ لیبیا کا دورہ کر رہے ہیں۔ جیبکب زوما تین دوسرے افریقی رہنماؤں نے اتوار کے روز طرابلس میں کرنل قذافی سے ملاقات کی۔ افریقی وفد کے اراکان اب قذافی مخالفین کے گڑھ بن غازی جا رہی ہیں جہاں وہ باغیوں سے بات چیت کریں گے۔

افریقی یونین کے امن منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی،پریشان حال عوام کیلئے امدادی سرگرمیوں کیلئے راستے کھولنا اور حکومت اور باغیوں کے مابین بات چیت شروع کرنا شامل ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر نے کرنل قذافی سے کئی گھنٹوں پر میحط بات چیت کے بعد کہا ’ بھائی کرنل قذافی نے ہماری طرف سے پیش کیے جانے والے راہ امن منصوبے کو مان لیا ہے اور جنگ بندی کو موقع دینا چاہیے۔

جنوبی افریقہ کے صدر واپس ملک روانہ ہو رہے ہیں اور ان کے وزیر خارجہ افریقی وفد کے ہمراہ بن غازی جائیں گے جہاں وہ عبوری نیشنل کونسل کے ممبران سے راہ امن منصوبے پر بات چیت کریں گے، جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کی قیادت میں لیبیا کا دورہ کرنے والے وفد میں کانگو، مالی، موریطانیہ اور یوگنڈا کے رہنما شامل ہیں۔

جنوبی افریقہ کی وزراتِ خارجہ کے مطابق نیٹو نے اس وفد کو لیبیا جانے اور طرابلس میں لیبیا کے رہنما سے ملنے کی اجازت دی ہے۔ یہ وفد دس اور گیارہ اپریل کو بن غازی میں عبوری نیشنل کونسل سے بھی ملاقات کرے گا۔ جنوبی افریقہ کی وزراتِ خارجہ کے مطابق یہ وفد فریقین سے فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ مذاکرات پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor