قذافی مخالفین : تادمِ مرگ جنگ جاری رکھنے کا اعلان
افریقی وزراء خارجہ کی جنگ بندی تجویز مسترد کردی مسٹر قذافی کا جانا ٹھہر گیا ہے، اِس معاملے پراب کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
بن غازی (نیوزڈیسک) لیبیا میں قذافی مخالفین پر مشتمل عبوری حکومت کے سربراہ نے افریقی یونین کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ مصطفیٰ عبد الجلیل نے پیر کے روز بن غاری میں افریقی ملکوں کے
وزرائے خارجہ کے ایک وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ کوئی بھی تجویز جس میں یہ کلیدی مطالبہ شامل نہ ہو کہ لیبیائی لیڈر معمر قذافی اور اُن کا خاندان ملک چھوڑکر چلا جائے، قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
افریقی یونین کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ تجویز میں فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ باغیوں اور حکومت کےدرمیان مذاکرات، لیبیا میں غیر ملکی شہریوں کا تحفظ اور عام شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہونے والی بات چیت میں کرنل قذافی اِس تجویز کو مان گئے ہیں۔ تاہم، باغیوں کے لیڈر نے کہا ہے کہ یہ ثالثی بہت تاخیر سے سامنے آئی ہے۔
عبدل الجلیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسٹر قذافی نےبین الاقوامی قراردادوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک نظر انداز کیے رکھا جِن میں عام شہریوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ باغی یا تو مسٹر قذافی کی افواج کی طرف سے ہلاک کیے جانے والوں کے ساتھ فوت ہو جائیں گے یا پھرفتح سے ہمکنار ہوں گے۔ لیبیا کی عبوری حکومت کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ مسٹر قذافی کا جانا ٹھہر گیا ہے، اِس معاملے پراب کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
افریقی وزراء خارجہ کی جنگ بندی تجویز مسترد کردی مسٹر قذافی کا جانا ٹھہر گیا ہے، اِس معاملے پراب کوئی بات نہیں ہو سکتی
ثالثی بہت تاخیر سے سامنے آئی ہے