مزار:خودکش حملہ آورنے مرنے والوں سے معافی مانگ لی
تربیتی مرکز میں اُس سمیت کم از کم پانچ لڑکے تھے لیکن وہاں موجود افراد کا کہنا تھا کہ وہ لگ بھگ 400 بچوں کو خودکش حملوں کے لیے
تیار کر رہے ہیں۔
لاہور (نیوزڈیسک) جنوبی پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے قریب گذشتہ اتوار کو سخی سرور کی درگاہ پر خودکش حملوں میں شامل ایک نوجوان کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا تھا۔
جمعہ کوہسپتال کے بستر پر مقامی ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں 14 سالہ مبینہ خودکش بمبار نے کہا کہ وہ اُن خاندانوں سے معافی کا طلب گار ہے جن کے پیارے اس حملے میں ہلاک ہوئے۔
اپنا نام عمر بتانے والے اس لڑکے نے کہا ہم نے بوڑھوں، نوجوانوں، عورتوں اور معصوم بچوں کو شہید کیا ہے۔ اُن سے معافی مانگتا ہوں، الله تعالی سے معافی مانگتا ہوں۔ یہ فدائی (حملہ) بہت غلط کام ہے، یہ خودکشی ہے اورحضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث میں قول ہے کہ خودکشی حرام ہے۔
عمر کو درگاہ پر حملے کے فوراَ بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اس کوشش میں پولیس کی طرف سے چلائی گئی گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی بھی ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں کو اُس کی جان بچانے کے لیے ایک ہاتھ کاٹنا پڑا۔
انٹرویوز میں عمر نے بتایا کہ خودکش حملے میں حصہ لینے کے لیے اُس نے شمالی وزیرستان کے شہر میر علی میں دو ماہ تک تربیت حاصل کی تھی۔
اُس کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے تربیتی مرکز میں اُس سمیت کم از کم پانچ لڑکے تھے لیکن وہاں موجود افراد کا کہنا تھا کہ وہ لگ بھگ 400 بچوں کو خودکش حملوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
مبینہ خودکش بمبار کے مطابق نعیم نامی ایک شخص نے اُسے خودکش حملہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جس پر اُس نے افغانستان جا کر ایسا کرنے کی حامی بھر لی۔ لیکن شدت پسند اُسے ڈیرہ غازی خان لے آئے جہاں اس بارے میں سوال اُٹھانے پر نعیم نے کہا کہ ” اِس (شہر) میں اُس (افغانستان) سے زیادہ کفار ہیں۔“
عمر نے بتایا کہ اُس نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کیا لیکن وہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکا اور پولیس نے اُسے گرفتار کر لیا۔ ”میں اس بات پر بہت خوش ہوں کے الله تعالی نے مجھ کو نئی زندگی دی۔“
ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور کے مزار پر خودکش حملوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔