مہمند اور باجوڑ میں پاک فوج کو کامیابی نہیں ہوئی امریکی دعویٰ
امریکی انتظامیہ نے کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے پاس دہشت گردی کو ختم کرنے کے حوالے سے
کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔
واشنگٹن (نیوزڈیسک) دہشت گردی کے خلاف جنگ پر امریکی اسٹریٹیجک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند اور باجوڑ میں رواں سال شروع کیے گئے آپریشن کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن دو سالوں میں تیسری بار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں جنگجوؤں کی مزاحمت، خراب موسم اور بے گھر ہونے والے افراد جیسےے مسائل کے باعث کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔
یہ سالانہ رپورٹ صدر براک اوباما کے قومی سلامتی امور کے مشیران تیار کرتے ہیں جو امریکی کانگریس کے کو پیش کی جاتی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب تین ماہ بعد صدر اوباما افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی جانی قربانیاں دی ہیں اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کے باوجود دہشت گردی کے خلاف نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی جانی قربانیاں دی ہیں اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کے باوجود دہشت گردی کے خلاف نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی ہے
پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن میں بظاہر علاقے پر قبضہ اور اس کے بعد کی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ اگرچہ پاکستان کی ایک لاکھ سینتالیس ہزار فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہی ہے لیکن پاکستان کے پاس دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے واضح حکمتِ عملی نہیں ہے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ سرحد کے دونوں جانب شدت پسندوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔
رپورٹ میں افغانستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خودکش حملوں میں حالیہ اضافے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ رواں سال کی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔
حالیہ خودکش حملوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان نے اپی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے اور اب وہ آسان اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جیسے کہ عام شہری اور سرکاری دفاتر۔
وائٹ ہاؤس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ’طالبان کی حکمتِ عملی میں تبدیلی سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ طالبان دباؤ میں ہے اور اسی لیے وہ شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔