پاک بھارت تجارتی مذاکرات 27 اپریل سے ہونگے
پاکستان رواں سال کے اختتام سے قبل سرکریک کے تنازعہ پر حتمی معاہدے کا خواہش مند ہے جبکہ سیاچن پر پاکستان جلدبازی کرنا نہیں چاہتا ۔
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ جامع امن مذاکرات دوبارہ بحال ہونے کے بعد
اس عمل میں پیش رفت ہو رہی ہے اور اس سلسلے کا اگلا اجلاس 27 اور 28 اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں دو طرفہ تجارت کے اُمور زیر بحث آئیں گے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے صحافیوں کے گروپ سے رسمی گفتگو میں بتایا کہ دو روزہ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری تجارت ظفر محمود کریں گے۔ اُنھوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کی نظر میں مذاکرات کا یہ عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کی اس لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے سے سارک ممالک آزاد تجارتی منڈی قائم کرسکیں گے جو کہ بھارت اور پاکستان کی وجہ سے اب تک قابلِ عمل صورت اختیار نہیں کر سکاہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سرکریک کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بھی پاک بھارت مذاکرات کی تاریخوں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان بھارت کیساتھ جامع مذاکرات کیلئےجو حکمتِ عملی ترتیب دی ہے اُس میں ایسے معاملات جو دونوں ملکوں کیلئے یکساں اہمِیت کے حامل ہیں اُنھیں ایجنڈے پر ابتدائی مرحلے میں لایا جائے گا جبکہ وہ باہمی تنازعات جنکا حل پاکستان کے مفاد میں ہے اُنھیں بتدریج مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جائے گا،تاہم حکومتِ پاکستان رواں سال کے اختتام سے قبل سرکریک کے تنازعہ پر حتمی معاہدے کی خواہش مند ہے جبکہ سیاچن پر حتمی معاہدے میں پاکستان جلدبازی کرنا نہیں چاہتا ہے۔