کراچی:پاک بحریہ کی بس پرحملہ پانچ جابحق
دھماکے میں نیوی کی ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایک لیفٹیننٹ جابحق جبکہ نو لوگ زخمی ہوئے ہیں،گزشتہ 3دنوں میں نیوی بسوں پر تیسراحملہ
کراچی (نیوزڈیسک) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کی صبح پاکستانی بحریہ کی ایک بس پر بم حملے میں کم از کم پانچ افراد جابحق اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔یہ حملہ کارساز کے علاقے شاہراہ فیصل کے سنگم پر ہوا۔
پاکستانی بحریہ کے ایک ترجمان نے دھماکے میں ایک خاتون افسر سمیت چار ہلکاروں کے جابحق ہونے
کی تصدیق کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بس میں 11 اہلکار سوار تھے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کیمطابق دھماکے میں نیوی کی ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایک لیفٹیننٹ جابحق جبکہ نو لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ جابحق ہونے والا پانچواں شخص موٹر سائیکل پر سوار تھا جو قریب سے گزر رہا تھا۔ بم دھماکے میں سڑک پر موجود دیگر گاڑیوں ایک پٹرول پمپ کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈی آئی جی طاہر نوید کا کہنا ہے کہ تخریب کاروں نے نیوی کی بس کو نشانہ بنایا ہے یہ کوسٹر بس ہے جس میں بیس سے پچیس افراد کی گنجائش ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے کی نوعیت بھی دو روز قبل ہونے والے واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا جس میں ریموٹ کنٹرول یا موبائل فون کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔ پاکستانی بحریہ کے اہلکاروں پر کراچی میں گذشتہ تین دنوں کے دوران ہونے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔
اس سے قبل منگل کو چند منٹ کے فرق سے ڈیفنس اور بلدیہ ٹاؤن کے علاقوں میں پاکستانی بحریہ کی دو بسوں کو موٹر سائیکل اور کچرے کے ڈھیر میں نصب بموں سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے ایک خاتون ڈاکٹر سمیت چار اہلکار جابحق اور 56 زخمی ہو گئے تھے۔
دو روز قبل کراچی کے دو مختلف علاقوں میں ہونے بم دھماکوں کی ذمہ داری کے حوالے سے متضا د اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ ان دھماکوں کی بعد طالبان نے ان کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن بدھ کو ایک کالعدم بلوچ تنظیم نے یہ حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔