کیمرون سےجماعتِ اسلامی کے رہنما اور پارلیمنٹرین کی ملاقات
اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ نائن الیون کا قابلِ مذمت حملہ زیادہ بڑا جرم تھا یا اس کے ردعمل میں چھیڑی گئی دہشت گردی کے
خلاف جنگ
اسلام آباد (نیوزڈیسک) جماعتِ اسلامی کے رہنماء سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے بھی دیگر پارلیمینٹیرین کے ساتھ برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کی۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے حزبِ اختلاف کے اراکین کو بھی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جس سے حزبِ اختلاف کا مؤقف بھی ان کے سامنے رکھا گیا۔
پروفیسر خورشید نے برطانوی وزیراعظم سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائی جانے والی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیں۔ ان کے بقول دس سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے اور ایسی پالیسی جس کے تحت اس طویل عرصے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی ہو، اس کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ نائن الیون کا قابلِ مذمت حملہ زیادہ بڑا جرم تھا یا اس کے ردعمل میں چھیڑی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ جس کی وجہ سے آج دنیا انتہائی غیرمحفوظ اور دہشت زدہ بن چکی ہے۔
دوسری معاملہ انہوں نے لیبیا کے بارے میں اٹھایا۔ انہوں نے برطانوی وزیراعظم سے کہا کہ وہ لیبیا میں کرنل قذافی کے اندازِ حکومت کے بڑے نقادوں میں سے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ عرب اور مسلم دنیا کی اکثریت کو لیبیا میں امریکہ اور نیٹو کی جانب سے کارروائی پر تحفظات ہیں۔ ان کے بقول یہ امریکہ کا یہ اقدام انسانی امداد کی آڑ میں ایک ملک کی سلامتی کو پامال کرنا ہے جس کی اجازت بین الاقوامی قانون نہیں دیتا۔ تاہم ڈیوڈ کیمرون نے پروفیسر خورشید احمد کی بات سے اتفاق نہیں کیا مگر کہا کہ یورپی قیادت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ مسلم دنیا لیبیا میں خونریزی کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے۔