اس صفحے کو سابقہ حالت (ڈیفالٹ) میں واپس لائیں

ٹھیک ہے

کیمرون کا دورہ پاکستان تعلقات کے نئے دور کے آغازہوگا

ڈیوڈ کیمرون نےایک ارب ڈالرمالیت کے مالی منصوبے کا اعلان کیا جو 2015ء تک 40 لاکھ پاکستانی بچوں کو اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنائے گا۔

اسلام آباد (نیوزڈیسک) برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان ”نہ ٹوٹنے والی دوستی“ کے بندھن میں جوڑے ہوئے ہیں جسے انسداد دہشت گردی، تجارت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھا کر مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔

منگل کو پاکستان کے اپنے پہلے دورے پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد اُنھوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کی جس میں دو طرفہ اُمور، افغانستان اور پاک بھارت تعلقات زیر بحث آئے۔

بات چیت کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک خصوصی مالی منصوبے کا اعلان کیا جو 2015ء تک 40 لاکھ پاکستانی بچوں کو اسکولوں میں داخلے کو یقینی بنائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اس منصوبے کے تحت پاکستان میں نئے سکولوں کی تعمیر، 90 ہزار اساتذہ کی تربیت اور بچوں کے لیے 60 لاکھ نصابی کتب خریدی جائیں گی۔

وزیر اعظم گیلانی اور اُن کے برطانوی ہم منصب کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم  2015ء تک 4 ارب ڈالر سے زائد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اس وقت 2.43 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یورپ کی منڈیوں میں پاکستان کی مصنوعات کے لیے زیادہ سے زیادہ رسائی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے علاوہ عالمی تجارت کی تنظیم ڈبلیو ٹی او کو بھی آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ گزشتہ سال یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کے لیے ہنگامی تجارت کے تجویز کردہ پیکج کی منظوری دے۔

برطانوی وزیر اعظم نے بعد میں اسلام آباد کے کامسیٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”اب وقت آگیا ہے“ کہ بھارت اور پاکستان خطے میں امن کے لیے دوطرفہ تعلقات کو بہتر کریں۔

ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ عالمی کپ کے سیمی فائنل میچ کے موقع پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کو سراہا۔ وہ نظارہ جب وزیر اعظم گیلانی اور وزیر اعظم سنگھ گزشتہ ماہ عالمی کپ کے موقع پر اکٹھے بیٹھے تھے ایک پراُمید مستقبل کی علامت ہے ۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگوں کی تاریخ اور عدم اعتماد سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن وہ چاہیں گے کہ عارضی اقدامات کے ذریعے بھارت اور پاکستان تعلقات میں بہتری کی طرف پیش رفت کریں۔

وزیر اعظم بننے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ سال بھارت کے اپنے دورے کے موقع پر انسداد دہشت گردی کی پاکستان کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ اُن کے اس متنازع بیان پر پاکستانی قیادت کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

منگل کو پاکستانی ہم منصب کے ساتھ نیوز کانفرنس میں اس متنازع بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا کہ ”وقت آگیا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے۔

دونوں وزراء اعظم اس بات پر متفق تھے کہ برطانیہ میں رہائش پذیر 10 لاکھ پاکستانی دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

You must be شامل ہیں تبصرہ لکھنے کے لیے.


SEO Powered By SEOPressor