سعودی شہزادے شام کی حکومت کیخلاف سرگرم
سعد حریری نےسعودی شہزادے ترکی الفیصل اور بندر بن سلطان کیساتھ ملکر شام میں بدامنی کا منصوبہ بنا کر امریکہ کو دیا
بیروت (نیوزڈیسک) سعودی عرب،لبنان کی عوامی تنظیم حزب اللہ اورحکومت شام کےمخالفین کی مالی مدد کررہا ہے۔ لبنان کی حزب توحید کے سربراہ وئلم وہاب نے کہاہے کہ ان کے پاس ایسے ثبوت اورشواہد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہےکہ سامپا نامی کمپنی نے سعودی شہزادے ترکی بن عبدالعزیز کے دستخط سے حزب اللہ لبنان اورحکومت شام کےمخالفین کو رقومات دی ہیں۔
وئلم وہاب نے این بی سی ٹیلی ویژن کو انٹرویو کے دوران ایک چیک کی کاپی پیش کی جو گذشتہ برس جون کی تیسویں تاریخ کو کاٹا گيا تھا اور اس پر تین لاکھ ڈالر کی رقم لکھی ہوئي تھی۔ یہ چیک لبنان کی پارلمنٹ میں المتستقبل فریکشن کے رکن جمال الجراح کے نام جاری کیا گيا تھا جو شام اور حزب اللہ کے کٹر دشمنون میں شمار ہوتے ہیں۔ ادھر ایک دہشتگرد گروہ کے سرغنے انس الکنج نے شام کے ٹی وی پر اعتراف کرلیا ہےکہ انہوں نے شام میں مظاہرین پرگولیاں چلائي تھیں ۔ انس الکنج کے دہشتگرد گروہ نے شام میں بدامنی پھیلانے کےلئے لبنان کے المستقبل گروہ اوراس کے صدرسعد حریری کی براہ راست مدد لیتاہے۔ اس سے قبل وکی لیکس نے بعض ایسی دستاویز اپنی ویب سائٹ پر جاری کیں جنمیں انکشاف کیا گیا کہ لبنان کے دولت مند تاجراور سابق وزیراعظم سعد حریری نے سعودی شہزادے ترکی الفیصل اور بندر بن سلطان، شام میں بدامنی کا منصوبہ بنا کر امریکہ کو دیا اور اس منصوبے کیلئے 60 فیصد مالیات کا بندوبست سعد حریری اور سعودی شہزادوں فراہم کررہے ہیں جبکہ 40 فیصدمالیات امریکہ فراہم کررہا ہے اور یہ کہ سابق امریکی صدر بُش کے دور سے شام کی حکومت کیخلاف کئی ملین ڈالرز خرچ کئے جارہے ہیں۔