سندھ : رینجرزاختیارات میں مزید توسیع
امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ رینجرز کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے،توسیع انسداد دہشتگردی قانون کے تحت ہوئی
کراچی (نیوزڈیسک) سندھ حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت نیم فوجی ادارے رینجرز کو دیے گئے پولیس کے اختیارات میں ایک بار پھر تین ماہ کے لیے توسیع کردی ہے۔انسداد دہشت گردی قانون کے سیکشن پانچ کے
تحت یہ توسیع دی گئی ہے۔
اس اقدام پر تمام سیاسی حلقوں نے رینجرز کی کارکردگی کو سراہا ہے مگر ساتھ ہی امن و امان کی صورتحال پر قریباً تمام ہی حلقوں نے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ جمہوری دور میں فوجی اداروں کی مدد مانگنے کی بجائے شہری اداروں کو مضبوط بنایا جاتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ رینجرز کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے جو نوّے فیصد گرفتاریاں درست کرتی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں جیسی بھی جمہوریت تھی جب وزارت داخلہ ہمارے پاس تھی تو ہم نے کسی حد تک امن و امان قائم کررکھا تھا۔ آخری دو برس میں تو ہم نے وزیراعلیٰ سندھ اور صدر مملکت کو لکھ کر بھی دے دیا تھا کہ اب اگر وہ چاہیں تو رینجرز کو واپس بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے بھی اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کی اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ دو تین برس میں پولیس سیاسی بنیادوں پر میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں، تبادلے اور تقرریاں کی گئیں اور پولیس سیاسی مجبوریوں کا شکار ہے۔
سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ رینجرز کو یہاں رکھا جائے اور ان کی کارکردگی بھی مددگار ثابت ہوئی ہے، اس لیے ان کے اختیارات میں توسیع ضروری تھی۔