سیف ہاوس سےبھی لاعلم رہاCIAپاکستان
آئی ایس آئی نا صرف اُسامہ بن لادن بلکہ امریکی ادارے کی ابیٹ آباد میں سرگرمیوں سے لا علم کیسے رہی یہ نااہلی ہے یا کچھ اور
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق امریکی سی آئی آے نے ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے کمپاونڈ کے نزدیک کئی ماہ سے کرائے کے گھر میں سیف ہاؤس قائم کیا ہوا تھا۔ یہاں سے اسامہ کے گھر کی تصاویر بنائی گئیں اور انتہائی حساس آلات کے
ذریعے مکینوں کی گفتگو کا ریکارڈ مرتب ہوا۔ امریکی ایجنٹ انفراریڈ آلات کی مدد سے گھر میں خفیہ سرنگ کی موجودگی کا جائزہ بھی لیتے رہے۔ گھر کی نگرانی کے دوران انہیں وہاں بارہا طویل قامت شخص چلتا پھرتا نظر آیا لیکن وہ اسے شناخت نہیں کرسکے ۔ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اس کا نام 8220;پیسر” رکھا ہوا تھا۔ تمام تر نگرانی کے باوجود امریکی ایجنٹ کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کے بعد غلط کمرے میں جا گھسے۔اس کمرے سے معمولی مقدار میں اسلحہ ملا جس سے امریکیوں کو خدشہ پیدا ہوگیا کہ ہر کمرے میں اسلحہ ہوگا۔ کمپیوٹرز سے ملنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ اسامہ القاعدہ کی تمام سرگرمیوں میں براہ راست ملوث تھا۔وہ نہ صرف القاعدہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا تھا بلکہ حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہا تھا۔ اسامہ کی ایک نوٹ بک سے گیارہ ستمبر 2011 کو امریکا میں ریل سسٹم پر حملے کی منصوبہ بندی کا علم بھی ہوا۔ امریکی خفیہ کمانڈوز نے اُسامہ قتل آپریشن سے کئی ماہ پہلے ہی ایبٹ اۡٓباد میں خفیہ چوکی قائم کر رکھی تھی جبکہ اسامہ سے حاصل ہونے والے مواد کے مطابق القاعدہ کا سربراہ اب بھی دہشت گردی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔
اس اطلاع کے بعد یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ آئی ایس آئی نا صرف اُسامہ بن لادن بلکہ امریکی ادارے کی ابیٹ آباد میں سرگرمیوں سے لا علم کیسے رہی یہ نااہلی ہے یا کچھ اورجسکا رازکھلنا باقی ہے۔